اے ایم یوکے متعدد اساتذہ کا سانحۂ ارتحال،وائس چانسلر کا اظہارِ تعزیت

علی گڑھ:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل (اے سی) کے سابق ممبر اور میوزیولوجی شعبہ کے سربراہ اور اے ایم یو گیس کے سابق ممبر ڈاکٹر محمد عرفان کا مختصر علالت کے بعد انتقال ہو گیا۔ وہ 61 سال کے تھے۔ان کی ناگہانی رحلت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے ڈاکٹر عرفان کے سوگوار کنبہ کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کیا ۔ انہوںنے کہا کہ ڈاکٹر محمد عرفان نہایت فرض شناس، باہمت اور ایک بہترین استاذ کی خوبیوں سے متصف ہونے کی مثال کے طور پر ہماری دعائوں میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ سے دعا ہے کہ غم کی اس گھڑی میں ان کے اہل خانہ کو صبر حاصل ہو۔پروفیسر طارق منصور نے کہا کہ ڈاکٹر عرفان ایک محنتی استاد تھے اور اپنے طلباء کے ساتھ علم بانٹنا پسند کرتے تھے۔ ان کی موت سے یونیورسٹی کو اورخود انہیںبڑا ذاتی نقصان پہنچا ہے۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سینٹر فار ویمن اسٹڈیز میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عزیز فیصل کا مختصر علالت کے بعد انتقال ہوگیا۔اے ایم یو کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے ان کی وفات پر تعزیت کرتے ہوئے کہاکہ میں ڈاکٹر فیصل کی قبل از وقت موت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتا ہوں۔ پوری اے ایم یو برادری نے ان کے نا وقت انتقال پر گہرے رنج کا اظہار کیا ہے۔ وہ ایک ممتاز اور بااثر محقق اور استاد تھے۔ پروفیسر عذرا موسوی (ڈائریکٹر، سنٹر فار ویمن اسٹڈیز) نے سوگوار کنبہ کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ اس غم کی گھڑی میں وہ ان کے ساتھ ہیں۔ڈاکٹر فیصل متعدد تعلیمی اداروں کے ممبر تھے جن میں علی گڑھ ہسٹورین سوسائٹی، انڈین ہسٹری کانگریس اور آل انڈیا مہیلا سنگھ شامل ہیں۔ انہوں نے ہندوستان میں انتخابی اور سماجی رجحانات میں سنٹر برائے ریسرچ اور بنگلور یونیورسٹی، اوہایو اسٹیٹ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے اسٹیٹ اینڈ سوسائٹی پروجیکٹ کے ریسرچ انوسٹی گیٹر کے طور پر بھی کام کیا۔ڈاکٹر فیصل نے ویمن اسٹڈیز سنٹر میں پڑھانے کے علاوہ، اے ایم یو کے ویمنس کالج اور ہسٹری ڈیپارٹمنٹ میں بھی تدریسی فرائض انجام دیے۔ انہوں نے متعدد جرائد میں تحقیقی مقالے شائع کیے اور کتابی جائزے لکھے۔ صنفی تاریخ ان کا اہم موضوع تھا۔ ڈاکٹر فیصل نے 2008 میں اے ایم یو سے پی ایچ ڈی کی تعلیم مکمل کی۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ممتاز استاد اور شعبہ تعلیم کے سابق چیئرمین پروفیسر نبی احمد مختصر علالت کے بعد انتقال کر گئے۔وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے ان کے انتقال پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر احمد مشہور ماہر تعلیم اور اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل استاد تھے اور ان کی موت ان کا اور یونیورسٹی برادری کا ایک بڑا نقصان ہے۔وائس چانسلر نے کہا کہ پروفیسر احمد طلباء اور ساتھیوں میں بے حد مقبول تھے اور ان کا ہمیشہ یہ مقصد رہا کہ وہ اپنے کام کو عمدگی کے ساتھ مکمل کریں۔پروفیسر احمد نے کئی حیثیتوں میں اے ایم یو کی خدمات انجام دیں اور شعبہ تعلیم کے چیئرمین کے ساتھ ساتھ ڈِس ایبلٹی یونٹ کے کوآرڈینیٹر کی حیثیت سے اپنی مدت پوری کی۔شعبہ تعلیم کے زیر اہتمام آن لائن تعزیتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شعبہ کے قائم مقام صدر پروفیسر مجیب الحسن صدیقی نے کہا کہ پروفیسراحمد کے ناوقت انتقال سے تعلیمی دنیا میں ایک خلا پیدا ہوگیا ہے جس کی تلافی بہت مشکل ہے۔پروفیسر نسرین نے کہاہے کہ پروفیسر احمد بہترین تعلیمی صلاحیتوں کے حامل استاد اور محقق تھے اور انہوں نے بہت سارے طلباء کو اعلیٰ درجے کی تعلیم دی۔پروفیسر محمد پرویز نے پروفیسر احمد کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اعلی اخلاقی اقدار کے حامل شخص تھے اور ہمیشہ یونیورسٹی کی ترقی کے لیے فکر مندرہتے ہیں۔اس موقع پر پروفیسر گنجن، پروفیسر ساجدجمیل اور پروفیسر عابد صدیقی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