اقوامِ متحدہ:75ویں سالگرہ کی معنویت!-ڈاکٹر مشتاق احمد

رجسٹرار،ایل این متھلا یونیورسٹی،دربھنگہ(بہار)
دو عالمی جنگوں کے بعد انسانی معاشرے کو یہ خیال آیا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے اور انسانی فلاح وبہبود کے لیے امن وسکون کا ماحول ضروری ہے۔ کیوں کہ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں میں نہ صرف انسانی اجسام بم وبارود کی نذر ہوگئے تھے بلکہ الگ الگ گروپوں میں تقسیم ممالک کی معاشی اور اقتصادی حالت بھی بدتر ہوگئی تھی۔ جاپان کا ہیروشیما اور ناگا ساکی انسانی تاریخ کا سیاہ باب بن چکا تھا کہ نہ جانے کتنی ہنستی کھیلتی زندگیاں تباہ ہوگئی تھیں اورجغرافیائی حدود کی تصویر بھی بھیانک نظر آنے لگی تھی۔لہذا بین الاقوامی سطح پر یہ رائے عامہ بنی کہ کیوں نہ آنے والے دنوں میں دنیا کو اس طرح کی جنگوں کی تباہی سے نجات ملے اور اسی غوروفکر کانتیجہ اقوامِ متحدہ کی صورت میں نمو پذیر ہوا۔
دنیا کی سب سے بڑی پنچایت اقوامِ متحدہ اپنی 75ویں سالگرہ منانے جا رہا ہے۔ظاہر ہے کہ کسی بھی ادارے یا تنظیم کے لیے 75سالوں کا سفر ایک تاریخی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ اس تنظیم کی کارکردگی کا احتسابی جائزہ بھی فخریہ ہو۔کیوں کہ کسی تنظیم کا محض قیام میں آنا ہی انسانی معاشرے کے لیےمفید بخش نہیں ہوتا بلکہ اس کی کارکردگی خود اپنی حیثیت ومعنویت منوالیتی ہے۔اس میزان پر اگر اقوامِ متحدہ کے تشکیلی دور سے لے کر عصرِ حاضر تک کی کارکردگی کو سامنے رکھیں تو یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ اس ادارے کی حیثیت تاریخی تو ضرور ہے لیکن یہ عالمی پنچایت دنیا کے چند طاقتور ملکوں کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی رہی ہے کہ ویٹو کی بدولت اس کے ہر فیصلے کوبے معنی کرتی رہی ہے۔ واضح ہو کہ 25اپریل 1945ء سے 26 جون1945ء تک امریکہ کے سن فرانسسکو میں پچاس ملکوں کی ایک کانفرنس ہوئی تھی اور اسی کانفرنس میں ایک بین الاقوامی تنظیم کے قیام کا فیصلہ ہوا تھااور اس تنظیم کا نام”اقوامِ متحدہ“(United Nations) رکھا گیا تھا۔24 اکتوبر 1945ء کوباضابطہ اس کا آغاز ہوا اورنیو یارک شہر میں اس کا صدر دفتر قائم کیا گیا۔ اب تک ۳۹۱/ ممالک اس کی رکنیت حاصل کر چکے ہیں اور دنیا کی سب سے بڑی پنچایت کاحصہ بن چکے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر اس تنظیم کو یہ حیثیت حاصل ہے کہ وہ کسی بھی ملک کے متنازعہ معاملے میں دخل دے اور امن بحالی میں اپنا کردار ادا کرے۔لیکن سچائی یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کاغذی طورپر ایک بڑی پنچایت ضرور ہے لیکن عملی طورپر یہ تنظیم تماشائی بن کر رہ گئی ہے۔ اگر یہ تنظیم واقعی اپنے نشانے کو پورا کرنے میں بااختیار ہوتی تو فلسطین کا مسئلہ کب کا سلجھ گیا ہوتا۔ ساتھ ہی ساتھ دنیا کے کئی ممالک جس خلفشار کے شکار ہیں اس کی نوبت نہیں آتی۔