Home مباحثہ مسلم یو نی ورسٹی پھر سے بحران کا شکار – عبداللہ علیگ

مسلم یو نی ورسٹی پھر سے بحران کا شکار – عبداللہ علیگ

by قندیل

اے ایم یو کے بنگال سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم کو معطل کر دیا گیا ہے۔ اس پر الزام ہےکہ اس نے یوم جمہوریہ کے موقع سے، حب الوطنی کے دیگر نعروں کے علاوہ نعرہ تکبیر اللہ اکبر کا نعرہ بھی لگا دیا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسے نعرہ پر کوئی قانونی پابندی ہے؟ یا محض ایک نادانی ہے، جس پر طالب علم کو متنبہ کر دینا ہی کافی ہوتا؟ کیا اتر پردیش اور بہار سے تعلق رکھنے والے کسی طالب علم کےخلاف ایسی کارروائی کی جسارت یونی ورسٹی انتظامیہ کر پاتی؟ ان صوبوں کے طلبا کو اساتذہ کی حمایت رہتی ہے، یہ لوگ یونی ورسٹی کے صدر دروازہ، باب سید کو بند کر کے احتجاج کر پاتے ہیں اور اس لیے یو نی ورسٹی انتظامیہ دباؤ میں رہتی ہے۔ کہا یہ بھی جا رہا ہے کہ پہلی بار اے ایم یو انتظامیہ نے یوم جمہوریہ کی پریڈ میں علی گڑھ شہر کے دیگر کالجوں کے طلبا کو بھی شامل کر لیا تھا، اور ان لوگوں نے اپنے مذہب سے متعلق کچھ نعرے لگائے اور اس سے “مشتعل” ہو کر وہ بنگالی طالب علم بھی اپنے مذہب سے متعلق نعرہ لگا دیا۔ اندرون یونی ورسٹی کے چند لوگوں کا تو ماننا یہ ہے کہ یہ سب کچھ یونی ورسٹی انتظامیہ نے اس لیے کروایا تاکہ بحران کا ماحول بنے‌ اور اگلے وائس چانسلر کا پینل بنانے کے بجائے موجودہ وائس چانسلر ہی مزید ایک برس کی توسیع پا لیں۔ ان باتوں کی تو حکومت کی جانب سے کوئی تفتیش ہوگی، تبھی لوگوں کوحقیقت معلوم ہو پائے گی۔ یاد رہے کہ کچھ برس قبل بھی یوم جمہوریہ کے پریڈ میں چند طلبا نے ہاکی اسٹک لے کر ہنگامہ آرائی کی تھی ، ان طلبا کا آج تک کچھ نہ بگڑا۔ بلکہ یونی ورسٹی کے لوگوں کی رائے ہے کہ ان عناصر کو یونی ورسٹی انتظامیہ کی کھلی پشت پناہی حاصل ہے۔

قانون کے استاد ہی یونی ورسٹی کے پراکٹر ہیں، قانون کے استاد کے والد وائس چانسلر ہیں اور وائس چانسلر کے والد یو نی ورسٹی میں قانون کے استاد رہ چکے ہیں۔ اگلا وائس چانسلر بننے کے متمنی حضرات اس بابت خاموش ہیں۔ سابق وائس چانسلروں کی ٹیم، مع دیگر مسلم خواص، آر ایس ایس سے ملاقاتیں کر رہی ہے۔ کالم نگاری کرنے والے پروفیسر حضرات اپنے کالموں میں ان سوالوں سے گریز کر رہے ہیں۔ ان حضرات کی حالت دیکھیے ۔

دہلی کے ٹائمز آف انڈیا میں 24 جنوری کو شائع خبر سے معلوم ہوا کہ یہ حضرات، مع دیگر عمائدین، آر ایس ایس کے سر سنگھ چالک موہن بھاگوت کے نام زد چند افراد کی ایک ٹیم (کرشن گوپال، اندریش کمار اور رام لال) سے ملاقات کی خاطر نجیب جنگ صاحب کے گھر پر 14 جنوری کو مہمان ہوئے۔ جہاں میزبان کے علاوہ شاہد صدیقی (مدیر، نئی دنیا)، سعید شیروانی کے علاوہ جماعتوں اور جمیعتوں جیسی تنظیموں کے لوگ بھی تھے۔ بلکہ ایک دن قبل 13 جنوری کو قوم کے یہ رہبران، شاہد صدیقی کے مکان پر اسی غرض سے مہمان ہوئے تھے۔ جماعت اسلامی کے لئیق احمد اور ملک محتشم خاں بھی حاضر تھے۔

