اندازِبیاں-۳:میڈیکل ڈاکٹروں کی ادبی خدمات پر ایک قیمتی دستاویز

صفحات: 543
قیمت: 500روپے
مبصر: محمد خلیل، سائنس داں وسابق مدیر رسالہ’ سائنس کی دنیا‘ نئی دہلی
ناشر: عبارت پبلیکشن ،شاہین باغ،نئی دہلی

حال ہی میں یک موضوعی مجلہ دیکھنے کا موقع ملا جو موجودہ دور کے حالات میں ایک اہم موضوع سے آراستہ ہے،جس کا موضوع’ ’ میڈیکل ڈاکٹروں کی ادبی خدمات‘ ‘ ہے۔ مجلہ کے اداریہ ’دستِ مسیحائی‘ میں اس کے مدیر معروف مضمون نگار وتبصرہ نگار مشہور شخصیت حقانی القاسمی نے مجلہ کا اہم نقطۂ نظر اور ادب سے میڈیکل ڈاکٹروں کے گہرے رشتوں کا بہت ہی اہم جائزہ لیا ہے۔ انھوںنے لکھا ہے کہ ڈاکٹر گلکرسٹ جنھوںنے اسکاٹ لینڈ میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کی تھی، سرجن تھے۔وہ کلکتہ کے فورٹ ولیم کالج میں پروفیسر ہوکر آئے جہاں انھوںنے اس ابتدائی دور میں اردو زبان کی کئی کتابیں لکھیں جن میں ہندوستانی لغت اور دوسری کتابوں کا ذکر ہے۔اسی دورمیں کئی اور غیر ملکی میڈیکل ماہرین نے اردو زبان میں تحریری کاوش کی۔جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ میڈیکل میدان میں رہتے ہوئے شعروادب سے ان کا کتنا گہرا لگائو تھا۔
مدیر نے شاعری کے باب میں ثروتؔ زہرا،ڈاکٹر ابرار احمد،انور زاہدی، ارمان نجمی،سید مظہر عباس رضوی، محمودالحسن، اعجاز حسن خان، اشرف الحق،زبیر فاروق، حسن شکیل مظہری، حنیف ترین ، ، صباحت عاصم واسطی،ڈاکٹر قمر الزماں، ڈاکٹر انتخاب اثر، مسلم شہزاد، نظام الدین نظام، ڈاکٹر اسلم حبیب، زویا زیدی، ڈاکٹر کمل شنکر دوبے ، ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ ،ڈاکٹر سالک اعظم ،ایس آر جھااور ڈاکٹر زریں حلیم وغیرہ کا ذکر کیا ہے جنھوںنے میڈیکل کی ڈگری لی ہے۔اور فکشن کے حوالے سے رشید جہاں، شفیق الرحمن،انور سجاد، مصطفی کریم، حسن منظر،انور زاہدی، آصف فرخی، خالد سہیل ، بلند اقبال، عمران مشتاق، نذیر مشتاق اور ممتاز قلمکاروںمیں ڈاکٹر ادریس، ڈاکٹر سید امجد حسین،راج بہادرگوڑ، عبدالمعزشمس اور عابد معز کا ذکرکیا ہے۔اس طرح میڈیکل شخصیات کی ا یک طویل فہرست ہے جو میڈیکل کے پیشے کے ساتھ اردو زبان و ادب میں بھی سرگرم رہے ہیں۔اس مجلہ میں ان کا ذکر حقانی صاحب نے تفصیل سے کیا ہے تاکہ قاری کو اندازہ ہوسکے کہ اندازِ بیاں کی تصنیف کا مقصد وکردار کیا ہے۔کم از کم میں نے ایسے معیاری اورضخیم مجلہ کو اب تک نہیں دیکھا ہے جو اردو اور میڈیکل کے رشتوں سے ان اہم شخصیات کو جوڑتا ہے۔یہ مدیر کی ایک کامیاب کوشش ہے اور موجود دور سائنس کا ہے ۔اس طرح ایسی ابتدائی جستجو کو بڑی اہمیت دینے کی ضرورت ہے تاکہ میڈیکل شخصیات کی طرح دوسرے میدانوں کے لوگ اردو زبان میں پیش رفت کرسکیں۔
