انجمن ترقی اردوہند کی جانب سے بہار میں اردو کو لازمی کی جگہ اختیاری زبان بنانے کی مذمت ،عدالتی چارہ جوئی کا اشارہ

 

نئی دہلی:انجمن ترقی اُردو (ہند) حکومتِ بہار کے ایک حالیہ فیصلے جس میں اردو کو اسکولوں کے تعلیمی نظامِ تدریس سے لازمی زبان کے زمرے سے نکال کر اختیاری زبان کے زمرے میں شامل کردیا گیا ہے، کی سخت مذمت کرتی ہے، اور اس سلسلے میں وہ سب کچھ کیا جائے گا جو اُردو مادری زبان والے بچوں کے آئینی حقوق کی بازیابی کے لیے ضروری ہے۔ انجمن کے جنرل سکریٹری اطہر فاروقی نے کہا ہے کہ ہمارا پہلا قدم بہار کی حکومت سے رابطہ کرکے اسے اس اردو دشمنی سے باز رکھنا ہوگا لیکن اگر اس سلسلے میں کامیابی نہ ہوئی تو انجمن عدالتی چارہ جوئی کا راستہ اختیار کرے گی۔ بہار کے عوام سے بھی درخواست ہے کہ وہ حکومتِ بہار کے اس فیصلے کے خلاف ہر ممکن احتجاج آئینی حدود میں رہ کر کریں۔بہار میں صوبائی الیکشن کی آمد آمد ہے، ایسے میں فیصلہ کن اردو عوام کے ووٹ کو نظر انداز کرنا بھی سیاسی خود کشی کے سوا کچھ نہیں، اس لیے، وزیرِ اعلی بہار کو اپنے ان مشیروں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے، جنھوں نے انھیں یہ احمقانہ مشورہ دیا ہے۔