اب غور کرنے والی بات یہ ہے کہ رہبران ملت این آر سی، جیلوں میں بند مسلم نوجوان، اور ایسے مسائل پر کوئی گفتگو نہیں کر پائے۔ یہ معاملات ان کی ترجیحات میں شامل نہیں تھے شاید؟ یا یہ کہ مذکورہ خبروں میں ایسی کوئی وضاحت نہیں آئی ہے۔

آر ایس ایس کے بجائے سرکار کے وزیر یا وزیر اعظم سے ملاقات زیادہ موزوں ہوتا یا آر آر ایس ایس ہی سے ملنا موزوں تھا، یہ بحث طلب بات ہے؟
اے ایم یو میں وائس چانسلر اپنا پانچ سال پورا کر کے، ایک توسیع لے چکے ہیں اور مئی 2023 میں اس توسیعی مدت کو بھی پورا کر لیں گے۔ افواہیں ہیں کہ دوسرے سال کی توسیع کی درخواست بھی حکومت کو بھیج چکے ہیں۔ سوال یہ ہےکہ سابق وائس چانسلر حضرات (جو اے ایم یو کورٹ کے ممبر بھی ہیں) حکومت سے یہ کیوں نہیں عرض کرتے کہ اگلے وائس چانسلر کا پینل بنوائیں۔ کیا اے ایم یو کے اسٹیچیوٹ میں دوسرے برس کی توسیع کی گنجائش ہے؟ اگر ہے بھی تو اگلے وی سی کا پینل نہ بننے دینے کا جواز کیا ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ اگلا وائس چانسلر بننے کے آرزومند اور ان کے حامی کیوں خاموش ہیں؟ اس سوال پر میڈیا کی معرفت ہی حکومت کو آگاہ کر دیتے!

جنوری کی 29 تاریخ 2023ء کو اے ایم یو کے قانون کے پروفیسر نے انڈین ایکسپریس میں ایک کالم لکھا ہے۔ کیا کمال کا کالم ہے۔ جہاں اپنے سابق کالموں میں بھاگوت کی تعریف، ہندو راشٹر کا خیر مقدم، اور سیکولرازم کی شاطرانہ مخالفت کر چکے ہیں (اس کی تفصیل، ابو مصلح کے مضمون، بہ عنوان،  “فیضان مصطفے کا ایک روپ یہ بھی ہے”، میں ایک برس سے بھی زیادہ قبل دی جا چکی ہے، اس کو قندیل اور دیگر پورٹلوں نے بھی شائع کیا تھا)، وہیں 29 جنوری 2023ء کے مذکورہ کالم میں اچانک فیضان مصطفے نے بھاگوت کی نرم شکایت شروع کر دی۔ کہا جاتا ہے کہ ان دنوں وزیر اعظم اور نیشنل سیکوریٹی صلاح کار، اجیت ڈوال بھی یہی چاہتے ہیں کہ بھاگوت جی کو زیادہ بھاؤ نہ دیا جائے۔ یوں بھی بھاگوت آر ایس ایس کے اندر ہی بہ وجوہ رفتہ رفتہ نا مقبول ہوتے جا رہے ہیں۔

اسی کالم میں فیضان مصطفے نے نہایت چالاکی سے ہندوتوا کے نظریاتی بانی ساورکر کے حوالے سے 1857 اور ہندو مسلم ایکتا والی بات دہرا دی۔

