علی گڑھ یونیورسٹی میں کرونا کی نئی قسم کی موجودگی کا خدشہ،بڑی تعداد میں پروفیسران کی موت کے بعد سیمپل تفتیش کےلیے بھیجا گیا

علی گڑھ:گزشتہ20 دنوں میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے 19 پروفیسران کی موت کی وجہ سے یونیورسٹی انتظامیہ سکتے میں ہے ۔ اے ایم یو کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے اب اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ علی گڑھ میں ایک نئی قسم کی کوروناکی موجودگی کا شبہ ہے ۔ انہوں نے اس سلسلے میں آئی سی ایم آر کو ایک خط بھیجا ہے ، جس میں کووڈ- 19 کے نمونوں کی جینوم ٹیسٹنگ کی درخواست کی ہے۔ خط میں آئی سی ایم آر کے متعلقہ سیکشن اور ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہماری لیب سے بھیجے گئے کوویڈ 19 سیمپل کا تجزیہ کریں، تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ کووڈوائرس کی کوئی نئی قسم علی گڑھ میں دریافت تو نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے آئی سی ایم آر سے ہدایت کی ہے کہ وبا کے خاتمے کے لئے موزوں اقدامات کی تجویز پر غور کریں۔وائس چانسلر نے لکھا کہ یہ ملحوظ رہے کہ 16 یونیورسٹی اساتذہ اوردوسرے ریٹائرڈ اساتذہ اور ملازمین ، جو یونیورسٹی کیمپس اور آس پاس کے علاقوں میں مقیم تھے ، کرونا کے باعث انتقال کر گئے ہیں۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یونیورسٹی سے متصل سول لائنز علاقہ میں ایک خاص قسم کا وائرس پھیل رہا ہے۔