اپنے والد کی شکست کا بدلہ لینےکے لیے نہیں،بلکہ عوام کی فلاح و بہبود کےلیے لڑوں گا:لو سنہا

نئی دہلی:بہار میں بانکی پور اسمبلی سیٹ سے کانگریس کے ٹکٹ پر حصہ لینے والے سابق مرکزی وزیر شتروگھن سنہا کے بیٹے لو سنہا نے اتوار کے روز کہا کہ انہوں نے بی جے پی کے اس مضبوط گڑھ میں بھگوا پارٹی کو للکارا اور اپنی صلاحیت ثابت کرکے سیاسی اننگ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لو نے یہ بھی کہا کہ وہ 2019 کے عام انتخابات میں اپنے والد کی شکست کا بدلہ لینے کے لئے پٹنہ صاحب لوک سبھا حلقہ کے تحت بانکی پور اسمبلی سیٹ سے انتخاب نہیں لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ انتخاب پٹنہ کے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے لڑ رہے ہیں۔ اپنے والد کی طرح اداکار سے سیاستداں بنے لو نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ بی جے پی 2014 سے بدل گئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اب بھگوا پارٹی میں زیادہ بحث نہیں ہورہی ہے اور اب صرف احکامات جاری کئے جاتے ہیں۔ یہ پوچھے جانے پر کہ انہوں نے بہار میں راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) جیسی پارٹی کی موجودگی کے باوجود اپنی انتخابی اننگز شروع کرنے کے لئے کانگریس کا انتخاب کیوں کیا؟ لو (37) نے کہاکہ نہ صرف میں نے کانگریس کو منتخب کیا ہے بلکہ کانگریس نے بھی مجھے منتخب کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ کانگریس نے دیکھا کہ میں نے جو کام کیا، یہاں تک کہ وہ کام بھی جب میں نے اپنے والد کے بی جے پی میں رہنے کے دوران کیا تھا۔ میں نے اپنے والد کے ساتھ 2009 سے یہاں کام کیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ پارٹی (کانگریس) نے پچھلے انتخابات میں میرے ذریعہ کئے گئے کاموں کو ضرور دیکھا ہوگا اور اسی وجہ سے انہوں نے مجھے یہ ٹکٹ دیا۔بی جے پی کو اس مضبوط گڑھ میں حصہ لینے کے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے لو نے کہاکہ کسی کو اس وجہ سے لڑنے سے نہیں ڈرنا چاہئے، میں اپنی صلاحیت کو ثابت کرنے اور اپنی صلاحیت کو دنیا کو ظاہر کرنے کے لئے لڑنے میں یقین رکھتا ہوں۔ جیت یا ہار کہیں سے بھی میرے ہاتھ میں نہیں ہے، عوام فیصلہ کرے گی اور ہمیں ان کے فیصلے کو قبول کرنا پڑے گا۔انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے امیدوار کو یہ نشست اپنے والد سے ملی ہے، جو بانکی پور کے ایم ایل اے تھے۔ اپنے والد کی وجہ سے ٹکٹ ملنے کی قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے لو نے کہا کہ اگر یہ خاندانی پن ہوتا تو وہ اسمبلی انتخابات نہیں لوک سبھا انتخابات لڑنے کا انتخاب کرتے۔ قابل ذکر ہے کہ لو نے جے پی دتہ کی فلم ’پلٹن‘ میں کام کیا تھا۔ بانکی پور پٹنہ صاحب لوک سبھا حلقہ کے ماتحت آتا ہے اور اسے بی جے پی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ شتروگھن سنہا 2009 اور 2014 میں بی جے پی کے ٹکٹ پر پارلیمانی نشست پر منتخب ہوئے تھے۔ تاہم 2019 کے انتخابات میں شتروگھن (74) نے کانگریس کے ٹکٹ پر انتخاب لڑا تھا اور اس میں انہیں بی جے پی کے روی شنکر پرساد سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