اندر کی روشنی کے لیے نصابی اسباق کی ضرورت-پروفیسر مشتاق احمد

حال ہی میں انڈین انسٹی چیوٹ آف منجمنٹ (آئی آئی ایم) احمد آباد نے اپنے یہاں ’’ہیپینس‘‘یعنی نصابِ شادمانی شامل کیا ہے اور اس کی اہمیت اور افادیت بھی بتائی ہے کہ اب انسانی معاشرے کو خوش رہنے کے لیے بھی نصابی اسباق پڑھنے کی ضرورت ہوگئی ہے۔ ظاہر ہے کہ اکیسویں صدی انقلابات کی صدی ہے اور ہنوز انقلابات کی دستکیں سنائی دے رہی ہیں۔ یعنی گذرتا ہوا ہر لمحہ بدلتی دنیا کا پیغام دے جاتا ہے۔یہ اور بات ہے کہ ان انقلابات سے انسانی معاشرہ جس قدر بے پناہ آسانیوں اور سہولیات سے ہمکنار ہوا ہے اسی قدر ہیجانی اور پریشان کن کیفیتوں کا آماجگاہ بھی بن گیا ہے۔ ہر ایک فرد نہ صرف اپنے ذاتی مسائل میں الجھا ہوا ہے بلکہ وہ اپنے سے کہیں زیادہ دوسروں کی خوشی کو دیکھ کر اندر ہی اندر راکھ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ یعنی مرزا غالبؔ نے جو ڈیڑھ سوسال پہلے کہا تھا کہ ’’بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا۔ آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا‘‘ ۔سچائی بھی یہی ہے کہ دورِ رواں میں ہمارے معاشرے میں آدمی کی بہتات تو ہے لیکن ڈھونڈنے سے بھی انسان نہیں مل رہے ہیں اور اس کی واحد وجہ ہے کہ ہمارا سماج دیکھتے ہی دیکھتے اپنی سماجی معنویت سے عاری ہو چکا ہے۔ تمام تر اخلاقی تقاضوں کے چراغ ماند پڑتے جا رہے ہیں ۔ بس ایک دور ہے کہ ہر انسان ایک دوسرے کو پیچھے کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے ۔ظاہر ہے کہ ایسے بحرانی دور میں انسان کا ضیائے اندرون سے محروم ہونا فطری عمل ہے۔ شاید اسی تقاضے کو دیکھتے ہوئے اب لمحۂ شادمانی کی تلاش کے لیے نصاب کی ضرورت ہوگئی ہے ۔انڈین انسٹی چیوٹ آف منیجمنٹ حیدر آباد کی اس پہل کا خیر مقدم بھی کیا جا رہا ہے۔ کیوں کہ ہمارے معاشرے کا ہر شخص ’’تلاشِ شادمانی‘‘ میں مبتلا ہے ۔اس نصاب کی شمولیت نے اس حقیقت کو بھی عیاں کردیا ہے کہ موجودہ نصابِ تعلیم نے انسان کو مشینی زندگی عطا کردی ہے اورشاید انسان کواس کے انسانی صفات سے بھی محروم کردیا ہے۔ کیوں کہ اگر کوئی شخص انسانی صفات کا حامل ہے تو پھر اسے خوش رہنے کے لئے نصابی اسباق پڑھنے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ وہ اپنے اندر کے انسانی اوصافِ جمیلہ کی بدولت نہ صرف شادماں رہ سکتا ہے بلکہ وہ دوسروں کے لئے بھی باعثِ شادمانی بن سکتا ہے۔ مگر افسوس صد افسوس کہ موجودہ تعلیم نے ہمارے اندر سے وہ تمام اوصافِ جمیلہ کو ختم کردیا ہے نتیجہ ہے کہ ہماری زندگی کا مقصد صرف اور صرف مادیت پرستی بن کر رہ گیا ہے۔اگرچہ انسان نے ہی اس دنیا کو دورِ تاریکی سے نکال کر عہدِ روشن میں تبدیل کیا ہے ۔ خلائوں کا سفر اور سمندر کی تہوں تک رسائی حاصل کرنے والے انسان کو آج اگر انفرادی خوشی کے لئے کسی بڑے تعلیمی ادارے میں اسباق پڑھنے کی ضرورت آن پڑی ہے تو کیوں؟یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے ۔