مجلہ کے شروع میںڈاکٹرعابد معز کی تین تحریریں (1)جنھیں ڈاکٹر قلمکار کہاجاتا ہے۔(2)اردو ادب میں طنز ومزاح نگار(3)جامعہ عثمانیہ کے ڈاکٹرز شامل ہیں۔یہ تینوںمضامین میڈیکل سے وابستہ بہت سی اہم ادبی شخصیات کا احاطہ کرتے ہیں۔
دوسرے حصے (ب) میں عالم عرب کے ڈاکٹر قلم کاروں کا ذکر ملتا ہے۔اس میں ابراہیم ناجی( شوقی ضیف، ترجمہ شمس کمال انجم، احمد ذکی ابوشادی( شوفی ضیف ،ترجمہ شمس کمال انجم)نوال سعداوی (ابرار احمد اجراوی)، مصطفی محمود(محمد زاہد)پر مضامین شامل ہیں۔ان میں قاہرہ کے ابراہیم ناجی جو پیشے سے ڈاکٹر تھے اور ان کو فرانسیسی زبان پر عبور حاصل تھا۔عرب کے دوسرے ڈاکٹر احمد ذکی ابوشادی جنھوںنے علمِ جراثیم کے ساتھ مغربی ادبیات میں گہری دلچسی لی۔یہاںکی نوال سعداوی جو بے باک ادیبہ وکمال کی طبیبہ ہیں۔وہ اس قدر مقبول ادیبہ ہیں کہ ان کی تخلیق کاترجمہ 35زبانوںمیں ہوا ہے۔ان کے عربی ناول کا ترجمہ اردوزبان میں بھی ہوا ہے جو بے حد مقبول ہوا تھا۔وہ خواتین کے دردوکرب کو گہرائی سے محسوس کرتی ہیں جس کا اندازہ ان کی تحریروں سے ہوتا ہے۔
باب مصطفی کریم میںڈاکٹر صادقہ نواب سحر کا تحریر کردہ مضمون ہے جس میں انھوںنے مصطفی کریم کے چنندہ ناول اور افسانوںکا جائزہ لیا ہے۔ان کے تین مشہورناول طوفان کی آہٹ، راستہ بند ہے، اور قرطبہ موضوعات کے اعتبار سے اہم ہیں ان کے تحریری انداز کو ماہرین نے سراہا ہے۔ان کے افسانوں کی زبان فصیح ہے۔ان کی کہانیوں میں کسائو پایاجاتا ہے۔ان کی منظر نگاری میں بلاکا کمال ہے۔اپنے مضمون میں ارمان نجمی ’ڈالان کی سرائے‘ کوسامنے رکھتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’ایک کامیاب سرجن کے لیے قلم پکڑنا بڑا چیلنج ہے۔انھوںنے سماج کے زخموں پر نشتر لگاکر بخوبی اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ انصاف کیا ہے۔‘
اس مجلہ میںباب انور سجّادبھی ہے۔انور سجادلاہور میں پیدا ہوئے۔ان کے افسانوں کے تین مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔عمر فرحت لکھتے ہیںکہ انورسجاد کے افسانے قابل فہم نہیں بنتے بلکہ ایسے مطالعہ کا مطالبہ کرتے ہیں جس سے علامات کی گہرائی کا اندازہ کیا جاسکے۔شمس الرحمن فاروقی نے انھیں ’جدید افسانے کا معماراعظم‘ کہا ہے۔وہ لکھتے ہیں ’’ انور کے افسانے سماجی تاریخ نہیں بنتے ہیں ، ان کے یہاں انسان یعنی کردار علامت بن جاتا ہے۔‘‘
