انجمن ترقی اردو (ہند) کی جانب سے اردو کے مرحوم ادبا کے لیے اظہار تعزیت

نئی دہلی: ہندستان میں وبا کی موجودہ صورتِ حال نے جو قہر برپا کیا، اسے الفاظ میں بیان ہی نہیں کیا جا سکتا۔ کرونا وائرس کی دوسری لہر نے پورے ملک میں کروڑوں لوگوں کو متاثر کیا اور لاکھوں لوگ اس دارِفانی سے کوچ کر گئے۔ وہ تمام لوگ جو اس مہلک بیماری کا شکار ہوئے اور جنھوں نے اپنی جان جانِ جاں آفریں کے سپرد کر دی ان میں جوان، بوڑھے، بچے، مرد، عورت سبھی تھے۔انجمن ترقی اردو (ہند)سبھی کے لیے سوگوار ہے ۔ اس وبا نے امیر، غریب، کمزور، تندرست و لاچار اورصحت مند سبھی کو اپنی زد میں لیا۔ جو لوگ اس وبا سے متاثر ہو کر صحت مند ہوگئے ان کو دیکھ کر مسرت ہوتی ہے، لیکن دوسری طرف جو لوگ ہم سے اس بیماری کے باعث جدا ہو گئے ان کے لیے دل خون کے آنسو روتا ہے۔
اردو کے اہل قلم کا اس وبا میں بڑی تعداد میں لقمۂ اجل بن جانا اس زبان اور اس کے ادب کے لیے بھی بڑا سانحہ ہے ۔ یقیناً اردو معاشرہ ان لوگوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گا جنھوں نے اردو کے ادبی ذخیرے کو حتی الامکان وسیع کیا۔ ان کی تخلیقات اور نگارشات کا مسلسل تذکرہ ہوتا رہے گا۔اس بات کی کوشش حالات کے معمول پر آنے پر ہر اردو داں کو کرنی چاہیے جس سے ان مرحومین کے علمی اور ادبی افکار کو جلا ملے۔
ہم نے اس وبا میں کیسی کیسی نابغہ روز گار شخصیات کو کھویا ہے اس خیال ہی سے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔کرونا کی دوسری لہر سے قبل محترم شمس الرحمن فاروقی اور پروفیسر ظفر احمد صدیقی صاحبان ہم سے جدا ہوئے۔ ابھی ہم ان کے غم کو بھلا بھی نہ پائے تھے کہ نہایت فعال فکشن نگار اور صحافی مشرف عالم ذوقی کے انتقال کی خبر آگئی۔ اس کے دوسرے ہی روز ان کی اہلیہ محترمہ تبسم فاطمہ جو نہ صرف ایک اچھی نظم نگار تھیں بلکہ نثری نظم کے میدان میں اپنے لب و لہجے سے اپنا انفراد تسلیم کرا چکی تھیں ، اس دارِفانی سے کوچ کر گئیں۔ ان دونوں سے کچھ قبل بمبئ کے مشہور خانوادے ماہنامہ شاعر کے مدیر محترم افتخار امام صدیقی کےانتقال کی خبر بھی آئی تھی، اور اس کے چند ہی روز بعد پروفیسر مولی بخش اسیر اور غالب انسٹی ٹیوٹ کے جواں سال ڈائرکٹر اور ہم سب کے عزیز محترم ڈاکٹر رضا حیدر بھی جدا ہوگئے۔ اس دل گرفت حادثے میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب ہم سب کے محبوب و محترم جن سے دنیا بھر کی علمی و ادبی محفلیں پر رونق تھیں ،پروفیسر شمیم حنفی صاحب کے انتقال کی خبر آ ئی ۔ اس کے بعد تو جیسے تانتا بندھ گیا۔ 21 اپریل 2021 کی صبح اردو اشاعت کو نئی وسعتوں سے ہمکنار کرنے والے شاہد علی خاں صاحب بھی رخصت ہو چکے تھے۔ اس وبا نے رتن سنگھ، عنبر بہرائچی، شوکت حیات، خالد طور، انجم عثمانی، مناظر عاشق ہرگانوی، زاہد ڈار، سلطان اختر ، پروفیسر رضوان قیصر صاحبان اور ترنم ریاض صاحبہ سمیت نہ جانے کس کس کو اپنی آغوش میں لے کر اردو کی ادبی اور تہذیبی فضا کو سونا ہی کر دیا۔24اپریل 2021 کوانجمن ترقی اردو )ہند( کے نہایت فعال رکن اور رفیق جناب اختر زماں صاحب کے انتقال نے تو ادارے کو ہلا کر ہی رکھ دیا۔ انجمن ترقی اردو )ہند( کے صدر اور اراکین تمام مرحومین کے غم میں سوگوار ہیں۔ادارہ ان کے افکار کو عام کرنے کی سعی میں مسلسل کوشاں رہے گا۔