ایک دہائی قبل کی بات ہے کہ ہمارے ایک ہمسایہ ایک ٹی وی چینل کا ایک خاص پروگرام بڑی پابندی سے دیکھتے تھے۔ میں نے ان سے دریافت کیا کہ آخرآپ اس پروگرام کے اس قدر رسیا کیوں ہوگئے ہیں۔ان کاجواب تھا کہ ٹی وی چینل کے اس پروگرام کی مدت تک قہقہہ لگانے کا موقع مل جاتا ہے اور دل کے بہت سارے بوجھ ہلکے ہو جاتے ہیں۔ ان کا جواب میرے ذہن میں آج بھی کوندتا رہتا ہے کہ آج انسان کو جی کھول کر ہنسنے کے لیے بھی ٹی وی چینلوں کے پروگرام پر منحصر ہونا پڑا ہے۔ جب کہ بہت دنوں کی بات نہیں ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایک سے بڑھ کر ایک لطیفہ گو ہوا کرتے تھے ۔ صبح وشام گاؤں اورمحلے کے دالانوں میں مل بیٹھنے کی روایت تھی ۔ ایک دوسرے کی خیریت جاننامعمولِ زندگی تھا۔ لوگ ایک دوسرے کو اپنا دکھ درد سنا کر جی ہلکا کر لیا کرتے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے محفل قہقہہ زار ہو جایا کرتی تھی۔جب کہ اس وقت ہمارا معاشرہ آج کی طرح تعلیم یافتہ نہیں تھا ۔ دستخط بنانے والوں سے زیادہ انگوٹھے کا نشان دینے والوں کی کثرت تھی۔ لیکن ان بھولے بھالے ناخواندہ لوگوں کے ذہن ودل میں ایک دوسرے کے لیے انسانی ہمدردی کے چشمے ابلتے رہتے تھے۔ کسی کے چہرے کو مایوس دیکھ کر وہ غمگین ہو جایا کرتے تھے اور ان کے دکھ کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کیا کرتے تھے۔ اجتماعی زندگی ہر ایک شخص کے لیے باعثِ سکون تھی ۔اس وقت اسپتالوں تک مریض کو لے جانے کے لیے چارپائیاں ہوا کرتی تھیں لیکن اسپتالوں میں داخل ہوتے ہی مریض کی آدھی بیماریاں ختم ہو جایا کرتی تھیں کہ وہاں کے معالج اورملازمین مریضوں کی تیمارداری کو عبادت سمجھتے تھے اور آج جب موٹر کار ہی نہیں بلکہ مریضوں کو اسپتال تک پہنچانے کے لیے ایئر ایمبولنس کی سہولیات میسر ہوگئی ہیں لیکن اسپتالوں میں پہنچ کر معالج اور ملازمین اسے محض اس لیے نہیں دیکھتے کہ فیس کی ادائیگی کا پرزہ مریض یا تیماردار کے ہاتھوں میں نہیں ہوتا۔ ایسا لگتا ہے کہ دل کی بیماری کے مریض کے معالج کے پاس انسانی دل نہیں ہے ورنہ کیا وجہ ہے کہ فیس کی ادائیگی نہیں کرنے والے مریض کی نعش کو گھنٹوں ان کے خاندان کو محض اس لیے نہیں سونپا جاتا کہ اسپتال کی بقایہ فیس نہیں دی گئی ہے۔