باب ثروت زہرامیں کئی اہم تحریریں شامل ہیں۔ثروت جدید شاعرہ ہیں۔ستیہ پال آنند لکھتے ہیں کہ ’موضوعاتی سطح پر وہ ایک خود آگاہ شاعرہ ہیں جو اسلوبیاتی سطح پر بھی زبان اور بیان کے رموز سے واقف ہیں۔‘محمد حمید شاہدکہتے ہیںکہ ’ثروت اپنی نظموں میں نئی نئی مثالیں بناتی ہیں ، الگ سا لہجہ تراشتی ہیں اور زبان مختلف کردیتی ہیں‘۔شاہدہ حسن کہتی ہیں کہ’ ان کی شاعری میں عہد حاضر کی ایک باشعور باخبر عورت کی باطنی ناآسودگی نمایاں ہوتی ہے۔‘ ثروت کہتی ہیںکہ’ حرف لکھنا ہی نہیں کافی ہے۔آئو اب حرف مٹایاجائے۔‘
باب عابد معزمیں کئی قیمتی مضامین ہیں۔حکیم خورشید احمد شفقت اعظمی کہتے ہیں کہ ’ڈاکٹر عابد معز ایک مسیحا نفس ادیب ہیں۔وہ نہ صرف مزاح نگار ہیں بلکہ اردو زبان میں طبّی مضامین لکھتے رہے ہیں۔شروع میں ان کے مضامین نہ صرف حیدرآباد میں بلکہ سعودی عرب سے شائع اردو نیوز اور اردو میگزین میں بھی شائع ہوئے۔‘
پروفیسر قندیل نے ان کی شگفتہ افسانہ نگاری کی نشاندہی کی ہے۔ان کے اظہار کو اپنی تحریر میں دہرا یا ہے ، ’’ میں پیشے سے طبیب ہوں شوق سے ادیب ہوں۔‘‘ پروفسیر ظہیر لکھتے ہیںکہ ’ڈاکٹر معز نے مضمون نگاری ، انشائیہ نگاری اور افسانہ نگاری کے ساتھ ہی کالم نگاری میں بھی اپنی کامرانیوں کا پرچم لہرایا۔ان کا افسانوی مجموعہ حقیقت اور زندگی کے قریب ترین ہے۔‘ ڈاکٹرفیروز عالم لکھتے ہیں کہ ’ڈاکٹر عابد معز پچھلی چاردہائیوں سے خاموشی کے ساتھ اد ب کی خدمت کررہے ہیں۔انھوںنے عوام کے لیے کئی اہم کتابیں تصنیف کی ہیں۔‘ پروفیسر فاطمہ بیگم پروین اپنے مضمون میں لکھتی ہیں کہ ’ڈاکٹر عابد معز خود نہیں لکھتے بلکہ ان کی بے چینی ، بے قراری اور اضطرابی جذبہ ان سے مضمون لکھواتاہے۔ان کی دوربینی اردو زبان وادب سے تحریری طورپر ہر لفظ سے ٹپکتی ہے۔‘
حکیم وسیم احمد اعظمی لکھتے ہیں کہ ’ڈاکٹر معز کے مزاح کا دائرہ کل واثر بڑا وسیع ہے۔ ان کی خدمات کے اعتراف کا ایک ماحول بن رہا ہے۔ مزاح میں عہدِ یوسفی کے بعد جو عہد بنے گا اس میں ڈاکٹر معز کی باتیں ہوں گی۔‘فاروق طاہر لکھتے ہیں کہ ’کسی زبان کے عروج میں اصطلاح کا اہم کردار ہوتا ہے۔اردو زبان میں توضیحی فرہنگ غذا اور تغذیہ پر مبنی اصطلاحات سازی اور تشریحات پر اپنی نوعیت کا پہلا منفرد کام ہے جس کے لیے عابد معز بجا طورپر مبارکباد کے مستحق ہیں۔‘
باب حنیف ترین میںمعروف نقاد نظام صدیقی صاحب اپنے مضمون ’نظمیہ تخلیقیت کا سدا بہار دل افروز سخن ور‘ میں لکھتے ہیں کہ ’ڈاکٹر حنیف ترین اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کے مابعد جدید تاریخی تناظر میں خاص طورپر نئے عہد کی تخلیقیقت کے زندہ رخشندہ سخن ور ہیں۔ان کے غیر معمولی حسّاس اور تخلیقی آگہی میں شعریات باہم دیگر ایک ہوکر فروزاں ہے۔‘
