بھارت کے نوجوانوں کے نام کھلا خط:اپنے آپ کو اسمارٹ فون کی لت سے باہر نکالیے،یہ آپ کو تباہ کردے گی-چیتن بھگت

ترجمہ:نایاب حسن

عزیز دوستو!

مجھے نہیں معلوم کہ ایک بڑے اخبار میں شائع ہونے کے باوجود یہ خط آپ تک پہنچے گا بھی یا نہیں؛کیوں کہ آپ میں سے بہت سے لوگ اپنے فون میں مشغول ہوں گے،ویڈیو دیکھ رہے ہوں گے،ویڈیو گیم کھیل رہے ہوں گے،اپنے دوستوں کے ساتھ چیٹ کررہے ہوں گے،سوشل میڈیا پر کمینٹ کر رہے ہوں گے یا خوب صورت سلیبرٹیز کی پروفائلز کو سکرول کررہے ہوں گے،ایسے میں ایک مضمون پڑھنا یقیناً آپ کی ترجیحات کی لسٹ میں سب سے نیچے ہوگا۔

پھر بھی اگر اس تحریر پر آپ کی نظر پڑے،تو آپ اسے ضرور پڑھیں۔یہ اہم مضمون ہے اور اس کا راست تعلق آپ کی زندگی سے ہے۔آپ فون پر اپنی زندگی برباد کررہےہیں۔ہاں!آپ ہندوستان کی پہلی نوجوان نسل ہیں،جسے اسمارٹ فونز اور سستا انٹرنیٹ ڈیٹا ملا ہوا ہے اور آپ اس پر روزانہ گھنٹوں صرف کرتے ہیں۔

موبائل فون کے سکرین پر صرف کیے جانے والے وقت کا جائزہ لیں،تو روزانہ کے حساب سے پانچ سات گھنٹے بنتے ہیں۔جو لوگ ریٹائرڈ ہیں یا اپنی زندگی میں کامیابی حاصل کر چکے ہیں،وہ موبائل فون پر گھنٹوں صرف کر سکتے ہیں،مگر ایک نوجوان،جسے ابھی اپنی زندگی شروع کرنی ہے،وہ ایسا نہیں کر سکتا۔

پانچ گھنٹے آپ کی حالتِ بیداری کا ایک تہائی اہم  حصہ ہے یا یہ کہیں کہ آپ کی زندگی کا ایک تہائی حصہ ہے۔سگریٹ یا دوسری منشیات کی طرح یہ فون کی لت بھی آپ کی زندگی کے ایک حصے کو کھاتی جارہی ہے،اگر ایسا ہی چلتا رہا،تو آپ کی پوری نسل ایک4Gotten(فراموش شدہ)نسل بن کر رہ جائے گی،ایک ایسی نسل جسے  4G کی لت لگی ہوئی ہے،جس کا زندگی میں کوئی ہدف نہیں اور جو اپنی قوم و ملک کی ضروریات کے تئیں جاہلِ مطلق ہے۔

فون کی لت کے درج ذیل تین  بنیادی منفی اثرات ہیں :

سب سے پہلا تو یہ کہ یہ وقت کی بربادی کا باعث ہے،جسے کسی دوسرے نفع بخش کام میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔آپ تصور کیجیے کہ اگر روزانہ فون پر استعمال ہونے والے تین گھنٹے آپ بچاتے ہیں اور انھیں کسی دوسرے کام مثلاً ورزش کرنے،کوئی ہنر سیکھنے،مطالعہ کرنے،کوئی اچھی جاب تلاش کرنے،کوئی کاروبار شروع کرنے میں استعمال کرتے ہیں،تو اس سے آپ کو کتنا فائدہ ہوسکتا ہے اور آپ کہاں سے کہاں تک پہنچ سکتے ہیں!