دراصل ہمارے معاشرے کو یہ دن محض اس لیے دیکھنا پڑ رہا ہے کہ ہر شخص دنیا کو بدلنے کی وکالت تو کر رہاہے لیکن خود بدلنا نہیں چاہتا۔ ڈارون ؔکے ہمعصر والیس ؔ نے کہاتھا کہ ’انسان طرح طرح کی ایجادات کے باوجود انسانیت اور اخلاقیات کے راستے میں ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھ سکا ہے کیوں کہ ہم سب دنیا کو بدلنے میں لگے ہوئے ہیں‘‘۔ٹالسٹائے نے بھی کہا تھا کہ ’’ہر شخص دنیا کو بدلنے کا فکر مند نظر آتا ہے مگر خود کو بدلنے کی کبھی نہیں سوچتا‘‘ ۔ کچھ اسی طرح کے خیالات دنیا کے بیشتر سماجی مصلحین کے رہے ہیں۔ جہاں تک مذہبی رہنماؤں کاسوال ہے تو وہ دورِ آغاز سے ہی اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے رہے ہیں کہ انسان کاصالح انفرادی عمل ہی معاشرے کو صالح بنا سکتا ہے اور جس انسان کے اندر قناعت وتوکل کے ساتھ فکر ونظر میں توازن ہوگا وہی انسان اپنے اندر ون کو بھی روشن کر سکتا ہے اور دوسروں کے لیے بھی راحتِ جاں ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن گردونواح پر نظر دوڑائیے تو یہ تلخ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ آسمانوں پر کمندیں ڈالنے والا انسان اپنے پائوں کی زمین سے محروم ہو چکا ہے ۔تمام تر سماجی سروکار کا تانے بانے نفع ونقصان کے نظریے پر بُنے جا رہے ہیں۔ ظاہری شکل وصورت نے مکروفریب کی ایک ایسی دنیا آباد کردی ہے کہ اس دنیا میں اب انسان کو خوش رہنے کے لیے یعنی ضیائے اندرون کے لیے ’’ہیپینس‘‘ جیسے نصاب پڑھنے ہوں گے کہ ہم انسانوں نے انسانیت کے تمام تر اسباق فراموش کردئیے ہیں۔سائنس اور ٹکنالوجی کی اس دنیا نے ’’آرٹیفشیل انٹلی جنس ‘‘ کی بدولت انسانی ضرورتو ں کو مشینوں کے ذریعہ پورا کرنے کی سہولت پیدا کردی ہے لیکن انسان کو اس کے انسانی اوصافِ جمیلہ سے دور کرتا جا رہاہے۔احسان فراموشی اور ابن الوقتی انسان کا وطیرہ بنتا جا رہا ہے اور اس معاشرے میں اس فرد کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے جو دوسروں کے لیے مضر ہے۔تمام مذاہب کی کتابوں میں ایک انسان کو دوسرے انسان کے لئے راحتِ جاں بننے کی تلقین کی گئی ہے ۔تمام تر نسلی امتیازات اور ذہنی تحفظات وتعصبات کے خاتمے کی وکالت کی گئی ہے لیکن آج اس’’ ایلیٹ کلاس ‘‘کا تمغہ لیے پھرنے والا انسان مذہب کو بھی اپنی جاہ وحشمت کا آلہ بنارہا ہے اور تمام تر انسانی تقاضوں کو بالائے طاق رکھ کر مکروفریب کا جال بچھا رہا ہے۔ مگر اسے یہ معلوم نہیں کہ اس جال میں وہ خود ہی الجھتا جا رہاہے، اپنے دن کا سکون اور رات کی نیند گنوا رہاہے۔اپنے مقدر سے زیادہ حاصل کرنے کی تگ ودو نے اسے سونے کے لیے بھی نیند کی گولیاں کھانے پر مجبور کردیا ہے۔ ہجوم کے درمیان رہ کر بھی وہ تنہا ہو گیا ہے ۔ دنیا کواپنی مٹھی میں کرنے کی ہوس نے انسان کو ظاہری چمک دمک سے توہمکنارکردیا ہے لیکن اس کے اندرون کو تاریک بنادیا ہے۔