اقلیتی کمیشن میں بیشتر عہدے خالی کیوں ہیں؟: ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت سے مانگاجواب

نئی دہلی:دہلی ہائی کورٹ نے پیر کو مرکزی حکومت سے یہ بتانے کو کہا کہ گذشتہ سال اکتوبر سے قومی اقلیتی کمیشن کے سات میں سے چھ عہدے کیوں خالی ہیں۔ جسٹس پرتبھا ایم سنگھ نے اس درخواست پر اقلیتی امور کی وزارت کو 10 دن میں اسٹیٹس رپورٹ درج کرنے کی ہدایت دی تھی تاکہ خالی عہدوں کو پر کیا جائے۔ عدالت نے کہا کہ وزارت وضاحت کرے کہ کمیشن میں سات میں سے 6 عہدے کیوں خالی ہیں۔ عدالت نے کہا کہ اتنی آسامیاں خالی نہیں ہوسکتی ہیں۔ درخواست گزار ابھے رتن بودھ نے کہا ہے کہ اکتوبر 2020 سے کمیشن میں صرف ڈپٹی چیئرمین بچے ہیں۔ ایڈووکیٹ ونئے کمار کے توسط سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ آسامیاں اپریل 2020 سے خالی ہونا شروع ہوئیں اور اکتوبر 2020 سے صرف ایک عہدے پر تقرر کیا گیا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ صورتحال کو وزارت کے علم میں لانے کے باوجود حکومت نے کچھ نہیں کیا۔