اقلیتی اسکولوں کے بارے میں ایک چشم کشا سرکاری رپورٹ-سہیل انجم

تحفظ حقوق اطفال سے متعلق سرکاری کونسل، این سی پی سی آر، نے ابھی حال ہی میں ملک کے اقلیتی اسکولوں اور مدرسوں کا سروے کیا ہے اور اپنی رپورٹ جاری کی ہے۔ یہ رپورٹ چونکنے پر مجبور کرتی ہے۔ اس میں کئی ایسے انکشافات کیے گئے ہیں جن پر عام لوگوں کی نظر نہیں جاتی۔ کونسل نے پورے ملک میں 23,487 اقلیتی اسکولوں کا سروے کیا اور اس کے بعد ماہرین تعلیم کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔ اس نے مجموعی طور پر پانچ سے پندرہ سال کی عمر کے چار کروڑ 81 لاکھ 91 ہزار 351 طلبہ کا جائزہ لیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ان میں سے صرف آٹھ فیصد طلبہ اقلیتی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں ورنہ سب اکثریتی فرقے کے طلبہ ہیں۔ کونسل نے مسلمان، عیسائی، جین، سکھ، بودھ، پارسی اور دیگر لسانی اقلیتوں کے طلبہ کا سروے کیا۔ کونسل نے پایا کہ اقلیتی فرقے کے طلبہ کی صورت حال انتہائی تشویش ناک ہے۔ اس کے مطابق اسکول نہ جانے والے سب سے زیادہ بچے مسلم فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس سروے کا مقصد یہ جاننا تھا کہ اقلیتی فرقوں کی تعلیم سے متعلق دستور کی دفعہ 21 اے کے حوالے سے شق 15(پانچ) کے تحت رائٹ ٹو ایجوکیشن یعنی حق تعلیم کی ضروری دفعات سے اقلیتی تعلیمی اداروں کو مستثنیٰ کرنے کا اقلیتی طلبہ پر کیا اثر پڑا ہے۔ کونسل کی چیئرپرسن پرینکا قانون گو کے مطابق ہم نے اقلیتی تعلیمی اداروں اور بالخصوص مدرسوں کا جائزہ لیا ہے۔ ہم نے پایا کہ عیسائی مشنری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے 74 فیصد طلبہ اکثریتی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق عیسائی اقلیتی آبادی کے 11.54 فیصد ہیں اور ان کے اسکولوں کی تعداد 71.96 فیصد ہے۔ جبکہ مسلمان اقلیتی آبادی کا 69.18 فیصد ہیں اور ان کے اسکولوں کی تعداد 22.75 فیصد ہے۔ اقلیتوں میں سکھوں کی آبادی 9.78 فیصد ہے اور ان کے اسکولوں کی تعداد ایک اعشاریہ 54 فیصد ہے۔ اسی طرح بودھ تین اعشاریہ 83 فیصد ہیں اور ان کے اسکولوں کی تعداد صفر اعشاریہ 48 فیصد ہے۔ جین ایک اعشاریہ نو فیصد ہیں اور ان کے اسکولوں کی تعداد ایک اعشاریہ 56 فیصد ہے۔
رپورٹ کے مطابق ملک میں تین قسم کے مدارس ہیں۔ حکومت سے تسلیم شدہ، جہاں مذہبی اور سیکولر تعلیم دونوں دی جاتی ہے۔ غیر تسلیم شدہ مدارس جو رجسٹریشن کی شرائط پوری نہ کر پانے کی وجہ سے حکومت سے تسلیم شدہ نہیں ہیں۔ تیسرا زمرہ ان مدار س کا ہے جنھوں نے حکومت میں رجسٹریشن کے لیے کبھی اپلائی ہی نہیں کیا۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق صرف چار فیصد مسلم بچے مدارس میں داخلہ لیتے ہیں۔ کونسل نے اقلیتی تعلیمی اداروں میں طلبہ کے انرولمنٹ کا جائزہ لیا تو پایا کہ غیر اقلیتی فرقوں کے ساڑھے باسٹھ فیصد طلبہ نے ان اقلیتی اسکولوں میں داخلہ لیا ہے۔ سب سے زیادہ غیر اقلیتی طلبہ جین اسکولوں میں ہیں یعنی 81.41 فیصد۔ جبکہ مسلم اقلیتی اسکولوں میں غیر اقلیتی طلبہ کا فیصد سب سے کم یعنی 20.29 فیصد ہے۔ عیسائی اسکولوں میں 74.01 فیصد غیر عیسائی طلبہ ہیںاور سکھ اسکولوں میں 75.50 فیصد غیر سکھ طلبہ ہیں۔ کونسل نے یہ دیکھنے کے بعد کہ اقلیتی اسکولوں میں اکثریتی طلبہ کی اکثریت ہے، ان اسکولوں میں اقلیتی طلبہ کے ریزرویشن کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مدارس کے نصاب میں جو کہ صدیوں پر محیط ہے، یکسانیت نہیں ہے۔ وہاں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ دنیا کے دوسرے بچوں کے مقابلے میں کم علم ہیں۔ بہت سے طلبہ میں احساس کمتری پیدا ہو جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ دنیا کے دیگر بچوں کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہو پاتے۔ اس کے علاوہ مدرسوں میں اساتذہ کی ٹریننگ کا بھی کوئی انتظام نہیں ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2006 میں 93 ویں ترمیم کے بعد بڑی تعداد میں مسلم اسکولوں نے اقلیتی تعلیمی اداروں کا سرٹی فکٹ حاصل کیا۔ 2005 اور 2009 کے درمیان 85 فیصد اسکولوں کو اقلیتی اداروں کا سرٹی فکٹ ملا۔ اس کے بعد 2010 اور 2014 کے درمیان ان اسکولوں نے سب سے زیادہ اقلیتی سرٹی فکٹ حاصل کیے۔ رپورٹ یہ بھی کہتی ہے کہ مغربی بنگال میں اقلیتی آبادی کا 92.47 فیصد حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے جبکہ عیسائی اقلیتی آبادی میں 2.47 فیصد ہیں۔ آبادی میں اس بڑے فرق کے باوجود عیسائیوں کے 114 اسکول ہیں اور مسلم اقلیتی درجے کے صرف دو اسکول ہیں۔ اسی طرح اترپردیش میں اقلیتوں میں عیسائی آبادی ایک فیصد سے بھی کم ہے اور ریاست بھر میں 197 عیسائی مشنری اسکول ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بڑی تعداد میں مسلم اقلیتی طلبہ اسکول جاتے ہیں لیکن اقلیتی اسکولوں میں ان کی موجودگی صرف آٹھ فیصد ہے۔ باقی طلبہ غیر مسلم تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ رپورٹ نے سفارش کی ہے کہ مدرسوں سمیت تمام اقلیتی اسکولوں کو دستور کی دفعہ 21 اے اور سرو شکشا ابھیان کے تحت لایا جائے۔ سرو شکشا ابھیان تمام بچوں کے لیے تعلیم کو یقینی بنانے کا ایک فلیگ شپ پروگرام ہے۔
اس رپورٹ کے روشنی میں کئی باتیں ابھر کر سامنے آتی ہیں جن پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ مسلم طلبہ کی اکثریت غیر مسلم اقلیتی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے جاتی ہے۔ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلم تعلیمی اداروں میں تعلیم کا معیار بہتر نہیں ہے یا پھر وہاں بنیادی ڈھانچے کی کمی ہے۔ یا پھر اساتذہ غیر تربیت یافتہ ہیں۔ لیکن اگر ایسا ہے تو ان اسکولوں میں اکثریتی طلبہ زیادہ کیوں ہیں۔ مسلم طلبہ مسلم اسکولوں میں تعلیم کیوں حاصل نہیں کرتے اس پر اسکولوں کے ذمہ داروں کو غور کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ یہ بھی بڑی افسوسناک بات ہے کہ ہندوستان میں اقلیتوں میں مسلم اقلیت کا فیصد سب سے زیادہ ہے لیکن ان کے تعلیمی ادارے سب سے کم ہیں۔ کیا اس کی وجہ مدارس ہیں۔ کیا ایسا ہے کہ مسلم طلبہ کی بڑی تعداد مدارس میں تعلیم حاصل کرتی ہے اس لیے اسکولوں میں ان کا فیصد کم ہے۔ حالانکہ سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق صرف چار فیصد مسلم بچے ہی مدارس میں جاتے ہیں۔ یہ سوال بھی بہت اہم ہے کہ مسلمانوں کے تعلیمی ادارے انتہائی کم کیوں ہیں۔ کیا وہ اسکول کھولنے میں دلچسپی نہیں رکھتے یا ان کو اسکول کھولنے کی سہولتیں نہیں ملتیں۔ یا غربت اس کی ایک وجہ ہے۔ غربت تو اس کی وجہ نہیں ہو سکتی۔ اگر چہ مسلمانوں کی اقتصادی و مالی حالت بہت اچھی نہیں ہے لیکن صاحب استطاعت مسلمانوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ مسلمانوں میں مخیر حضرات نہیں ہیں۔ ان کی تعداد بھی خاصی ہے۔ تو کیا ان کی نوازشیں اسکولوں کے بجائے مدرسوں کی جانب منتقل ہو جاتی ہیں۔
اس وقت مجھے اپنے بچپن کا ایک واقعہ بار بار یاد آتا ہے۔ ہمارے علاقے میں اونچی یعنی چودھری برادری کے ایک شخص تھے جن کا نام گولا چودھری تھا۔ انھوں نے اپنے ذاتی کھیت میں مسلمانوں کے لیے ایک ہائی اسکول کھولا۔ کسی طرح کچھ کمرے تعمیر کروائے۔ فنڈ کی کمی پڑ گئی تو انھوں نے ممبئی کے مسلم سیٹھوں کا رخ کیا۔ وہ بار بار ممبئی جاتے لیکن انھیں کامیابی نہیں ملتی۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمان انگریزی تعلیم حاصل کریں۔ ہم لوگ چونکہ پہلے اسکول، پھر کالج اور پھر یونیورسٹی میں گئے لہٰذا وہ ہم لوگوں پر بہت مہربان رہتے اور بلا بلا کر ہم لوگوں سے گفتگو کرتے۔ جبکہ ان میں اور ہم لوگوں میں کم از کم تیس سال کا فرق رہا ہوگا۔ وہ اس بات کے بہت شاکی تھے کہ ممبئی کے مسلم دھنا سیٹھوں کو بھی مسلمانوں کی انگریزی تعلیم سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ یہ ستر اور اسی کی دہائی کی بات ہے۔ اس وقت ممبئی کے چندوں سے ملک بھر کے مدارس چلتے تھے۔ ان کو اس بات کا بہت احساس تھا کہ مدرسے کے نام پر کوئی بھی چلا جائے اس کو چندہ مل جاتا ہے لیکن وہ برسوں سے اسکول کے نام پر اور وہ بھی مسلم بچوں کی تعلیم کے لیے قائم کیے گئے اسکول کے نام پر تعاون مانگ رہے ہیں لیکن ان کی جانب دست تعاون بڑھانے والے مسلمانوں کی شدید قلت ہے۔ بہرحال یوں تو مذکورہ رپورٹ کی روشنی میں بہت سے سوالات اٹھ رہے ہیں لیکن فی الحال اگر یہاں بیان کیے گئے ان سرسری سوالوں کے ہی جواب ڈھونڈ لیے جائیں تو بھی ایک تعمیری کام ہوگا۔