اے ایم یو میں طلبہ پرتشدد معاملے پر الہ آباد ہائی کورٹ سخت

مرکز اور یوپی حکومت سے جواب طلب، پولیس سے بھی مانگی رپورٹ
الہ آباد: شہریت ترمیم قانون کو لے کر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہوئے لاٹھی چارج اور ہنگامے پر الہ آباد ہائی کورٹ نے مرکز اور یوپی حکومت سے جواب طلب کر لیا ہے۔کورٹ نے دونوں حکومتوں سے پوچھا ہے کہ آخر کیمپس میں گھس کر لاٹھی چارج کرنے اور یونیورسٹی کو بند کئے جانے کی نوبت کیوں آئی،انہیں اس بات کا بھی جواب دینا ہوگا کہ کیوں نہ اس ہنگامے کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیاجائے۔ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے اس معاملے میں یوپی کے آئی جی لاء اینڈ آرڈر اور علی گڑھ کے ایس ایس پی سے اب تک کی گئی کارروائی کی تفصیلات طلب کی ہے۔اس کے ساتھ ہی اے ایم یو کے وائس چانسلر سے یونیورسٹی کو بند کرکے عام طالب علموں کی پڑھائی کا نقصان ہونے کی وجہ پوچھی ہے۔عدالت نے تمام کو اپنا جواب داخل کرنے کے لئے دو ہفتے کی مہلت دی ہے۔کورٹ اس معاملے میں دو جنوری کو دوبارہ سماعت کرے گی۔اس معاملے کی سماعت کے دوران درخواست گزار کی طرف سے پیش کی گئی تصاویر پر تلخ تبصرہ کرتے ہوئے کورٹ نے کہا کہ وہاں تو جنگ جیسے حالات نظر آ رہے ہیں۔کورٹ اس معاملے میں دو جنوری کو دوبارہ سماعت کرے گی۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں شہریت ترمیم قانون پر 15 دسمبر کو ہوئے ہنگامہ کی عدالتی جانچ کرائے جانے، زخمی طالب علموں کا علاج کرائے جانے، حراست میں لئے گئے اسٹوڈنٹس کی غیر مشروط رہائی اور یونیورسٹی کو کھول کر وہاں پڑھائی کا ماحول بنائے جانے کی مانگ کو لے کر اے ایم یو کے سابق طالب علم محمد امن نے کل الہ آباد ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔سپریم کورٹ کی ہدایت پر اس معاملے کی سماعت آج نمبر کے بغیر ہی چیف جسٹس کورٹ میں ہوئی۔کورٹ نے اس معاملے میں مرکز اور یوپی حکومت سے جواب طلب کیا تو ساتھ ہی یوپی کے آئی جی لاء اینڈ آرڈر اور علی گڑھ کے ایس ایس پی سے پورے معاملے کی تفصیلی پیش کرنے کو کہا ہے۔کورٹ نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے بھی جواب طلب کیا ہے۔عرضی میں کہا گیا تھا کہ پولیس نے وہاں وحشیانہ کارروائی کی ہے،تمام طالب علم زخمی ہوئے ہیں،بہت کو اب بھی حراست میں رکھا گیا ہے۔کورٹ نے کہا ہے کہ جو بھی طالب علم اپنا موقف رکھنا چاہتے ہیں، وہ بھی دو جنوری کو ہونے والی اگلی سماعت میں وکیل کے ذریعہ اپنی بات رکھ سکتے ہیں،معاملے کی سماعت چیف جسٹس گووند ماتھر اور جسٹس وویک ورما کی ڈویژن بنچ میں ہوئی۔