اندھ بھکتوں کا اندھا بہرا گروہ ـ شکیل رشید

بی جے پی آئی ٹی سیل اور اندھ بھکت جو حقیقتاً مودی بھکت ہیں، سوشل میڈیا پر بڑے زوروشور کے ساتھ ’وی اسٹینڈ وتھ اسرائیل‘ ٹرینڈ کررہے ہیں۔ تو جناب کس نے منع کیا ہے، اسرائیل کے ساتھ تم سب کھڑے ہوجاناچاہتے ہوتو کھڑے رہو، ویسے بھی ’صہیونیوں‘ اور ’ہندوتووادیوں‘ کےلیے ’مسلمان‘ مشترکہ نشانہ ہیں۔ اگر اسرائیلی شدت پسند اور ہندو انتہا پسندوں کا مشترکہ نشانہ ’مسلمان‘ نہ ہوتے تو شاید بی جے پی کا آئی ٹی سیل، اندھ بھکت اور مودی بھکت ’وی اسٹینڈ وتھ اسرائیل‘ ٹرینڈ نہ کررہے ہوتے، یا شاید دونوں ہی ایک دوسرے کے اتنے قریب نہ ہوتے جس قدر قریب کہ آج مودی حکومت کے اس دور میں ایک دوسرے کے ہیں۔ سب ہی جانتے ہیں کہ راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) ہمیشہ سے یہودیوں کے قاتل ایڈولف ہٹلر کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملاتا رہا ہے۔ سنگھ کے ایک چیف گروگولوالکر نے اپنی ایک کتاب ’ہم یا ہماری قومیت کی وضاحت ‘ میں صاف صاف یہ تحریر کیا ہے کہ ’’ہٹلر کے ہاتھوں سافی النسل یہودیوں کا صفایا قومی فخر کا اعلیٰ ترین اظہار تھا‘‘۔گولوالکرہٹلر کی تعریف میں رطب اللسان تھے کہ ہٹلر نے یہ جان لیا تھا کہ جرمنی کی تہذیب میں یہودی تہذیب گھل مل نہیں سکتی اور اس میں ہندوستان کے لیے ایک سبق ہے۔ دعویٰ ہے کہ ہٹلر نے ۶۰ لاکھ یہودیوں کو قتل کیا تھا تاکہ جرمنی کے آریائوں کی نسلی پاکی کو برقرار رکھاجاسکے۔ آج سارا بی جے پی آئی ٹی سیل سارے اندھ بھکت اور مودی بھکت اور سارا سنگھ پریوار اسرائیل کے گن گارہا ہے کیوں کہ اسرائیل ان کے ’دشمن‘ کا ’دشمن‘ ہے۔ اور اسرائیل نے مسلم دشمنی میں ہندو تو وادیوں کی ’ہٹلر بھکتی‘ کو مکمل طو رپر فراموش کردیا ہے۔ لہذا اگر آج فلسطنیوں کی تباہی و بربادی اور شہادت پر آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیمیں اور سارے بھاجپائی اور یرقانی خوشی سے بغلیں بجارہے ہیں تو یہ بہت حیرت کی بات نہیں ہے۔ یہ وہ گروہ ہے جو مسلم دشمنی میں اس قدر اندھا ہوچکا ہے کہ ا پنے ’دشمن‘ اور اپنے ’نظریاتی حریف‘ کو بھی اپنا ’دوست‘ بنانے کےلیے تیار ہے، بشرطیکہ وہ ’دشمن‘ اور ’نظریاتی حریف‘ مسلمانوں کا ’دشمن‘ ہو ۔ اور ان دنوں تو بھارت۔اسرائیل دوستی کی گویا بَہار ہے۔ نیتن یاہو سے پہلے جاکر نریندر مودی نے ملاقات کی، پھر نیتن یاہو بھارت آئے اور بڑی ہی گرمجوشی سے مودی سے ملے۔ دونوں ہی ملکوں کے درمیان زبردست تجارتی تعلقات ہیں۔ اسرائیل اپنے ہتھیار بھارت کو فروخت کرتا ہے اور دونوں ہی ہاتھوں سے پیسے کمارہا ہے۔ شاید کم ہی لوگ جانتے ہوں گے کہ بھارت سب سے زیادہ ہتھیار اسرائیل سے خریدتا ہے،اور یہ اسرائیل کے ہی ہتھیار تھے جو کارگل کی جنگ میں اس کے کام آئے تھے۔ خیر بات چل رہی تھی بی جے پی کے آئی ٹی سیل اور اندھ بھکتوں و مودی بھکتوں کی۔ یہ وہ گروہ ہے جو ہر اس شخص کو، اس ملک کو یا اس بدمعاش کو گلے لگانے کےلیے تیار ہے جو مسلم دشمنی کا اظہار کرے۔ ایک مثال دیکھ لیجئے، ایک سنگھی نے سوشل میڈیا پر تحریر کیا کہ وہ مفت میں اسرائیل کی فوج میں شامل ہوناچاہتا ہے تاکہ وہ مسلمانوں سے لڑ سکے۔ حالانکہ اسے خوب پتہ ہے کہ یہ یہودی ’بیف‘ کھاتے ہیں، گائے کا گوشت، مگر یہ اپنی ’ماتا‘ کے قاتلوں سے صرف اس لیے کہ وہ مسلم دشمن ہیں، ہاتھ ملانے کو تیارہے۔ اس آئی ٹی سیل کی ایک پیداوار فلم اسٹار گنگنا رنائوت ہے۔ اس نے کئی گھنائونی پوسٹوں کے ذریعے اپنی ناپاک ذہنیت کوجو ویسے ہی عیاں ہے، مزید عیاںکیا ہے۔ اس کاکہنا ہے کہ ہندوستان، انتہا پسند اسلامی دہشت گردی کے خاتمے کےلیے اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہوا ہے۔ اسے خوشی ہورہی ہے کہ بچے اور عورتیں شہید ہورہے ہیں۔خیر یہ سب تو چلتا آیا ہے اور چلتا رہے گافی الحال ضرورت ہے کہ ایسی پوسٹوں کو نظر انداز کردیاجائے، کسی رد عمل کا اظہار نہ کیاجائے کیوں کہ بھارت کی سرکار بالفاظ دیگر نریندر مودی کی حکومت کورونا وبا کی روک تھام میںناکام ہوکر عوامی نشانے پر ہے، یہ سنگھی اس جانب سے لوگوں کی توجہ ہٹا کر فلسطینی، مسلم، یہودی اور ہندو کی رٹ لگارہے ہیں، انہیں رٹ لگانے دیں کہ یہ تو ان جیسوں کا کام ہی ہے۔ یہ اندھ بھکت اندھے بہرے ہیں۔