اقوام متحدہ نے بھارت میں ویکسینیشن کی سست رفتار پر تشویش کا اظہار کیا

نئی دہلی: کوروناکی دوسری لہر میں بھارت کے طبی نظام کی پول کھل گئی ہے۔اقوام متحدہ (یو این) نے ملک میں کوروناورائرس کے تیزی سے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ نے ہندوستان میں کوویڈ ویکسینیشن کی سست رفتار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں کورونا ویکسین تک رسائی نا کافی ہے اور ویکسین کی بڑی مانگ پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ اس کی وجہ سے کورونا بحران سے بحالی کی رفتار متاثر ہوگی۔ اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ عالمی اقتصادی صورتحال اور امکانات میں کورونا کے حملے کا سامنا کرنے والے بھارت کی صورتحال پر روشنی ڈالی ہے۔اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ دوسری وحشیانہ لہر نے ہندوستان کے بڑے حصوں میں صحت عامہ کے نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔حکومت نے کئی ملکوں کوویکسین کی سپلائی کردی اب جب ملک کوضرورت ہے توکئی جگہ ویکسین کی کمی ہورہی ہے۔ اپنی رپورٹ میں اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ بھارت نے ویکسین کی اہلیت میں توسیع کی ہے اور ملک میں ویکسین کی فراہمی بڑھانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔ لیکن بھاری مانگ پوری کرنے کے لیے بھارت میں کورونا ویکسین تک رسائی ناہموار اور ناکافی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مرکزی مصنف حامد راشد نے کہا ہے کہ ہندوستان میں سست ویکسینیشن کا اثر اس وبائی بحران سے بحالی کی رفتار پر ہوگا۔ اس کی وجہ سے صحت صحیح طریقے سے نہیں ہوسکے گی۔ ہم کورونا سے پہلے عالمی معیشت کو اس سطح پرنہیں لے جاسکیں گے۔ جنوبی ایشیاء کے ممالک ویکسینیشن میں پیچھے ہیں۔ وہاں ویکسینیشن کی سست رفتار کی وجہ سے ، وہ ہاٹ اسپاٹ بن چکے ہیں۔دریں اثنا دہلی میں کورونا ویکسین کی بڑھتی ہوئی کمی کے درمیان ، دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ویکسین کی کمی کو دور کرنے کے لیے فوری طور پر بین الاقوامی مارکیٹ سے یہ ویکسین خریدے۔ ستیندر جین نے جمعرات کے روزکہاہے کہ ہم نے آج ڈاکٹر ہرش وردھن سے ملاقات کے دوران کہا تھا کہ اگر یہ ویکسین بین الاقوامی مارکیٹ سے بھی خریدنی ہے تو مرکزی حکومت کو سب کے لیے اسے خریدناچاہیے۔