انوکھی پیش رفت:بنگلہ دیش میں پہلی بار ’خواجہ سراؤں‘کےلیےمخصوص تعلیم گاہ کا قیام

ڈھاکہ:جنوبی ایشیا کے آبادی کے لحاظ سے دوسرے بڑے مسلم ملک بنگلہ دیش میں پہلی بار تیسری جنس کے افراد کے لیے اسلامی تعلیمات سمیت دیگر علوم کی تعلیم کے لیے اسکول کھول دیا گیا۔بنگلہ دیشی حکومتی اندازوں کے مطابق وہاں خواجہ سرا افراد کی آبادی 50 ہزار تک ہے، تاہم ایسے افراد کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے مطابق وہاں مخنث افراد کی آبادی 15 لاکھ تک ہے۔ بنگلہ دیش میں بھی خطے کے دیگر ممالک کی طرح خواجہ سرا افراد کو سماجی اہمیت حاصل نہیں، تاہم وہاں 2013 سے ایسے افراد کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہے۔بنگلہ دیش میں بھی زیادہ تر خواجہ سرا افراد کم عمری میں ہی سماجی مسائل اور نفرتوں کی وجہ سے اپنے اہل خانہ سے الگ ہوکر اپنے جیسے دیگر افراد کے ساتھ رہنے پر مجبور ہیں اور ایسے افراد کے لیے کسی طرح کا خصوصی تعلیمی منصوبہ بھی نہیں۔لیکن اب وہاں خواجہ سرا افراد کے لیے پہلی دینی مدرسے کو کھول دیا گیا، جس میں انہیں اسلامی تعلیم سمیت دیگر انگریزی، ریاضی، معاشرتی علوم، سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم بھی دی جائے گی۔خبر رساں ادارے ایجنسی پریس فرانس (اے ایف پی) کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں 6 نومبر سے پہلے خواجہ سرا مدرسے کو تعلیم کے لیے کھول دیا گیا۔خواجہ سرا افراد کے لیے کھولے گئے مدرسے کو ’اسلامک تھرڈ جینڈر اسکول‘ کا نام دیا گیا ہے، جس میں ابتدائی طور پر 150 بالغ مخنث افراد کو داخلہ دیا گیا ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*