اینٹی سی اے اے موومنٹ: مقصدیت فوت نہ ہونے پائے!

نایاب حسن
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف جاری ملک گیر احتجاجات گزشتہ دودنوں کے دوران مختلف مقامات پرتشددکی شکل اختیارکرگئے، جس کی وجہ سے لکھنؤ، میرٹھ، احمدآباد،منگلور، سنبھل اور بلندشہر وغیرہ سے اب تک کم سے کم چھ اموات کی خبریں آرہی ہیں ـ آج جمعہ کے بعدمشرقی یوپی کے بعض علاقوں میں بھی پرتشدداحتجاج کی خبریں ہیں ـ دلی گیٹ کے علاقے میں بھی توڑپھوڑاورآگ زنی ہوئی ہےـ یہ چیزان احتجاجات کے حق میں قطعی مفید نہیں ہے اور اس سے بی جے پی یقیناسیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گی ـ یہ بھی قابلِ غوربات ہے کہ جہاں جہاں بھی احتجاجات نے تشددکی شکل اختیارکی، وہ تمام علاقے بی جے پی کی ریاستی حکومتوں کے زیرِ کنٹرول آتے ہیں اوردہلی پولیس تومرکزکے زیرِکنٹرول ہے ہی ـ ایک خبرآج ہی "ٹیلی گراف "میں شائع ہوئی ہے کہ مرشدآبادکے ایک گاؤں میں مقامی پولیس نے چھ ایسے نوجوانوں کوگرفتارکیا، جوسب ہندوتھے، مگرانھوں نے لنگی، کرتااورٹوپی پہن رکھی تھی اوراسٹیشن پرکھڑی ٹرائل انجن پرسنگ باری کررہے تھےـ اس رپورٹ میں یہ بھی کہاگیاہے کہ ان چھ میں سے ایک شخص مقامی بی جے پی کاسرگرم رکن ہے اوراس گینگ میں ان چھ کے علاوہ سات اورلوگ تھے، جوموقعے سے فرارہونے میں کامیاب ہوگئے ـ گزشتہ پندرہ تاریخ کوجامعہ ملیہ اسلامیہ کے علاقے میں احتجاج کے دوران جوبس کونذرِآتش کیے جانے کامعاملہ سامنے آیاتھا، بعد میں جب اس کی ویڈیوزسامنے آئیں، تویوں معلوم ہواکہ خود پولیس اہل کاریاان کے ساتھ موجودکوئی بی جے پی/آرایس ایس کاکارکن بس میں پٹرول چھڑک رہاہے ـ یعنی بس اس وقت جلائی گئی جب مظاہرین اورپولیس کی مڈبھیڑختم ہوچکی تھی،موقعے پرکوئی مظاہرہ کرنے والاشخص موجودنہیں تھا، صرف پولیس والے تھےـ لکھنؤکی انٹیگرل یونیورسٹی میں احتجاج کے دوران بھی ایسے مناظرسامنے آئے ہیں کہ پولیس اوربی جے پی کانیتاتشددکے عمل میں ملوث تھےـ دودن قبل سیلم پور، جعفرآبادمیں بھی مظاہرین اورپولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اورخودپولیس والے دکانوں اورگاڑیوں پرلاٹھیاں برساتے نظرآئےـ
ان واقعات کی روشنی میں یہ بات صاف ہے کہ سی اے اے کے خلاف احتجاجات کے دوران جوبعض مقامات سے تشدد، پتھربازی وغیرہ کی وارداتوں کی خبریں آرہی ہیں، ان میں یاتوخودپولیس ملوث ہے یامقامی بی جے پی کے کارکنان ایساکررہے ہیں ـ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ جن مظاہروں میں بھی تشددبھڑکاہے، تومظاہرین کی طرف سے بھی سنگ زنی وغیرہ کی گئی ہےـ لکھنؤمیں توسیکڑوں لوگ گرفتاربھی ہوچکے ہیں اوریوپی کے وزیراعلی نے کل ہی یہ بیان بھی دے دیاہے کہ جولوگ بھی اس تشددمیں ملوث پائے جائیں گے، ان سے بدلہ لیاجائےگا اوران کی پراپرٹی نیلام کرکے پبلک پراپرٹی کوہونے والے نقصانات کی بھرپائی کی جائے گی ـ
حقیقت یہ ہے کہ سی اے اے اوراین آرسی کے خلاف احتجاج نیشنل وانٹرنیشنل سطح پرایک تحریک کی شکل اختیارکرچکاہے اس لیے سرکاربوکھلاچکی ہے، اس نے یہ سمجھاتھاکہ جامعہ واے ایم یو جیسے مسلم شناخت والے اداروں پرپولیس کے ذریعے حملےکرواکے ان احتجاجات کوکچل دے گی، مگراس کی تدبیرالٹی پڑگئی اورجامعہ واے ایم یوسے نکلنے والی آواز اب پورے ملک اورملک کے باہرتک پھیل چکی ہےـ ایسے میں اب بی جے پی کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ وہ اپنی اصل شکل میں کھل کرسامنے آئے، مودی نے جھارکھنڈمیں کپڑوں سے فسادیوں کی شناخت کی جوبات کہی تھی، اس کی ایک پرائم منسٹرتوکیا، کسی بھی صحیح الدماغ انسان سے توقع نہیں کی جاسکتی، مگرانھیں پتاہے کہ انھیں ووٹ ایسی ہی باتوں سے ملتاہے،سووہ ایسی باتوں سے بازنہیں آنے والے، جامعہ سانحے پروزیرخزانہ نرملاسیتارمن کی زبان بھی ایسی ہی تھی ـ مگرمعاملہ اب ان کے ہاتھوں سے پوری طرح نکل چکاہے، اب مساوات، سیکولرزم اورہندوستانیت کی لڑائی نے ایک طوفان بدوش تحریک کی شکل اختیارکرلی ہے، سواب ان کی آخری کوشش یہ ہے کہ کسی طرح ان احتجاجات کو تشددکی آگ میں جھونک کران پرقدغن لگایاجائے، برادرانِ وطن کے ذہنوں میں یہ تاثرڈالاجائے کہ مسلمان احتجاج کے دوران توڑپھوڑ، مارپیٹ اور تشددکررہے ہیں، اگران کے ذہنوں میں یہ تاثرجم جائے گا، تووہ بہ تدریج ان احتجاجات سے دورہوجائیں گے اورملک کامسلمان الگ تھلگ پڑجائے گاـ ممتابنرجی نے کل احتجاجی ریلی کے دوران یہی بات کہی ہے کہ بی جے پی ایک خاص طبقے پرنشانہ سادھنے کے لیے اپنے کارکنوں کوٹوپیاں پہناکران سے توڑپھوڑکروارہی ہےـ
ان حالات کوسامنے رکھ کر ملک بھرکے مظاہرین کوایک بات توہرحال میں ذہن نشیں رکھنی ہوگی کہ وہ احتجاج کے دوران کسی بھی حال میں وائلینٹ نہ ہوں، ایسی تحریکیں تہذیب وشایستگی، یگانگت واتحاداوراعلی درجے کی امن پسندی کاتقاضاکرتی ہیں، مظاہرین میں زیادہ ترنوجوان ہیں، جن کے خون میں ابال اورجوش میں اچھال جلدی آجاتاہے، مگرہمیں یادرکھناہوگاکہ ہماری یہ تحریک فوری اورہنگامی نہیں ہے، اس کی پیدایش گرچہ ہنگامی حالات میں ہوئی ہے، مگراس کے اثرات بہت دیرپاہوں گے، ابتدامیں امیت شاہ "لوہالاٹھ "بنے ہوئے تھے، مگربتدریج برف پگھل رہی ہے اور اب ہوم منسٹری کی جانب سے این آرسی پروضاحتیں آناشروع ہوگئی ہیں، سوہمیں صبرواستقامت، ساتھ ہی سوجھ بوجھ کے ساتھ اس تحریک کوآگے بڑھاناہوگاـ
انیس دسمبرکودہلی کے جنترمنترپرپولیس کوپھول پیش کیے جانے کے جومناظردیکھنے میں آئے، انھوں نے کروڑوں عوام کادل جیت لیااوراس سے یہ پیغام گیاہے کہ جولوگ سی اے اے /این آرسی کے خلاف احتجاج کے لیے سڑکوں اورمیدانوں میں نکلے ہیں، وہ اس ملک کے نہایت ذمے دار اورہندوستانیت کی روح کوسمجھنے والے شہری ہیں اوروہ اس روح کوکسی قیمت پرمجروح نہیں ہونے دیں گےـ ایک تصویرآئی آئی ایم بنگلورسے آئی کہ جب پولیس نے آس پاس کے علاقے میں دفعہ144نافذکردیا، تووہاں کے طلبہ وطلبات نے اپنے جوتے چپل کیمپس کے باہررکھ دیے اورخودکیپمس کے اندرجمع ہوکراحتجاج کرتے رہےـ
الغرض این آرسی اورسی اے اے نے پورے ملک کے شہریوں کونئے سرے سے بیدارکردیاہے، بے شماردانشوروں، سیاسی تجزیہ کاروں، سماجی مبصرین، قلم کار، ادباوشعرااورفن کاروں کویہ لگتاتھاکہ بی جے پی گزشتہ چھ سال کےدوران اس ملک کے شہریوں کے دل دماغ میں فرقہ واریت کازہرگھولنے میں کامیاب ہوچکی ہے، مگرآج آپ ذرانظردوڑائیے، تومشرق سے مغرب اورشمال سے جنوب، ہرکہیں لوگ خصوصاً جوان اورنوجوان طبقہ اس حکومت کے خلاف کھڑاہے اورپوری قوت سے کھڑاہے، ان لوگوں نے طے کرلیاہے کہ وہ ہرحال میں گاندھی کے ہندوستان کوبچائیں گےـ یہ تحریک انھیں گاندھی کی یونیورسٹی (جامعہ ملیہ اسلامیہ)سے ملی ہے، جسے گاندھی اپنی اولادسمجھتے تھے، جس کے نام میں "اسلامیہ "کاجزرکھنے کے لیے انھوں نے کٹرہندووں سے لڑائیاں مول لی تھیں، جس کوزندہ رکھنے کے لیے گاندھی نے سیٹھ جمناداس سے لے کر بھوپال کے نواب تک کے سامنے دستِ سوال درازکیے تھےـ پس یہ یقین رکھیے کہ یہ تحریک ضرورکامیاب ہوگی، البتہ اس کی کامیابی کے لیے گاندھیائی طریق پرچلناضروری ہےـ جہاں کہیں بھی احتجاج ہورہاہے، اسے منظم کیاجائے، مقامی ذمےدارحضرات اس کی رہنمائی کریں، کسی بھی غیرسماجی عنصریاپولیس کویہ موقع ہی نہ ملنے پائے کہ وہ ہمیں تشددکی راہ پرگامزن کرسکےـ دائیں بائیں، آگے پیچھے کڑی نظررکھیں اورایسے پولیس والے یافسادی شخص کوفوراایکسپوژکریں، جوہمارے کازکونقصان پہنچاکرحکومت کوفائدہ پہنچانا اورہماری تحریک کی مقصدیت کوزک پہنچاناچاہتاہےـ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*