اقوام ترقی کیسے کرتی ہیں؟ ـ شہلا کلیم 

 

جدید چین کے بانی ماوزے تنگ سے سوال کیا گیا کہ قومیں کیسے ترقی کرتی ہیں؟ ماوزے نے جواب دیا کہ قومیں بحرانوں ، مصیبتوں آفتوں اور پریشانیوں میں ترقی کرتی ہیں! سوال کیا گیا: کیسے؟ ماوزے نے جواب دیا قوموں کو عام حالات میں اپنی صلاحیتوں کا ادراک اس طرح نہیں ہو پاتا جتنا مصائب و پریشانیوں میں ہوتا ہےـ مصائب اور پریشانیاں قوموں کو ان کی خامیوں اور کوتاہیوں کا ادراک بخشتی ہیں اور قومیں اپنی کوتاہیوں پر قابو پا کر ترقی کی شاہراہ پر چل پڑتی ہیں اور جو قومیں بحرانوں سے نہیں سیکھتیں اور اپنی غلطی کو دہرائے چلی جاتی ہیں وہ ترقی نہیں کر سکتیں!

بلاشبہ ماوزے کی یہ منطق مبنی بر حق ہے اور ان دلائل سے بھلا کس کو انکار ہو سکتا ہے؟ لیکن اگر ہندوستانی مسلمان ان دلائل کی روشنی میں اپنے حالات کا جائزہ لینے بیٹھے تو بے اختیار پکار اٹھے:ہرگز نہیں! قوموں کی ترقی کا راز فقط ماوزے کے دلائل میں پوشیدہ نہیں ہے ـ کچھ اور بھی ہے جو فکر و نگاہ سے پوشیدہ ہے یا پھر جانتے بوجھتے عقل و نظر اسے تسلیم کرنے سے کتراتی ہےـ اگر ماوزے کی منطق میں ہی مکمل طور پر اقوام کی ترقی کا راز پوشیدہ ہوتا تو پھر بھلا ہندوستانی مسلم قوم سے زیادہ مصائب زدہ کون ہے؟ انہی مصائب، پریشانیوں اور بحرانوں سے جوجھتے جوجھتے تقریبا مکمل صدی ہونے کو ہے ـ گئی صدی میں ہندوستانی مسلم قوم پر کیا کچھ نہیں گزرا ؟ زندگی حیوانات سے بد تر کر دی گئی ـ ان کے کھانے پینے پر پابندیاں عائد کر دی گئیں، ان کی تہذیبیں مٹا دی گئیں، ان کی زبانوں کو بے دخل کر دیا گیا، ان سے حق آزادیِ رائے چھین لیا گیا، ان کے جوانوں کو تعلیم حاصل کرنے کے جرم میں گمنام قتل کر دیا گیا، حتی کہ ہندوتوا نعرے کے انکار پر سر عام ماب لنچنگ کر دی گئی، ان کی مسجدیں مسمار کی گئیں ، ان کی شریعت اور مذہب میں مکمل طور پر مداخلت کی گئی ، ان کی چھاتی کو سانحۂ گجرات سے داغ داغ کیا گیا، ان کی عید گاہوں میں عین حالتِ نماز و سجود خنزیر دوڑا دیے گئے،ان کے لوگوں کو دلی فساد کے نام پر زندہ آگ کے حوالے کر دیا گیا،مگر مجال ہے جو کبھی ہندوستانی مسلمان کو اپنی صلاحیتوں ،کوتاہیوں اور خامیوں کا ادراک ہوا ہوـ

پھر عقل سوال کرتی ہے کہ آخر اقوام کی پستی کی وجہ کیا ہے اور ترقی کا راز ہے کیا؟

دونوں سوالوں کے جواب بہت پہلے دیے جا چکے بس ضرورت انہیں تلاش کرنے کی ہےـ اول الذکر سوال کا جواب اقبال یوں دیتے ہیں:

گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی

ثُریّا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا

اور مؤخر الذکر سوال کے جواب کی تلاش میں تقریبا دو ڈھائی صدی پیچھے چلیے اور سر سید کی وہ فکری تڑپ سے بھرپور للکار سنیے جب انگلستان کے دورے کے بعد وہ خستہ حال قوم سے خطاب کرتے ہوئے لعنت ملامت پر بھی اتر آتے ہیں اور اقوام کی ترقی کا راز صرف اور صرف تعلیم و تعلم کو قرار دیتے ہیں ـ لیکن سر سید بھی محض بھولا ہوا سبق یاد کرانے کی کوشش میں سرگرداں تھے کیونکہ تعلیم تو اس قوم کی میراث ہےـ ذرا اور پیچھے چلیے اور غار حرا میں گونجنے والے پہلے لفظ پر کان دھریے جب احکم الحاکمین کی جانب سےحکم ہوا ” اقرأ” اور تمہیں علم کا وارث بنا دیا گیاـ

جس قوم کی پہلی وحی "اقرأ” ہو ، جس قوم کا پہلا حکم تعلیم ہو، جس قوم کی پہلی وراثت علم ہو جب وہ اپنی میراث سے منھ پھیر لے تو اس قوم کا مقدر زمیں بوس ہو جانا فطری بات ہےـ لفظ اقرأکے وارثین اسی میدان میں دنیا کی تمام تر اقوام سے پیچھے ہیں ـ ہندوستانی مسلمان کے حالات تو بد سے بد تر ہیں ـ اپنی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں علم ریاضی، علم طب، علم فلکیات، علم طبیعیات، علم حیاتیات، علم ہئیت اور تمام تر سائنسی علوم سے دنیا کو روشناس کرانے والی قوم آج تعلیم کے ہر شعبے میں صفر ہےـ ہندوستان میں مسلمان کا تعمیر کردہ یا قائم کردہ کوئی ایک شعبہ ایسا نہیں جسے وہ مکمل طور پر اپنا کہہ سکےـ نہ تعلیمی انسٹیٹیوٹ اپنے ہیں، نہ سائنسی میدان میں کوئی کارکردگی ہے، نہ ٹیکنالوجی سے دلچسپی ہے، نہ طبی میدان پہ قبضہ ہے، نہ ذرائع ابلاغ کے شعبے میں کوئی حصہ ہے؛ جو کہ آج کے دور میں سب سے اہم اور بڑی طاقت ہےـ اور اس پر حد یہ کہ ہر گھڑی اپنے استحصال کا رونا رویا جاتا ہےـ بس ہماری پستی اور آر ایس ایس کی ترقی کا راز یہی ہے کہ انہوں نے رونا رونے کے سوا باقی سب کچھ کیا اور ہم سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر گلے شکوے کرنے میں مگن رہےـ کبھی حاکموں سے گلے، کبھی اسلاف سے شکوے، کبھی پرکھوں کی ناعاقبت اندیشی کا رونا ، کبھی ماضی کی غلطیوں پہ عظیم شخصیتوں پر لعنت ملامت ـ غرض اپنا محاسبہ کرنے اور خود ہاتھ پاؤں مارنے کے سوا ہم نے سب کچھ کیا اور آر ایس ایس نے سب کچھ اس کے بلکل برعکس کیا ـ ہم واویلا کرتے رہے اور وہ خاموشی سے کام کرتے رہےـ نتیجتا صدیوں پرانی قوم پر تقریبا ایک صدی قبل جنم لینے والی تنظیم بازی مار لے گئی ـ

