علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کیخلاف تبصرہ ، ہندو مہاسبھا لیڈر پرمقدمہ درج

علی گڑھ:علی گڑھ پولیس نے ہندو مہاسبھا کے قومی ترجمان اشوک پانڈے کے خلاف مقدمہ درج کیاہے۔ ایک انٹرویو میں پانڈے نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے طلبہ کو دہشت گرد اورادارہ کو دہشت گردوں کا اڈہ قرار دیا تھا، جس کی وجہ سے ان پر یہ کاروائی کی گئی ہے۔ اے ایم یو کے عہدیداروں کی طرف سے درج شکایت کے بعد سول لائنز پولیس نے پانڈے کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 153 اے، 153 بی اور 505 (2) کے تحت مقدمہ درج کیاہے۔ایف آئی آر کے مطابق پانڈے نے ایک نیوز چینل کو انٹرویو کے دوران اے ایم یو کے بانی سرسید احمد خان کو غدار اور یونیورسٹی کو دہشت گردوں کا اڈہ کہاتھا۔ اس شکایت میں اے ایم یو انتظامیہ نے بتایا کہ اس سے نہ صرف یونیورسٹی کا ماحول خراب ہوسکتا ہے بلکہ شہر میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔اے ایم یو کے ترجمان شافع قدوائی نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کا جائزہ لیتے ہوئے پولیس نے پانڈے کے خلاف شکایت درج کی ہے۔ اے ایم یو کے ترجمان نے کہاکہ ہم نے مطالبہ کیا ہے کہ ویڈیو کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے ہٹا یا جائے کیونکہ اس سے دونوں برادریوں میں اختلافات پیدا ہوسکتے ہیں، ہم نے ملزموں کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔اے ایم یو کے عہدیداروں کے مطابق پانڈے کا یہ متنازعہ بیان اس وقت سامنے آیا، جب مرکزی وزیر تعلیم رمیش پوکھریال نشنک نے یونیورسٹی کی تعریف کی تھی اور اس کے بانی، اساتذہ اور طلبہ کو قوم پرست کہا تھا۔ نشنک نے اگست میں یونیورسٹی کے ایک امتحان مرکزکا آن لائن کا افتتاح کرتے ہوئے یہ بات کہی تھی۔