انمول نعمت اور خوشگوار یاد

(روضۂ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے قریب "شمائلِ محمدیہ” پڑھنے کی سعادت)
محمد رضی الرحمن قاسمی، ینبع، مدینہ طیبہ

شمائل نبوی پر لکھی جانے والی کتاب کا مفہوم:
شمائل محمدیہ (جمع و ترتیب: امام محمد بن عیسی ترمذی رحمہ اللہ) اُن کتابوں میں ایک مقبول ترین کتاب ہے، جن میں سید الاولین و الآخرین محمد عربی صلی اللہ علیہ و سلم کی با وجاہت و خوبصورت شکل و صورت، چلنے پھرنے، اٹھنے بیٹھنے، کھانے پینے، سونے جاگنے، لباس و سواری، گھریلو اور سماجی زندگی، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے عمومی اخلاق اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت میں آنے والی اور زندگی میں برتے جانے والی چیزوں سے متعلق احادیث و آثار کو جمع کیا گیا ہے؛ تاکہ قیامت تک آنے والے امت کے افراد کو اپنے نبی (صلی اللہ علیہ و سلم ) کی تعلیمات کے ساتھ ساتھ ان کی پاکیزہ شخصیت سے بھی آگہی رہے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات بابرکات ایک بہترین آئیڈیل کے طور پر ان کے سامنے رہے۔ امام سفیان بن عیینہ رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی مبارک ذات وہ پیمانہ ہے، جس سے کھرے کھوٹے کی تمیز کی جائے گی، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق، سیرت اور طریقے سے جو چیزیں میل کھائیں وہ حق ہیں، اور جو میل نہ کھائیں باطل ہیں۔ (شرح المناوی علی الشمائل: 2/ 173)۔
شمائل ترمذی کی شرحیں اور تلخیص:
کتاب شمائل محمدیہ (جمع و ترتیب: امام محمد بن عیسی ترمذی رحمہ اللہ) کی متعدد علماء نے مختلف جہتوں سے (شرح و تلخیص، ترجمہ وغیرہ کے ذریعہ) خدمت کی ہے، جن میں کچھ غیر مطبوعہ ہیں اور جن کا ذکرمختلف کتابوں میں ملتا ہے۔
مطبوعہ خدمات میں امام سیوطیؒ کی "زھر الخمائل علی الشمائل” ہے، جو شمائل محمدیہ کی تلخیص ہے، اس کے علاوہ ملا علی قاریؒ نے "جمع الوسائل فی شرح الشمائل” کے نام سے، علامہ ابن حجر ؒ نے "اشرف الوسائل الی فہم الشمائل” کے نام سے، علامہ مناوی ؒ نے ” شرح الشمائل” کے نام سے، قاسم جسًوسؒ نے "الفوائد الجلیلۃ البہیۃ علی الشمائل” کے نام سے شرحیں لکھی ہیں، علامہ باجوری ؒ جو اوپر مذکور علماء میں سب سے بعد کے ہیں، انہوں نے بھی "المواہب اللدنیۃ علی الشمائل المحمدیۃ” کے نام سے شرح لکھی ہے اور انہوں نے "شمائل محمدیہ” پر پہلے ہوئے تمام کاموں کا نچوڑ اپنی شرح میں پیش کر دیا ہے۔
اردو میں مولانا اسلام قاسمی صاحب نے شمائل محمدیہ کے ترجمہ اور تشریح کی خدمت انجام دی ہے اور حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا رحمۃ اللہ علیہ کی "خصائل نبوی” اردو میں اس کی مشہور و معروف، مفید اور متداول شرح ہے۔
شمائل ترمذی پڑھنے سے متعلق ایک دیرینہ آرزو:
2007 ء میں جب میں دار العلوم دیوبند میں دورۂ حدیث شریف کا طالب علم تھا، تو میں نے درس میں نصابی کتاب کے طور پر "شمائل محمدیہ” کو پڑھا تھا؛ لیکن جس طرح اس عظیم الشان کتاب کو پڑھنا چاہئے، مختلف وجوہات سے اس طرح میں اسے نہیں پڑھ سکا تھا، پھر جب دورۂ حدیث شریف کی تکمیل کے بعد مخدومی حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی دامت برکاتہم کی خدمت میں افتاء اور تخصص فی الفقہ کے لئے اور ان کی تربیت میں رہنے کے لئے المعہد العالی الاسلامی گیا اور وہاں ان کے سیرت پر مقالات کے مجموعہ "پیام سیرت” کی پروف ریڈنگ کرنے کا اتفاق ہوا، تو شوق نے انگڑائی لی اور خیال ہوا کہ "شمائل محمدیہ” کو سمجھ کر حرف بہ حرف پڑھنا چاہئے، تب سے بار بار یہ خیال آتا رہا؛ لیکن کبھی چند ابواب پڑھ لیتا، کبھی چند صفحات پڑھ لیتا، پھر معاملہ یوں ہی ادھورا رہ جاتا تھا۔
2015 ء میں جب مدینہ منورہ زون کے ایک شہر ینبع میں تدریسی خدمات سے وابستہ ہوا، تو پھر دل میں یہ خیال انگڑائی لینے لگا کہ کیا ہی بہتر ہوتا کہ مسجد نبوی شریف میں روضۂ اطہر سے قریب "شمائل محمدیہ” کو حرف بہ حرف اور ظاہری مفہوم کو سمجھ کر پڑھنے کی سعادت ہو جاتی۔
2018ء کی بات ہے، اسلامک یونیورسٹی مدینہ منورہ میں منعقد کتاب میلہ میں اپنی ضرورت کی بعض کتابوں کی خریدی اور نئی کتابوں اور علم و تحقیق کی دنیا کی نئی کاوشوں سے واقفیت کے لئے حاضری ہوئی، ایک بک اسٹال پر "شمائل محمدیہ مع مواہب لدنیہ” کا نہایت ہی نفیس نسخہ دکھائی دیا، جو مشہور محدث شیخ علامہ محمد عوامہ زید مجدہ کے اہتمام اور نگرانی میں” دار الیسر” سے طبع شدہ تھا، فوراً ہی اس نسخہ کو خرید لیا اور اللہ سے دعاء کی کہ روضۂ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے قریب بیٹھ کر پڑھنے کی سعادت نصیب فرمائیے۔ جو ایک مدت سے تشنۂ تکمیل، ارادہ ہے۔
2018 ء میں چھ ماہ سے زیادہ بعض تجارتی مشغولیت کی وجہ سے مدینہ طیبہ میں رہنے کا اتفاق ہوا، اور پورے عرصے میں بفضل الہی مغرب و عشاء کی نماز تقریباً روزانہ ہی مسجد نبوی شریف میں پڑھنے کی سعادت نصیب ہوتی رہی؛ لیکن "لکل اجل کتاب” کے اصول کے مطابق اس نیک ارادہ کو پورا نہیں کر سکا۔ 2019 ء کے وسط میں پھر جب ینبع ایک امریکن نظام و نصاب والے تعلیمی ادارہ میں واپسی ہوگئی، تو شرمندگی اور محرومی کا احساس دل میں مستقل رہنے لگا کہ مدینہ طیبہ کے طویل دوران قیام میں دنیا کا سارا کام چلتا رہا، اللہ کی توفیق سے لکھنے پڑھنے کا بھی کچھ نہ کچھ کام ہوتا رہا؛ لیکن اس مبارک ارادہ کے تکمیل (مسجد نبوی شریف میں روضۂ اطہر سے قریب "شمائل محمدیہ” کو حرف بہ حرف اور ظاہری مفہوم کو سمجھ کر پڑھنے) کی توفیق نہ مل سکی۔
دیرینہ آرزو کی تکمیل:
بالآخر اللہ عزوجل کی رحمت ہوئی اور قبولیت کی گھڑی آگئی، 17 جمادی الاول 1441ھ مطابق 12 جنوری 2020ء کو اللہ کے فضل سے سوا دو گھنٹے کی مسافت طے کر کے مدینہ طیبہ صرف اور صرف اسی مقصد سے حاضری ہوئی کہ روضۂ اطہر پر حاضر خدمت ہو کر سلام محبت پیش کریں گے، پھر روضۂ پاک سے قریب ترین ممکنہ جگہ پر جہاں سکون سے بیٹھ کر "شمائل محمدیہ” پڑھ سکتے ہوں، پڑھیں گے۔
مغرب سے پہلے مسجد نبوی شریف پہنچ گیا، نماز کی ادائیگی کے بعد روضۂ اطہر پر حاضری دی، پھر تلاوت وغیرہ میں لگا رہا، یہاں تک کہ عشاء کی اذان ہوگئی، عزیزی حافظ خورشید اجمل قاسمی صاحب بھی عشاء کی اذان سے پہلے میرے پاس پہنچ گئے، یہ مدینہ طیبہ میں مقیم ہیں اور مدینہ طیبہ کے میرے ہر سفر میں خلوص کے ساتھ سہولت بہم پہنچاتے رہتے ہیں، ان کو جب میرے ارادہ کا پتا چلا، تو وہ بھی آگئے کہ اس شرف کو حاصل کر لیں۔
عشاء کی نماز ادا کر کے ہم لوگ روضۂ اطہر سے ممکنہ حد تک قریب، ایک ایسی جگہ پر بیٹھ گئے، جہاں سے انتظامیہ کے افراد ہمیں ہٹائیں نہیں، پھر میں نے ایک ایک حدیث پڑھنی شروع کی، اور مولانا خورشید اجمل سننے لگے، جب ہم میں سے کسی کو کسی لفظ کا یا کسی جملہ کا مفہوم نہیں سمجھ میں آتا، تو ٹھہرتے "مواہب لدنیہ” میں دی ہوئی تشریح کو پڑھتے، سمجھتے، پھر آگے بڑھتے، اس طرح الحمدللہ رات کے بارہ بج کر پندرہ منٹ پر روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب بیٹھ کر شمائل محمدیہ پڑھنے کی دیرینہ آرزو تکمیل کو پہنچی۔ اور اس طرح اس کتاب میں موجود "415 ” احادیث مبارکہ کو ایک نشست میں بیٹھ کر پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔ فالحمد والشكر لله الذي بنعمته تتم الصالحات.
میرے پاس موجود نسخہ:
میرے سامنے موجود”شمائل محمدیہ” کا نسخہ 415 احادیث مبارکہ پر مشتمل ہے اور مواہب لدنیہ کے ساتھ اس کی ضخامت 669 صفحات کی ہے، مشہور محدث شیخ علامہ محمد عوامہ زید مجدہ کے اہتمام اور نگرانی میں دار الیسر للنشر مدینہ منورہ سے 1436 ھ مطابق 2015 ء کا طبع شدہ ہے۔ کمپوز شدہ اور نہایت ہی نفیس طباعت والا ہے۔
کتاب مکمل پڑھنے کے بعد جب ہم نے ایک دوسرے کو دیکھا تو اللہ عزوجل کے اس بڑے فضل پر دونوں کی آنکھیں چھلکی ہوئی تھیں، میں نے کہا کہ عزیزم آئیے اس مبارک موقع پر اللہ عزوجل سے دعائیں کر لیتے ہیں۔
شکر و سپاس:
جی بھر کر اپنے رب کا شکر ادا کیا ، پھر مانگا اور خوب مانگا، اپنی بے بضاعتی کو سامنے رکھ کر نہیں؛ بلکہ اس کے کرم اور رحمتوں کی بیکراں وسعتوں کا خیال کر کے مانگا۔ آہ! قلب میں جو اس وقت بشاشت تھی، اور ذہن و دماغ میں جو سکون تھا، اسے الفاظ میں کیسے بیان کروں! بے پناہ خوشی سے دل معمور تھا، اور کیوں کر نہ ہو کہ سالہا سال سے کئے جانے والا ارادہ پورا ہوا اور کس خوبصورتی سے پورا ہوا۔ فالحمد لله اولا و آخرا. والصلاة والسلام على سيدنا ونبينا محمد معلم البشرية و آله وصحبه أجمعين.

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*