فاروق نازکی اپنے مضمون دھرتی پوجا کی ایک اور مثال میں لکھتے ہیں کہ ’صلاح الدین پرویز ، حنیف ترین کے یہاں ایک سے زیادہ اسالیب کی نشان دہی ہوتی ہے ۔حنیف ترین کے لہجے میں یک رنگی نہیں بلکہ ایک واضح اور غیر مبہم تنوع ہے۔‘اسلم حنیف اپنے مضمون ’امن امتزاج اور اکیسویں صدی‘ میںحنیف ترین کا شعری مجموعہ ’ ابابیلیں نہیں آئیں‘ کے تعلق سے لکھتے ہیں کہ’اردو والے ابابیل کا لفظ مخصو ص چڑیا کے لیے استعمال کرتے ہیں لیکن حنیف ترین کے یہاں یہ لفظ غیبی مدد کے استعارے کے طو رپر استعمال ہوا ہے جو بغیر حرکت وعمل کے ممکن نہیں۔حنیف ترین نے ہم عصر ماحول اور زندگی کی سطح اور دل فریب منظر نامے سے ہٹ کر اس کے بطون میں اترنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔‘
حقانی ا لقاسمی اپنے مضمون ’ دیکھ دل کی زمین لرزتی ہے‘ میںلکھتے ہیں کہ ’حنیف ترین نے زلزلہ سریز کی نظموں میں صرف انسانی کراہوں کو قید نہیں کیا ہے بلکہ زمین کی چیخ وپکار کو بھی محسوس کیا ہے جو عرصہ سے مسلسل کائناتی عدم توازن یا گلوبل وارمنگ کی وجہ سے پریشانی میں مبتلا ہے۔یہ زلزلہ صحیح معنوں میں زمین کی اذیت کا اظہار تھا۔اس طرح یہ نظمیں اسی ارضی اذیت کا ادراک نامہ ہیں۔‘
فاروق ارگلی اپنے مضمون ’ڈاکٹر ارمان نجمی‘ میں کہتے ہیں کہ ’ارمان نجمی عصری زندگی کی ناہمواریت اور ناعاقبت اندیشوں سے بے خبر ہیں جب کہ موجود مشینی زندگی پر گہری نظر رکھتے ہیں اور موجودہ زمانہ کے مشکل حالات کو اپنی شاعری کا جز بناتے ہیں۔حقیقت کے آئینے میں نجمی ہمارے عہد کے پوری طرح درد کے شاعر ہیں لیکن یہ درد انہیں کا ذاتی نہیں نہ ناکامی اور مایوسی اور حسرت نے بھی نہیں دیا ہے بلکہ یہ درد ڈاکٹر نجمی کو حالات اور وقت کی ستم ظریفیوں نے عطا کیا ہے اور اس غم نے دیا ہے جو ایک پورے زمانے کا المیہ ہے۔‘
مشرف عالم ذوقی ’بلند اقبال میرا بھائی، میرا دوست اور ایک بلند افسانہ نگار‘ میں لکھتے ہیںکہ’ ڈاکٹر بلند اقبال کی کہانیوں میں ایک نئی دنیا آباد ہے۔یہ کہانیاں پہلی قرأت میں اپنے مفہوم واضح نہیں کرتیں۔ہاں دوسری قرأت میں جب کہانی طلسم ہوشربا سے باہر آتی ہے تو زندگی کے کسی نئے فلسفے کو جاننے جیسی حیرت ہمارے پاس ہوتی ہے۔ہم اس تحریر سے وقتی طورپر زخمی بھی ہوتے ہیں۔پھر اچھے انسان کی طرح دھند میں راستہ بھی دکھائی دینے لگتاہے اور یہی بلند کا کمال ہے۔‘