دوسرا یہ کہ فون پر بیکار،غیرمفید چیزیں دیکھنے سے آپ کی قوتِ مدرکہ متاثر ہوتی  ہے۔ ہمارے دماغ کے دو حصے ہیں:ایک جذباتی اور دوسرا ادراکی یا علمی۔ تندرست اور صحیح سالم  دماغ وہ ہے جس کے دونوں حصے کام کرتے ہوں۔جب آپ بیکار چیزیں دیکھتے ہیں،تو آپ کے دماغ کے علمی حصے پر منفی اثر پڑتا ہے اور اس کی قوتِ کار کم ہوتی جاتی ہے۔ پھر بتدریج آپ کی قوتِ فکر،قوتِ استدلال ختم ہونے لگتی ہے۔ آپ کے اندر مختلف نقطہ ہاے نگاہ کے فہم کی صلاحیت نہیں رہتی،مختلف حالات کو سمجھنے اور برتنے کی قوت نہیں رہتی،مثبت و منفی احوال کی درست تشخیص اور اس کے مطابق فیصلہ لینے کی صلاحیت نہںی رہتی۔

جب آپ کے دماغ کی قوتِ مدرکہ کام کرنا بند کر دیتی ہے،تو پھر آپ صرف اس کے جذباتی حصے سے کام لیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر برپا ہونے والے تنازعات،پولرائزیشن،سلیبرٹیز یا سیاست دانوں کے تئیں بہت زیادہ محبت یا نفرت کا اظہار،کسی خاص ٹی وی اینکر کا مشہور ہونا یہ سب وہ مقامات  ہیں،جہاں دماغ کے جذباتی حصے سے کام لیا جاتا ہے اور علمی و منطقی حصے سے کام نہیں لیا جاتا۔

جو لوگ محض جذباتی سوچ سے کام لیتے ہیں وہ زندگی میں کبھی کامیاب نہیں ہوپاتے۔ اس سے نکلنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ اپنے دماغ کو بیکار چھوڑنے کی بجاے اسے زیادہ سے زیادہ نتیجہ خیز امور میں استعمال کیجیے۔

تیسرا یہ ہے کہ مسلسل گھنٹوں سکرین پر گزارنے سے آپ کا حوصلہ اور انرجی کم ہوتی جائے گی۔زندگی میں کامیابی تب ملتی ہے،جب کوئی ہدف مقرر کیا جائے،اس کے تئیں پر امید رہا جائے اور اس کے حصول کے لیے جاں توڑ کوشش کی جائے۔ جبکہ مستقل موبائل اسکرین سے چپکے رہنا آپ کو سست بناتا ہے۔آپ کی شخصیت کے اَعماق میں خوف کی نفسیات پیدا کردیتا ہے،پھر آپ کوئی بھی کام شروع کرنے سے پہلے گھبرانے لگتے ہیں،آپ کو یقین ہی نہیں ہوتا کہ وہ کام آپ کے بس کا ہے۔

پھر آپ اپنی اس نفسیات پر قابو پانے کی بجاے خارج میں اپنی ناکامی کے اسباب کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ اپنے دشمن تلاش کرتے ہیں مثلاً موجودہ برے سیاست دان،گذشتہ سیاست دان،مسلمان،بالی ووڈ میں چل رہی اقربا پروری،مال دار لوگ،مشہور افراد یا کوئی بھی ایسی شی جسے آپ اپنی ناکام زندگی کا ذمے دار ٹھہرا سکیں۔ یہ درست ہے کہ ہمارے ملک کا سسٹم خراب اور ناموافق ہے۔ مگر سوشل میڈیا پر بیٹھ کر اپنا وقت برباد کرنے سے آپ کو کچھ نہیں ملنا،ہاں اگر آپ اپنی ذات پر محنت کریں،تو اس سے فائدہ ہوگا۔

دوسروں کی شکایت کرتے رہنے کی عادت چھوڑیے،اپنی دنیا خود پیدا کیجیے،اپنے لیے ایک بہتر زندگی بنائیے اور اپنے آپ کو ایک بہتر شخصیت کے سانچے میں ڈھالیے۔ سوچیے کہ کیا آپ زیادہ سے زیادہ وہ کام کر رہے ہیں،جس کی آپ کے اندر صلاحیت ہے؟کیا آپ اتنی محنت کررہے ہیں،جتنی کہ کر سکتے ہیں؟جب تک اپنی زندگی میں کچھ کر نہ لیں،اس وقت تک کے لیے فون میں گھسے رہنے کی لت کو چھوڑ دیجیے۔ ہر کامیاب انسان نامناسب ماحول میں ہی اپنے لیے مناسب ماحول پیدا کرتا ہے،آپ بھی ایسا کر سکتے ہیں۔

