یورپ: کرونا پابندیوں کیخلاف لاکھوں لوگ سڑکوں پر اتر گئے،خوف سے آزادی کا مطالبہ

لندن:یورپی یونین کے ملکوں میں اومیکرون کے کیسز میں مسلسل اضافے کے درمیان ماہرین نے بالخصوص ویکسین نہ لینے والوں کو خطرات سے متنبہ کیا ہے۔ دوسری طرف کورونا پابندیوں کے خلاف یورپ کے مختلف شہروں میں مظاہرے ہوئے۔کووڈ وائر س کی وبا کے مد نظر حکومتوں کی طرف سے عائد کی گئی سخت پابندیوں نیز کووڈ ویکسین اور بوسٹر شاٹ کے لیے عوام کی حوصلہ افزائی کے خاطر نئے ضابطوں کے درمیان یورپی یونین کے ملکوں میں ویک اینڈ پر مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔ اتوار کے روز بلجیم اور چیک جمہوریہ میں ہزاروں افراد نے کورونا وائرس کی وجہ سے عائد کی جانے والی پابندیوں کے خلاف احتجاج کیا۔ ہفتے کے روز بھی جرمنی کے مختلف شہروں اور ویانا میں اسی طرح کے مظاہرے ہوئے۔کورونا کا نیا ویرینٹ یورپی یونین میں مسلسل پھیل رہا ہے۔ سائنس دانوں اورطبی ماہرین نے انفیکشن میں تیزی سے اضافے کی وارننگ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بالخصوص جن افراد نے ویکسین نہیں لیے ہیں ان کے متاثر ہونے کا خدشہ زیادہ ہے اور اس کی وجہ سے ہسپتالوں پر بوجھ بڑھ سکتا ہے۔اتوار کے روز بلجیم کے دارالحکومت برسلز میں تقریباً پانچ ہزار مظاہرین سڑکوں پر اترآئے۔ مظاہرین ویکسین ڈکٹیٹرشپ کیخلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے ریستورانوں، بار اور دیگر ثقافتی تقریبات میں شرکت کے لیے کووڈ پاس کو لازمی قرار دینے کے حکومت کے فیصلے کے خلاف ناراضگی ظاہر کی۔ احتجاجی مارچ سے قبل پولیس نے گیارہ افراد کو گرفتار کرلیا جبکہ مظاہرے کے اختتام پر مزید 30 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔بلجیم میں گذشتہ ہفتے کے مقابلے 30 دسمبر سے 5 جنوری کے درمیان نئے کیسز میں 96 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس مدت کے دوران 28 فیصد سے زیادہ متاثرین کو ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا۔پراگ میں ہزاروں افراد نے ایک مخصوص عمر گروپ اور پیشہ ورافراد کے لیے کووڈ ویکسینیشن کو لازمی قرار دیے جانے کی تجویز کے خلاف مظاہرہ کیا۔ مظاہرین میں سے بیشتر نے چیک جمہوریہ کا قومی پرچم اٹھارکھا تھا جب کہ کچھ دیگر ’’آزادی، آزادی‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔چیک حکومت 60 برس سے زیادہ عمر کے افراد کے علاوہ طبی عملہ، میڈیکل اسٹوڈنٹس، پولیس افسران اور فائر بریگیڈ عملہ کے لیے کووڈ ویکسین لینا لازمی قرار دینے پر غور کر رہی ہے۔ گوکہ لازمی ویکسی نیشن کا فیصلہ دسمبر کے اوائل میں اس وقت کے وزیر اعظم آندریز بابس نے کیا تھا تاہم اب چیک جمہوریہ میں وزیر اعظم پیٹر فیلا کی قیادت میں پانچ جماعتی اتحاد کی حکومت ہے۔ اور نئی حکومت 60 برس سے زیادہ عمر کے افراد کے لیے لازمی ویکسی نیشن کی فیصلے کو واپس لینے پر غور کررہی ہے تاہم اس نے بعض پیشے سے وابستہ افراد کے لیے لازمی ویکسی نیشن کو مسترد نہیں کیا ہے۔جرمنی میں ہفتے کے روز کئی شہروں میں ہزاروں افراد نے کورونا وائرس کے انسداد کے لیے حکومتی پالیسیوں کے خلاف مظاہرے کیے۔ پولیس کے مطابق سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ شمالی شہر ہیمبرگ میں ہوا، جہاں تیرہ ہزار سے زائد افراد نے مارچ کیا۔ اس مارچ کا نعرہ تھا، ’’بہت ہو چکا، ہمارے بچوں سے دور رہو‘‘۔ حکام کے مطابق ڈسلڈورف شہر میں بھی ہزاروں افراد نے مظاہرہ کیا۔ اس کے علاوہ فرینکفرٹ میں بھی ہزاروں شہری سڑکوں پر نکلے، جو کورونا وائرس کی وبا کے حوالے سے سخت حکومتی پابندیوں کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔مشرقی شہر ڈریسڈن اور مغربی شہر منڈین میں بھی مظاہرے ہوئے۔ان مظاہروں کے منتظمین کی طرف سے بھی شرکا سے کہا گیا تھا کہ وہ سماجی فاصلوں کے ضوابط کا خیال رکھیں اور ماسک پہنیں، تاہم کئی مظاہرین اس ہدایت پر عمل نہ کرتے نظر آئے۔دارالحکومت ویانا میں کورونا وائرس کے حوالے سے حکومت کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کے خلاف سنیچر کے روز کئی مظاہرے ہوئے۔ حکومت کی طرف سے کووڈ ویکسین کو لازمی قرار دینے کے منصوبے کیخلاف مظاہروں میں 40000 ہزار سے زائد مظاہرین نے حصہ لیا۔چانسلر کارل نیہیمر، جو جمعے کے روز کووڈ پازیٹیو پائے گئے تھے، نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ لوگ کووڈ ضابطوں پر مکمل عمل کریں۔ یہ یکم فروری سے نافذ ہونے والے ہیں۔آسٹریا کوبھی کووڈ کے نئے ویرینٹ اومیکرون کا سامنا ہے۔ گوکہ حالیہ لاک ڈاون کی وجہ سے نئے انفیکشن کی تعداد نسبتاً کم ہوگئی تھی تاہم پابندیوں کو اٹھائے جانے کے بعد سے نئے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