آندھرا پردیش میں پھیلی پر اسرار بیماری،حکومت نے جانچ شروع کی

امراوتی:آندھرا پردیش کے ایلورو میں پھیلے پراسرار مرض سے لوگ پریشان ہیں۔ ایسی صورتحال میں ریاست کے وزیر اعلی وائی ایس جگن موہن ریڈی نے اس معاملے میں چل رہی جانچ کی پیشرفت کا جائزہ لیا۔ اس معاملے کا امراوتی میں طبی ماہرین کے ساتھ ویڈیو کانفرنس میں جائزہ لیا گیا۔ اس دوران وزیر اعلی نے کہا کہ پینے کے پانی کی کئی بار جانچ کی جانی چاہئے۔ انہوں نے ماہرین کی ٹیم سے نتائج کو بار بار چیک کرنے کے لئے کہا تاکہ کوئی غلطی نہ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ کیڑے مار دوا جو تحقیقات کے لئے استعمال ہورہی ہے اس کا ایک ماہ تک تجربہ کیا جائے۔ اس بات کی تصدیق کی جانی چاہئے کہ کیا پانی کی آلودگی اس بیماری کا سبب ہے۔وزیر اعلی نے ماہرین کو چاول کے نمونے دوبارہ جانچنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کو نامیاتی کھیتی باڑی کرنے کی ترغیب دی جانی چاہئے۔ ریڈی نے ماہرین سے چاول کے نمونوں کی دوبارہ جانچ کرنے کو کہا۔واصح رہے کہ آندھرا پردیش کے 500 سے زائد افراد کو اس بیماری کی وجہ سے اسپتال میں داخل ہونا پڑا تھا، جس میں سے ایک شخص کی موت ہوگئی ہے۔ پراسرار بیماری نے طبی ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا ہے، ٹیسٹ رپورٹوں کے ابتدائی تجزیے سے کیڑے مار ادویات میں پائے جانے والے کیمیائی مادوں کے کردار کو قائم کیا گیا ہے جس کی وجہ سے ایک شخص کی موت واقع ہوئی ہے۔ملک کے بڑے سائنسی اداروں کے ماہرین کی متعدد ٹیمیں آندھرا پردیش کے ایلورو شہر میں اس مرض کی اصل وجہ معلوم کرنے کے لئے کام کر رہی ہیں۔