جناح اور آزاد جو کر سکتے تھے وہ کر گئے بلاشبہ ہر ایک سے فاش غلطیاں ہوئیں جو بشری تقاضہ ہے لیکن یہ عہد اور حالات ماضی کا رونا رونے کی اجازت نہیں دیتے بلکہ ہم حال میں کیا کر رہے ہیں اور مستقبل میں کیا کرنا ہے اس پر توجہ دینے کا وقت ہے ـ جو کہ خود اپنے آپ میں ایک بڑا مسئلہ ہےـ اور خاصے مضحکہ خیز ہیں وہ لوگ جن کے پاس اس مسئلے کا واحد حل محض جنگ ہے اور جنہوں نے مکمل مذہب میں سے فقط جنگ و جہاد والا خانہ چن لیا ہےـ یہ سمجھنا اور بھی مضحکہ خیز ہے کہ جہاد فقط شمشیر و سناں سے کی جانے والی جنگ کا نام ہےـ وقت کے ساتھ ساتھ زمانہ اور زمانے کے ساتھ تبدیل ہو جانا اقوام کی ترقی کیلیے از حد ضروری ہےـ جس دور میں جو ذرائع میسر ہوں انہی کے ذریعے ترقی کرنا اصل دانشمندی ہےـ اور حیرت کی انتہا تو تب ہوتی ہے جب یہ بات بھی ہمیں اغیار سے سیکھنے کو ملتی ہےـ مثلا : انتہا پسندوں نے لو جہاد کا نعرہ بلند کیا جوابا ہم ان کی حماقت پر ہنس دیے، شدت پسندوں نے کورونا جہاد کی آڑ میں ایک خاص طبقے اور جماعت کو ٹارگیٹ کیا ہم ان کی تعصب پرستی پر مسکرا دیے، وہ ہر بار جہاد کا ڈی این اے ٹیسٹ پیش کرتے رہے اور ہم ہر بار ان کی بے وقوفی اور جہالت پر قہقہہ لگاتے رہے لیکن جب یو پی ایس سی جہاد اور تعلیمی جہاد کا نعرہ بلند ہوا تو ہم ٹھٹھک گئے اور بے ساختہ پکار اٹھے خدا کی قسم یہ جھوٹ کہتا ہے لیکن واللہ یہ حق کہتا ہےـ جھوٹ اس معنی میں کہ یہی تو وہ واحد جہاد ہے جس سے آج کا ہندوستانی مسلمان سرے سے نابلد ہے، اور یہ بے وقوف اسی کا الزام ان کے سر منڈھتا ہےـ اور حق اس معنی میں کہ کاش بس اسی ایک جہاد سے آج کا مسلمان واقف ہو جائے کیونکہ یہی حق ہے!!

یہ تو طے شدہ حقیقت ہے کہ اقوام کی ترقی کا راز فقط تعلیم میں پوشیدہ ہے لیکن تعلیمی میدان میں داخل ہو جانے کے بعد اس پر مکمل طور پر صرف مرد کی اجارہ داری اور عورت کی بے دخلی ایک فاش غلطی ہے، جس کا ازالہ کسی صورت ممکن نہیں ـ کیونکہ ترقی یافتہ قومیں تعلیم یافتہ ماؤں کی گود میں پرورش پاتی ہیں، البتہ یہ ایک الگ بحث ہے کہ عورت کی تعلیم کس طرز پر ہو، لیکن یہ حقیقت مسلم ہے کہ قوم کا عظیم سرمایہ تعلیم یافتہ عورت کی کوکھ سے جنم لیتا ہےـ اقبال نے کہا تھا:

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

اقبال "فرد” کی جگہ "مرد” بھی کہہ سکتے تھے اور ایسا کرنے میں شعری اعتبار سے عروض و قوافی پہ چنداں فرق نہیں پڑتا لیکن معنوی اعتبار سے اس پیغام کی ترسیل ناممکن تھی جو وہ کہنا چاہتے تھےــ افراد اور فرد کہہ کر اقبال نے مرد اور عورت دونوں کو ملت کے مقدر کا ستارہ قرار دیا!!

خلاصۂ تحریر یہ کہ رسم و رواج، ذات پات، رنگ و نسل، حسب و نسب، جنس و اصناف ہر ایک فرق کو بالائے طاق رکھ کر خود کو اس میدان میں جھونک دیجیے ـ خود کو غیر سمجھ کر احساس کمتری کا شکار ہونے اور کسی غزوے یا دوسری ہجرت کے انتظار میں بیٹھنے کی بجائے حق جتانا شروع کر دیجیے، حاشیے پر رہنے کی بجائے سطور میں داخل ہو جائیے، شاخوں پہ اکتفا کرنے کی بجائے جڑیں پکڑیے پھر دیکھیے ترقی آپ کے قدم چومےگی اور ایک بار پھر سے آپ کی حکمرانی ہوگی ـ ان شاء اللہ!

بصورت دیگر ماوزے کا وہی قول صادق آتا ہے:”جو قومیں بحرانوں سے نہیں سیکھتیں اور اپنی غلطی کو دہرائے چلی جاتی ہیں وہ ترقی نہیں کر سکتیں!”

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*