بہت زیادہ نشہ آور ادویہ کے بر خلاف فورجی فون رکھنے،استعمال کرنے کو قانونی جواز حاصل ہے۔بچے بھی اپنی جیبوں میں فون رکھ سکتے ہیں۔ فون کے بے شمار فائدے بھی ہیں،اس کے ذریعے آپ اپنی معلومات میں اضافہ کر سکتے ہیں،آن لائن شاپنگ کر سکتے ہیں،آج کل آن لائن کلاسوں کا چلن بھی بڑھ رہا ہے۔ شخصیت کی نشوو نما اور بہت کچھ سیکھنے کے لیے بھی اس سے مدد لی جاسکتی ہے۔مگر ساتھ ہی یہ ایک نوجوان؛بلکہ ایک پوری نئی نسل کو برباد کرنے کا سبب بھی بن رہا ہے۔

یہ ہمارے ملک کے نوجوانوں پر ہے کہ وہ اس ملک کو کہاں لے جانا چاہتے ہیں۔ ذرا آپ اس ہندوستانی نسل کا تصور کیجیے،جس کے ہاتھوں ہمارے ملک کو آزادی نصیب ہوئی۔ وہ کتنی سنجیدہ تھی۔ اس نے اپنے آپ کو ملک کی آزادی کے لیے وقف کر دیا تھا،تب ہمیں آزادی ملی تھی۔ مجھے منڈل کمیشن اور ۲۰۱۱ کی اناہزارے تحریک اب بھی یاد ہے۔ تب نوجوانوں کو اپنے ملک کی فکر تھی۔ مگر آج کیا ہمارے نوجوانوں کو واقعی ملکی مسائل و معاملات سے کوئی دلچسپی ہے؟ یا کیا وہ کسی خبر پر اس اعتبار سے اپنے احساسات کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ کتنی سنسنی خیز،تفریحی یا عجیب و غریب ہے؟

ابھی ہمارے ملک کی اولین ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ ہم پھر سے معاشی ترقی کیسے حاصل کریں۔چین ہم سے پانچ گنا زیادہ مالدار ہے۔ آپ گوگل پر موجود چینی شہروں کی تصویریں دیکھ کر اندازہ لگا سکتے ہیں۔ وہاں تک پہنچنے کے لیے ہمیں بہت محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ مگر کیا ہم ایسا کریں گے؟یا ہم ایسے بے ضرر اشتہارات پر جھنجھلاتے رہیں گے،جن میں بین مذاہب شادی کے مناظر دکھائے جارہے ہیں؟آپ لوگ اپنے کریئر پر دھیان دیں گے یا نہ ختم ہونے والے ہندو مسلم جھگڑوں پر اپنا وقت اور انرجی برباد کریں گے؟ آپ اپنی زندگی بہتر بنانا چاہتے ہیں یا بالی ووڈ کے کے  مسائل سلجھانا چاہتے ہیں؟

آپ کو،یعنی آج کے نوجوانوں کو خود ان سوالوں کے جواب طے کرنا ہوں گے۔ کوئی لیڈر،کوئی اداکار یا کوئی ہیرو ہیروئن ان سوالوں کا جواب نہیں دے گا۔ آپ اپنے آپ کو اور اس ملک کو جہاں لے جانا چاہتے ہیں،لے جائیں،مگر آپ کا مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہندوستان کو غریب،مگر بے جا اکڑفوں دکھانے والا ملک بنانا ہے،آپ کا ہدف یہ ہونا چاہیے کہ ہندوستان کو ایک مالدار اور منکسرالطبع ملک بنانا ہے۔ فون کی لت سے چھٹکارا حاصل کیجیے ، اپنے آپ کو مفید کاموں میں مصروف کیجیے اور اپنی زندگی و ملک کے لیے کچھ اچھا کیجیے۔

آپ ایسی نسل بنیے جو ہندوستان کو آگے لے کر جائے گی،ایسی نسل مت بنیے،جو فور جی کے چکروں میں 4Gotten بن جائے۔

بہت پیار!

(اصل انگریزی مضمون آج کے ٹائمس آف انڈیا میں شائع ہوا ہے)

 

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*