انتونیو گوتریس دوبارہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل منتخب

نیویارک :اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے دوسری مرتبہ عالمی ادارے کے سربراہ کے طور پر حلف اٹھا لیا ہے۔ جمعہ کو حلف برداری کے موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ موجودہ بحران کو حالات بہتر بنانے کے لیے استعمال کریں۔فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انتونیو گوتریس نے حلف برداری کے موقع پر عالمی مسائل کے حل کے لیے مؤثر اور مزید عالمی تعاون‘ کا ذکر بھی کیا۔ 2017 سے اپنی ذمہ داری پر موجود گوتریس نے آزادانہ طور پر کام کرنے کا وعدہ کیا۔ حلف برداری کے موقع پر پرتگال کے صدر مارسیلو ریبیلو ڈی سوزا بھی موجود تھے۔ وبا کی وجہ سے یہ گزشتہ سال بھر میں اقوام متحدہ کی عمارت میں داخل ہونے والے پہلے سربراہ مملکت ہیں۔ٹوئٹر پر جاری کردہ پیغام میں انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ سیکرٹری جنرل کے طور پر دوسری مرتبہ اعتماد کیا جانا میرے لیے اعزاز کی بات ہے اور میں اس پر شکرگزار ہوں۔اقوام متحدہ کے آفیشل ہینڈل نے دوسری مرتبہ منتخب ہونے والے انتونیو گوترس کا بیان ٹوئٹر پر شیئر کیا جس میں وہ تاریخ کے نازک مرحلے پر خود پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں کا ذکر کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے کام کو مقدس ذمہ داری سے تعبیر کرتے ہیں۔ حلف برداری کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے جو بہت سے سبق حاصل کیے ان میں سب سے اہم یہ ہے کہ ہم اکیلے کچھ نہیں کر سکتے۔ اہم سبق یہ ہے کہ ہم اتحاد اور یکجہتی کو دوبارہ قائم کریں۔193 ارکان پر مشتمل جنرل اسمبلی نے نئے سربراہ کے انتخاب کے لیے رائے شماری کے بجائے ایک قراردار منظور کی ہے۔ 72 برس کے انتونیو گوترس اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل منتخب ہونے سے قبل 2005 سے 2015 تک عالمی ادارے میں مہاجرین کے ہائی کمشنر کے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