اقوامِ متحدہ کی تمہید اور اس کے چارٹر کا مطالعہ کیجیے تو یہ احساس ہوتا ہے کہ واقعی یہ تنظیم امنِ عالم کے لیے تشکیل کی گئی ہے اور فلاحِ انسانیت کے لیے وجود میں آئی ہے۔ کیوں کہ اس کے چارٹر کی پہلی سطر یہی کہتی ہے کہ ”ہم اقوامِ متحدہ کے لوگوں نے ارادہ کیا ہے کہ آنے والی نسلوں کو جنگ کی لعنت سے بچائیں گے“۔لیکن ہوا کیا؟یہ دنیا کے سامنے ہے کہ آج بھی لاکھوں لوگ جنگ کی وجہ سے اذیت ناک زندگی جی رہے ہیں اور بموں کے شکار ہو کر اپنی زندگی سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔ قارئین جس وقت یہ تحریر پڑھ رہے ہوں گے اس وقت بھی دنیا کے کئی ممالک کے شہری بموں کے دھماکوں کے شکار بن رہے ہوں گے۔ چارٹر میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ یہ تنظیم انسانوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت کرے گی، انسانی اقدار کی قدر ومنزلت میں اضافہ کرے گی، مردوں اور عورتوں کے حقوق کا تحفظ کریں گے اور جب کبھی دنیا میں اضطرابی حالات پیدا ہوں گے تو اس کے خاتمہ کے لیےٹھوس اقدام اٹھائیں گے۔انسانی معاشرے میں رواداری اور بھائی چارہ کا ماحول سازگار کریں گے، تمام ممالک میں اقتصادی بحران کو دور کرنے کی کوشش کریں گے اور اجتماعی ترقی کا راستہ ہموار کریں گے۔قوموں کے درمیان دوستانہ تعلقات بحال کریں گے۔اس کے چارٹر میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ یہ تنظیم بین الاقوامی سطح پر اقتصادی، سماجی، ثقافتی اورمذہبی حقوق کی پاسداری کرے گی۔اس کے آرٹیکل 2میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ تمام رکن ممالک کو مساوی مرتبہ حاصل ہوگا۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ اب تک جن ممالک کو ویٹوحاصل ہے ان کے ذریعہ دیگر ممالک کا بھی استحصال ہوتا رہاہے۔ امریکہ، چین، روس، فرانس اور برطانیہ کو ویٹو حاصل ہے اور ان ممالک نے اکثر اس کا استعمال کرکے اس تنظیم کے بنیادی مقاصد کواثر انداز کیا ہے۔ اگر اس تنظیم کو آزادانہ اختیار حاصل ہوتا تو شاید دنیا میں جوانتشار کاماحول ہے اس کا خاتمہ ہوگیا ہوتا کیوں کہ کسی تنظیم کے ۵۷/ سالوں کا سفر کم نہیں ہوتا۔ مگر افسوس صد افسوس کہ ان پانچ ممالک نے اقوامِ متحدہ کی معنویت پر ہی سوال کھڑاکردیا ہے۔عراق وایران کی جنگ ہو کہ چیچینیا اور افریقی ممالک کی بد حالی، افغان کی صورتحال ہو کہ ترکی کی بد امنی، سیریا میں بم وبارود کی بارش ہو کہ لبنان کی جنگ۔بین الاقوامی سطح پر یہ سوال اٹھتا رہا ہے کہ اقوامِ متحدہ اگر چاہتا تو ان ممالک میں انسانی جانوں کی حفاظت کر سکتا تھا اورفلسطین کا مسئلہ بھی حل ہوگیا ہوتا۔ مگر ایسامحض اس لیے نہیں ہوا کہ اقوامِ متحدہ تماشائی بن کر رہ گیا۔ کہنے کو تو جہاں کہیں بھی جنگ شروع ہوتی ہے اقوامِ متحدہ کا وفد روانہ ہوتا ہے،مشاہدین کی رپورٹیں منگوائی جاتی ہیں، جنرل اسمبلی میں پیش بھی کیا جاتا ہے لیکن نتیجہ ڈھاک کے تین پات، کہ آخر میں ویٹوحاصل شدہ ممالک اپنی بات منوا لیتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کا اعلامیہ ہے کہ پوری دنیامیں مساواتی پیغام عام کیا جانا چاہئے۔ لیکن خود تنظیمی سطح پر مساواتی عمل صفر ہے کیوں کہ دنیامیں آبادی کے لحاظ سے کئی بڑے ممالک کوویٹو حاصل نہیں ہے اور چھوٹے ملکوں کو ویٹو پاور دیا گیا ہے۔ ہندوستان جیسا ملک بھی اس ویٹو سے محروم ہے۔ غرض کہ اقوامِ متحدہ عالمی برادری کے لیے سفید ہاتھی بن کر رہا گیا ہے۔البتہ ثقافتی سطح پر اس تنظیم کی کارکردگی قابلِ تعریف ہے کہ اس ادارے کی وجہ سے دنیاکے ایک خطے کی تہذیبی وراثت دوسرے خطے تک اپنی شناخت قائم کرنے میں کامیاب ہوئی ہے کہ اس تنظیم نے تہذیبی اورلسانی وراثت کے لین دین کے وسیلے کو فروغ بخشا ہے اور طبی شعبے میں بھی اس کی کارکردگی قابلِ تحسین ہے۔ لیکن اصل مقصد امن عالم کی بحالی میں ناکام رہی ہے بالخصوص چھوٹے چھوٹے ممالک کی امیدوں پر پانی پھرا ہے کہ اس کے حقوق کی حفاظت کرنے میں بھی اقوامِ متحدہ بے زبان ثابت ہوا ہے۔ اس وقت بھی امریکہ اور چین کے درمیان جس طرح کی سرد جنگ چل رہی ہے اس میں بھی اقوامِ متحدہ تماشائی بنا ہوا ہے اور دیگر کئی ممالک کے درمیان بھی سیاسی رسہّ کشی جاری ہے اور اس کی وجہ سے انسانی جانیں تلف ہو رہی ہیں۔ دنیا کی یہ سب سے بڑی پنچایت پریس ریلیز جاری کرکے اپنے غم کا اظہار تو کرتی رہتی ہے لیکن عملی اقدام اٹھانے کے وقت وہ پھر اپنے آقا ممالک کی طرف دیکھنے لگتی ہے۔نتیجہ ہے کہ یہ پنچایت اپنے بنیادی اغراض ومقاصد کو پورا کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ایسانہیں ہے کہ اقوامِ متحدہ کی کارکردگی پر سوال نہیں اٹھتے رہے ہیں لیکن سچائی یہ ہے کہ تمام صدائیں صدا بہ صحرا ثابت ہوئی ہیں کہ ویٹو کی وجہ سے اقوامِ متحدہ کے دیگر ممبران کی حیثیت صفر بن کر رہ گئی ہے۔ اجلاسِ عام میں ایسے تمام ممالک جو اس کی رکنیت رکھتے ہیں وہ شامل تو ضرور ہوتے ہیں اور اپنے دل کی بھڑاس بھی نکالتے ہیں لیکن اب تک کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ ان کے مسائل کے حل تلاش کرنے میں یہ تنظیم ناکام رہی ہے۔اس لئے یہ ایک ایساموقع ہے کہ 75 ویں سالگرہ پر اقوامِ متحدہ اپنا احتسابی جائزہ بھی لے اور دنیا کے سامنے اپنے عملی اقدام کی فہرست پیش کرے کہ اس نے اب تک کیا کیا ہے۔
بہر کیف! اقوامِ متحدہ عالمی سطح پر اپنی ایک شناخت رکھتا ہے اوراس کی ایک تاریخی حیثیت بھی ہے۔ اس کا 75 سالہ جشن منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر بھی اقوامِ متحدہ اپنا احتساب کرے اور اپنے بنیادی مقاصد کو پورا کرنے کی کوشش کرے تاکہ فلاحِ انسانیت کا راستہ بھی ہموار ہو سکے اور عالمی سطح پر امن کی فضا سازگار ہو سکے۔ آج پوری دنیا میں انتشار کی فضا دکھائی دے رہی ہے اور اقوامِ متحدہ کی حیثیت تماشائی ہو کر رہ گئی ہے۔اگر واقعی اقوامِ متحدہ اپنے تشکیلی مقاصد کو پورا کرنا چاہتا ہے تو ویٹو والے ممالک کے پنجوں سے خود کو آزاد کرے اور دنیا کے ان ممالک کی زبان بنے جنہیں ان ویٹو پاور ملکوں بے زبان بنا رکھا ہے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)