سبھی پڑھے لکھے لوگوں کو یہ معلوم ہے کہ کالا پانی کے جیل کی قید کے بعد کے ساورکر یعنی ہندوتوا والے ساورکر اور قید سے پہلے کے ساورکر کا فرق کیا ہے، اور ہندوتوا، ہندو مہاسبھا، اور گوڈسے کے گرو، ساورکر کی بات کیا ہے۔ سبھی کو اب تک یہ بھی معلوم ہو چکا ہے کہ سنہ 1966ء میں اپنی موت سے قبل ساورکر نے مراٹھی زبان میں ایک کتاب لکھ کر چھہ گلورئس لمحات کا ذکر کرتے ہوئے، اس کتاب میں مسلم عورتوں کی عصمت دری کی ترغیب بھی دے ڈالی ہے۔ یعنی بھاگوت کی نرم شکایت، اور ساورکر کی چالاکی بھری تعریف لکھ کر، جہاں ایک طرف حکومت کے لوگوں کو خوش کر لیا، وہیں دوسری طرف بھولی بھالی قوم کو بے وقوف بنائیں گے کہ دیکھو ہم نے آر ایس ایس کی تنقید کر دی۔

واضح رہے کہ فیضان مصطفے کی کم از کم تین کتابیں جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے پبلیکیشن ہاؤس نے شائع کی تھی۔ یاد رہے کہ 21 مارچ 2020ء کے انڈین ایکسپریس میں وہ یہ لکھ چکے ہیں کہ اقلیتیں بھی بھارت میں سیکولرازم کے ڈھونگ سے اکتا چکی ہیں، اور یہ کہ ہندو راشٹر کا خیر مقدم کیا جائے۔ یعنی مسلمانوں کا یہ حصہ اس شخص کی حمایت میں نظریاتی طور پر کھڑا ملے گا۔ ہو سکتا ہے، اس حمایت سے اے ایم یو کے اگلے وائس چانسلر بن جائیں۔ کیوں کہ ایمرجنسی کے عہد میں اس جماعت اور آر ایس ایس کے درمیان بھائی چارگی رہ چکی ہے۔ اس میں تب کے “شاہی” امام بھی شامل تھے)۔ لیکن فیضان مصطفے نے آج تک کسی بڑے rigorous پبلیکیشن ہاؤس سے کوئی کتاب نہیں چھپوائی ہے؛ صرف زود نویسی اور بسیار نویسی والی کالم نگاری کرتے ہیں اور قومی یوٹیوبر بنے ہوئے ہیں۔ فیضان مصطفے کی مسلم رائٹ ونگ سے وابستگی کی بات کو رویش کمار کبھی بھی اجاگر نہیں کریں گے، کیوں کہ بھارتی سیکولرسٹس کے ایک بڑے گروہ کو مسلم فرقہ پرستی سے کوئی شکایت نہیں ہے۔

اب ذرا 14 جنوری 2023ء کو آر ایس ایس سے ملاقات کرنے والی مسلم وفد کے افراد کی جماعتی وابستگی سے اس کالم نگار کا تعلق دیکھئے۔ (ایس وائی قریشی اور فیضان مصطفے کی قرابت داری جو ہے، وہ ایک الگ معاملہ ہے؛ یہ بھی ایک الگ معاملہ ہے کہ نجیب جنگ صاحب اور امبانی کے تعلقات اس وقت کیسے تھے جب وہ وزارت پٹرولیم میں آئی اے ایس افسر کے طور پر تعینات تھے، اور جنگ صاحب نے جامعہ ملیہ کی وائس چانسلری کس طرح چلائی تھی، اور پھر دہلی کے لیفٹینینٹ گورنر بن بیٹھے تھے)۔

اپنے مذکورہ کالم، اور دیگر کالموں میں فیضان مصطفے یہ لکھتے ہیں کہ ہندوتوا کی پیریستروئیکا (کھلے پن) سے مسلمانوں کو بہتر امید رکھنی چاہئے۔ یاد رہے، کہ پیریستروئیکا سے سویت روس کا زوال ہو گیا تھا۔ اب، فیضان مصطفے کی اس تجویز سے مسلمان خوش ہوںگے، یا ہندوتوا والے، یہ تو ایک پیچیدہ معاملہ ہے؟ مذکورہ کالم میں فیضان مصطفے خود کو عوامی دانش ور کی رائے کے بجائے اب ناصح کا درجہ بھی دینے لگے ہیں، کہ، ان کا کوئ مشورہ تھا جو، مسلمانوں نے نہیں مانا۔ ارے بھائ، پبلک انٹیلیکچوئل اپنی رائے برائے بحث دیتا ہے، لیکن نا صحانہ مشورہ تو مذہبی پیشوا دیا کرتے ہیں۔

