اپنی قیادت کا نعرہ کتنا کار گر ہو سکتا ہے؟- مولانا ابوالکلام قاسمی شمسی

ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جس میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً 18/ فیصد ہے،اس میں بھی زیادہ تعداد پسماندہ لوگوں کی ہے،ازادی کے بعد مسلم علما اور دانشوروں نے اس کو محسوس کیا کہ اس ملک میں مسلمانوں کے لئے بہتر ہے کہ سیکولر برادران وطن کے ساتھ اتحاد بناکر رہیں ، اس کے لیے انہوں نے اس کی کوشش کہ اس ملک میں جمہوری نظام قائم ہو اور دستور کی بالا دستی ہو ،تاکہ مسلم سماج ہر طرح محفوظ رہ سکے، الگ سے انہوں نے کوئی اپنی قیادت قائم نہیں کی اور نہ اپنی سیاسی پارٹی کا کوئی نظریہ پیش کیا،اس وقت کے قائدین میں سے حضرت شیخ مدنی،مولانا ابوالکلام آزاد اور عبد القیوم انصاری قابل ذکر ہیں،تحریک آزادی میں اور آزادی کے بعد مسلمانوں کو ہندوستان میں روکنے میں جمعیت علمائے ہند اور آل انڈیا مومن کانفرنس کا اہم رول تھا،اس لئے یہ دونوں تنظیمیں آج بھی انہی خطوط پر کام کررہی ہیں،ان کی اس سیاسی پالیسی کو ملک کے لوگوں نے قبول کیا۔
تقریباً 70/80 کی دہائیوں میں کچھ علما اور دانشوروں میں اپنی قیادت کا رجحان پیدا ہوا تو ان لوگوں نے مسلم مجلس مشاورت قائم کی،لیکن ان کی کوشش ناکام ہوگئی اور مسلم مجلس مشاورت سیاسی میدان میں ناکام ہوگئی ،آج سماجی میدان میں کام کررہی ہے، پھر سید شہاب الدین صاحب کا زمانہ آیا ،انہوں نے بابری مسجد کا معاملہ اٹھایا تو ایک سیاسی پارٹی انصاف کے نام سے قائم کیا،اس کا بھی نظریہ اپنی قیادت کا تھا، چونکہ مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے،صرف مسلمانوں کے سہارے سیاسی پارٹی کامیابی حاصل نہیں کر سکتی،اس لئے انصاف پارٹی بھی ناکام ہوگئی۔ اس طرح تجربے سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ الگ سے مسلمانوں کے نام پر سیاسی پارٹی کے ذریعے مسلم قیادت کو ابھارنا مشکل ہے۔ مودی سرکار سے پہلے لوگ کہتے تھے کہ مسلم ووٹ کے بغیر کوئی سیاسی پارٹی حکومت نہیں بناسکتی ، لیکن مودی جی نے نفرت کا ماحول پیدا کرکے مسلم ووٹ کو بےحیثیت بنادیا،اس لئے موجودہ وقت و حالات میں اس ملک میں ہندو / مسلم سیکولر اتحاد کو مضبوط کرنے میں ہی مسلم سماج کا فائدہ ہے۔ کچھ لوگوں کو چھوڑ کر ملک کے علما اور دانش وروں کا اسی پر اتفاق ہے۔ اپنی قیادت اور سیادت کے نعرے میں پائیداری نہیں ہے۔ ابھی الیکشن کا وقت ہے،اپنی قیادت کا نعرہ بعض حلقوں سے اٹھایا گیا ہے،اگر اس پر عمل ہوگیا تو یقین جانیے کہ اپنی قیادت تو قائم نہیں ہوگی ،اس کے برعکس بہار پر بھی پورے طور پر بی جے پی کا تسلط ہوجائے گا اور اس کا حال بھی ان صوبوں کی طرح ہوجائے گا،جہاں بے جے پی کی حکومت ہے،پھر لوگ امن و سکون کے لئے ترس جائیں گے۔ اللہ حفاظت فرمائے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*