اپنے ہی ملک میں مہاجر بن گئے مزدور:کنہیاکمار

نئی دہلی:حکومت نے ملک بھر میں لاک ڈاؤن لاگوکیاجس کاسب سے زیادہ اثریومیہ مزدوروں پر نظر آ رہاہے۔کام نہیں ہونے کی وجہ سے شہروں میں ان کا زندگی گزارنا مشکل ہوتاجا رہاہے۔ ایسے میں بڑی تعداد میں مزدور اپنے گاؤں کی طرف واپس لوٹ رہے ہیں۔مزدوروں کی انہی حالات کو لے کر جے این یوکے سابق طلبہ یونین لیڈر کنہیا کمار نے تشویش ظاہر کی ہے۔ اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کنہیاکمار نے لکھاہے کہ تارکین وطن محنت کشوں کو شہر میں بھی بیرونی کہا جاتا ہے اور گاؤں سے نقل مکانی کی وجہ سے وہ وہاں کے لیے بھی پردیسی بن جاتے ہیں۔ اپنے ملک میں ہی مہاجر بن گئے ۔ان مزدوروں کا درد یہ ہے کہ لاک ڈاؤن نے شہر کو ان کے لیے رہنے کے قابل نہیں چھوڑا اور وبا کا خدشہ ان کو گاؤں میں گھسنے نہیں دے رہاہے۔ کنہیاکماراپنے ٹویٹرکے ذریعے پہلے بھی فکرظاہرکر چکے ہیں۔ اس سے پہلے انہوں نے حادثوں کے شکار ہوتے تارکین وطن محنت کشوں کو لے کرحکومت اور معاشرے پر سوال اٹھایاتھا۔ انہوں نے لکھاتھاکہ سماج کے ایک بڑے طبقے کو بری طرح متاثرکیاہے۔ خاص طور پر غریبوں-مزدوروں کے لیے یہ جینے مرنے کا سوال بن چکاہے۔ اپنے گھرلوٹنے کی جدوجہد میں مسلسل مزدوروں کی جان جا رہی ہے۔کنہیاکمار نے لکھاہے کہ اقتدار اور معاشرے کو اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے ورنہ انسانیت کی ہماری ساری دلیلیں کھوکھلی ثابت ہوں گی۔