محمد رکن الدین اپنے مضمون ’ڈاکٹر تقی عابدی ، ادب کا مریض اور صحت کا طبیب‘ میں لکھتے ہیں:’ ڈاکٹر عابدی موجودہ دور میں اردو ادب کا ایک معتبر نام ہے۔وہ پیشے کے اعتبار سے طبیب (ڈاکٹر) ہیں وہ ہمیشہ طب سے وابستہ رہے ہیں لیکن آپ کو شہرت ادب کے میدان میں ملی۔ انیسیات، دبیریات، اقبالیات،اور غالبیات کے ساتھ ساتھ فیض فہمی وحالی شناسی پر ان کی گہری نظر ہے۔‘
ان کے علاوہ عبدالمعز شمس(احمد سجاد)، کمال مدراسی ، اعجاز مدراسی( عابد معز)نسیم انصاری(نایاب حسن)فہیم منصوری، (عمران عاکف خان)اسلم حبیب(نشاط حسن)، شفیق الرحمن (کنیز فاطمہ)، راشد فریدی(ڈاکٹر دائود محسن)پر بھی مضامین ہیں۔ عابد معزاور ڈاکٹر عزیز احمد سے بالترتیب محبوب خاں اصغراور اشفاق عمر گورکھپور کے انٹرویوز شامل اشاعت ہیں۔
’باب انداز بیاں‘ میں احمد علی برقی اعظمی، شافع قدوائی، شکیل رشید، نایاب حسن قاسمی، مناظر عاشق ہرگانوی، زبیر احمد بھاگلپوری ، عبید الکبیر، قیصر زماں، یاسمین رشیدی اور آصف انور علیگ کی تحریروں سے یک موضوعی مجلہ انداز بیاں کی انفرادیت ، اہمیت اور افادیت سامنے آتی ہے۔
انداز بیان کے اخیر میں بابِ انیقہ ہے۔معروف ادیب حقانی القاسمی کی بیٹی جو ذاکر حسین میموریل اسکول میں درجہ ہفتم کی طالبہ تھی ۔2ستمبر کو2019کو بروز پیر اچانک انتقال ہوگیا۔اردو حلقوں میں شدید غم کا ماحول تھا۔بڑی تعداد میں لوگ ہولی فیملی اسپتال پہنچے، بیٹی شاہین باغ قبرستان میں سپرد خاک کی گئی۔نماز جنازہ میں ادباء، شعرا ، اساتذہ کے علاوہ بڑی تعداد میں صحافی ، سیاسی ،سماجی اور ملی رہنمائوں نے شرکت کی۔ماحول شدید غم میں ڈوبا ہوا تھا۔کثیرتعداد میں تعزیت ناموں کا مسلسل سلسلہ شروع ہوا۔اتنے بڑے حادثے کے بعد کہنا اور لکھنا کس قدر مشکل ہے۔اللہ تعالیٰ والدین اور متعلقہ خاندان کے لوگوں کو صبر عطافرمائے۔اللہ کسی ماں باپ کو وہ دن نہ دکھائے ۔تعزیت نامے کثیر تعداد میں ملک کے مختلف حصوں سے اس رنج وغم کے سانحہ پر موصول ہوئے ہیں۔بیرونی ممالک سے بھی تعزیت نامے آئے جو ان کے دکھ کو بیان کرتے ہیں۔اسی باب میں ڈاکٹر احمد علی برقی کے غم میں ڈوبی یہ سطور:
دختر معصوم حقانی انیقہ چل بسی
بجھ گئی چشم زدن میں اس کی شمع زندگی
اور معروف شاعرہ صبیحہ سنبل نے اس طرح اپنی تعزیت کا اظہار کیا:
یہ سانحہ تو بڑا دل خراش گزراہے
وہ میری جاں سے پیاری انیقہ کو
کہ جیسے چھین کے ہاتھوں سے لے گیا کوئی
اندازِ بیان کا یہ شمارہ دستاویزی ہے۔ امید ہے کہ ارباب نظر اس کی خاطر خواہ پذیرائی کریں گے۔
رسالے کے لئے رابطہ کریں:
9891726444
9015698045

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*