اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت اولین ترجیح:ہندوستان

نئی دہلی:جمعرات کوہندوستان نے کہاہے کہ اس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) میں عالمی حقائق کی عکاسی کرتے ہوئے مستقل رکنیت کو اولین ترجیح دی ہے۔ وزارت خارجہ میں وزیر مملکت وی مرلی دھرن نے کہاہے کہ ہندوستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کے سلسلے میں جاری بحث میں سرگرم ہے اور ہم خیال ممالک کے ساتھ اس سلسلے میں کام کر رہا ہے۔مرلی دھرن راجیہ سبھا میں جواب دے رہے تھے۔ ان سے پوچھاگیا کہ کیا حکومت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل نشست حاصل کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کی ہیں؟ اس کے جواب میں مرکزی وزیرنے کہا کہ حکومت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت حاصل کرنے کے لیے ہندوستان نے اولین ترجیح دی ہے جوعصری عالمی حقائق کی عکاسی کرتی ہے۔انہوں نے کہاہے کہ اصلاحات پر مبنی ممالک کی حمایت سے سلامتی کونسل کو مستقل اورعارضی دونوں زمرے میں وسعت دینے کے مقصدسے ہندوستان اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے مابین تعاون کے لیے مستقل کوششیں کررہاہے۔اس وقت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پانچ مستقل اور 10 عارضی ممبرممالک ہیںجواقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی دوسال کی مدت کے لیے منتخب کرتی ہے۔ روس ، برطانیہ ، چین ، فرانس اور امریکہ فی الحال اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ممبرہیں اورکسی بھی قرارداد کی منظوری میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں۔مستقل ممبروں کی تعداد میں اضافہ کرنے کا دیرینہ مطالبہ ہے۔ بھارت ، برازیل ، جنوبی افریقہ ، جرمنی اور جاپان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کے اصل دعویدار ہیں۔