موصوف کا 28 دسمبر 2022ء کا انڈین ایکسپریس میں کالم پڑھیے ۔ امریکی استعماری زبان میں یہ بھی افغانستان میں اچھے یا اسلامی طالبان اور برے یا غیر اسلامی طالبان کی بات کر رہے ہیں۔ لیکن ان کے اندر اخلاقی جسارت ہو تو بھارت کے اندر کے ہندو اور مسلم طالبان یعنی شدت پسندوں کے خلاف لکھ دیں۔ افغانستان کے موجودہ بر سر اقتدار طالبان، عورتوں پر جو مظالم کر رہے ہیں، ویسے مظالم کرنے والے بھارت کے مسلم پرسنل لاء بورڈ کی حمایت فیضان مصطفے کرتے رہتے ہیں۔ غیر قرآنی طلاق ثلاثہ پر ان کا موقف رجعت پرستانہ ہے۔ سنہ 2017 میں لاء بورڈ کے موقف کی حمایت، انگریزی میڈیا میں، اگر کسی ایک مسلم کالم نگار نے دیا ہے، تو وہ یہ شخص ہے۔ غیر رجعت پسندوں کو بہلانے کے لئے یہ تاویل دیتے ہیں کہ وہ صرف طلاق ثلاثہ کے جرمیائےجانے (criminalisation) کے خلاف ہیں۔ یہ ایک بہلاوا ہے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ غیر قرآنی طلاق ثلاثہ کے سوال پر ان کی خاموش تائید رہی ہے، لاء بورڈ کی حمایت میں۔ اس طلاق کو مودی حکومت کے ذریعہ جرمیائے جانے کی تاریخ سے قبل کے ان کے کالموں کو پڑھئے، ان کی حقیقت عیاں ہو جائے گی۔

المختصر یہ کہ مغربی اتر پردیش کے مسلم خواص، عام مسلمانوں کی قیمت پر، اپنا مفاد حاصل کرتے رہیں گے۔ حکومت بھی ایسے ہی عناصر کو عہدوں سے سرفراز کرتی رہے گی۔ سنہ 2014 سے قبل بھی یہی ہوتا رہا، سنہ 2014ء کےبعد بھی یہی ہوتا رہے گا۔

بیزاری سے بھرا یہ مضمون، قوم کو مایوس کرنے کے لیے نہیں لکھا جا رہا ہے۔ بلکہ اس لئے لکھا جا رہا ہے کہ، قوم کے عام لوگ، اپنے خواص، دانشور، اور مختلف ملی جماعتوں سے وابستہ قوم فروش افراد کے مفاد پرستانہ کردار سے آگاہ رہیں، اور اسی روشنی میں اپنا لائحۂ عمل تیار کریں۔

یعنی مغربی اتر پردیش کے مسلم خواص، اور دیگر بھارتی مسلمان، دو مختلف ، بلکہ بڑی حد تک متصادم، کیٹیگری ہیں، اس کا ادراک قوم کو اگر اب تک نہ ہو سکا ہے، تو اب بالکل واضح ہو جانا چاہئے۔

یوں بھی، غور کیجیے کہ، بمبئ کی انجمن اسلام، رفیق زکریا کی تحریک اور تعاون سے قائم شدہ تعلیمی اداروں کا قابل تعریف نٹورک، اور جنوبی ہند کے مسلمانوں کے تعلیمی اقدام، اور کیپیسیٹی بلڈنگ کو دیکھئے، ماشاءاللہ۔  اور اس کے برعکس مغربی اتر پردیش کے مسلم خواص کی کارکردگی کا موازنہ اس مخصوص تناظر میں کیجئے، تو، سب کچھ سمجھ میں آ جا ئے گا۔ مغربی اتر پردیش کے یہ مسلم خواص، حکومت کی فنڈ پر چلنے والی مسلم یونی ورسٹی پر مکمل طور پر قابض ہیں۔ حکومت سے ملنے والے عہدوں پر بھی یہی لوگ اپنی اجارہ داری سمجھتے ہیں۔ مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے تحت بھی، علی گڑھ سے باہر، ایک بھی رہائشی کالج ان لوگوں نے قائم نہیں ہونے دیا۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

You may also like

Leave a Comment