اپنا غصہ ٹھنڈا کرکے دیکھتے ہیں ـ ضیافاروقی

اپنا غصہ ٹھنڈا کرکے دیکھتے ہیں
نقد و نظر کو رستا کرکے دیکھتے ہیں

یوں بھی انا کو رسوا کرکے دیکھتے ہیں
قد کو اپنے چھوٹا کرکے دیکھتے ہیں

ممکن ہے وہ کھل کر سامنےآجائے
پتھر کو آئینہ کرکے دیکھتے ہیں

کس جذبہ سے کٹ جاتے ہیں کوہ گراں
عشق میں خود کو اندھا کرکے دیکھتے ہیں

تیرے نام کا سکہ شاید چل جائے
اس دنیا کا سودا کرکے دیکھتے ہیں

خواہش دنیا پھر کتنی رہ جاتی ہے
اپنے آپ کو بوڑھا کرکے دیکھتے ہیں

وہ بھی ضیا اب ہم سے کم کم ملتا ہے
ہم بھی اس سے پردہ کرکے دیکھتے ہیں

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*