امن و امان قائم کرنےکا طریقہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں!- محمدرضی الرحمن قاسمی

 

ینبع، مدینہ منورہ

( اس مختصر تحریر میں اسلام میں امن کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے، اور ان اسباب کی خاص طور سے نشان دہی کی گئی ہے، جن کی رعایت کرکے اسلام نے صدیوں تک اس روئے زمین پر امن و امان قائم رکھا اور آج بھی ان ہی امور کی رعایت کر کے امن کا قیام ممکن ہے۔
"یہاں ایک بات قابل غور اور بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ آخر اسلام نے وہ کون سا نسخۂ کیمیا استعمال کیا،جس نے ظلم وستم کے ماحول کو امن وآشتی کی فضا سے بدل دیا؟درحقیقت اسلام کا مزاج یہ ہے کہ کسی بھی غلط چیز کے اسباب وعوامل کو ختم کیا جائے،وہ صرف سرسری کاروائی اورفوری اقدام کو کافی نھیں سمجھتا ہے،چنانچہ اس نے صرف ظلم کی شناعت،حسن سلوک کی ترغیب اور ظلم کے لئے سزائیں مقرر کرنے پر اکتفاء نہیں کیا؛بلکہ ان جڑوں اور بنیادوں کا بھی استئصال کیا، جوانسان کو ظلم وبربریت پر ابھارتے ہیں۔”)

امن وسلامتی سماج کی ایسی ہی ضرورت ہے،جیسی کہ غذا اور ہوا انسان کی،کسی بھی قوم کی تعلیمی،تہذیبی،سائنسی،اخلاقی غرضیکہ ہر طرح کی ترقی کے لئے ماحول کا پر امن ہونا ضروری ہے،جس سوسائٹی میں افراد خوف کے سائے میں جیتے ہوں اور جس ملک پر دہشت کی فضا طاری رہتی ہو،اس سوسائٹی اور ملک کے افراد تعلیمی،تہذیبی،اخلاقی،سائنسی ہر اعتبار سے تنزل وانحطاط کے شکار ہونے لگتے ہیں،لہٰذا ہر باشعور آدمی کا بدامنی، دہشت گردی اور اس کے واقعات سے رنجیدہ ہونا اور اس کے خاتمہ کے لئے فکرمند ہونا بجا ہے۔
بد امنی پھیلانا اور دہشت گردی ظلم وستم ڈھانے کا نام ہے،کسی بھی قوم، ملک اور سوسائٹی کے افراد کے خون سے ہولی کھیلنے کا نام ہے،ان کی عزت وناموس کی پامالی اور ان کے مال ومتاع پر ناحق قبضہ یا اسے ضائع کر دینے کا نام ہے، نیز مذہبی شخصیات اور مذہبی شعائرکی اہانت کرکے ہزاروں، لاکھوں انسان کی دل آزاری کانام ہے، ہر انصاف پسند شخص یہی کہے گا کہ مظلوموں کے دفاعی حملوں،اپنی عزت و ناموس کی حفاظت کے لئے ظالموں سے مڈبھیڑ،اپنی جان و مال کے تحفظ اور اپنی مذہبی آزادی کے حصول کے لئے ظالموں پر جوابی حملے بد امنی پھیلانا اور دہشت گردی نہیں ہیں، لیکن آج ان لوگوں کے سلسلے میں جو اپنے وطن کی،اپنے جان ومال اور دین کی حفاظت کی خاطر ظالموں سے نبرد آزما ہیں،یہ کہا جاتا ہے کہ یہ دہشت گرد ہیں اور جو جان ومال کی تبا ہی کا مذموم کام کر رہے ہیں،وہ مصلح ہیں،فلسطینیوں کے اپنے مقبوضہ علاقوں کی آزادی کی کوشش کوتو دہشت گردی کہا جاتا ہے اوراسرئیلیوں کا فلسطین کی سرزمین پر ناحق قبضہ اور آئے دن فلسطینیوں پر ہلاکت خیز حملوں کو اصلاح کی کوشش اور حفاظت خود اختیاری کہا جاتا ہے،خود ہمارے ملک میں فساد کی آگ بھڑکانے والوں،مساجد کو شہید کرنے والوں اور عبادت گاہوں اور انسانیت کی حرمت کو پامال کرنے والوں کو تو مصلح کہا جاتا ہے اور اپنی حق تلفی پر احتجاج کرنے والوں اور قانون کے دائرے میں رہ کر اپنے حقوق کے حصول کی کوشش کرنے والوں اور ملک وقوم کے بہی خو اہوں کو فسادی و دہشت گرد۔
جنوں کانام خرد،خرد کا نام جنوں رکھ دیا
جو چاہے آپ کا حسن ِکرشمہ ساز کرے
اس سے بھی بڑھ کرستم ظریفی یہ ہے کہ بدامنی کے پھیلنے اور دہشت گردی کو اسلام سے جوڑا جاتاہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اسلام معاشرہ میں بدامنی و فساد پھیلانے اور دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے، فسادیوں اور دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے،یہ یا تو اسلامی تعلیم اور اسلامی تاریخ سے حد درجہ ناواقفیت کی وجہ سے ہے یا اسلام کے تئیں بدترین عصبیت کی وجہ سے ہے،اس لئے کہ حقیقت تو یہ ہے کہ اسلام سلامتی کا مذہب ہے،امن و آشتی کا علمبردار ہے،اس کی تعلیم میں عدل ہی عدل ہے،ظلم وجور کی اس میں کوئی گنجائش نہیں،یہ محض دعوی نہیں؛بلکہ ٹھوس حقیقت ہے،آئیے اس نقطۂ نظر سے اسلامی تعلیم اور اسلامی تاریخ کا ایک سرسری جائزہ لیتے ہیں۔
اسلام کی نگاہ میں سب سے بدترین جرم کفر وشرک اختیار کرنا ہے،اسلام نے مسلمانوں کو یہ تعلیم تو دی ہے کہ کفر و شرک میں مبتلاء بھائیوں کو اسلام کی دعوت دیں،تاریکی سے نکال کر روشنی کی طرف لانے کی سعی کریں؛لیکن اسلام قبول کرنے پر مجبور کرنے کی اجازت نہیں دی: لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيّ (البقرة:256) قتل ناحق خواہ کسی کا ہو،مسلم کا یاغیر مسلم کا،اس کو اسلام نے حرام قرار دیا ہے،چنانچہ ناحق اور فساد پھیلانے کی غرض سے قتل کی شناعت بیان کرتے ہوئے قرآن نے کہا کہ ایک آدمی کا قتل گویا پوری انسانیت کا قتل ہے: مَن قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍۢ فِى ٱلْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ ٱلنَّاسَ جَمِيعًا (المائدة: 32) اُن غیر مسلم افراد کی جان و مال اورعزت وآبروکو مسلمانوں کی جان و مال اور عزت وآبرو کی طرح محترم قرار دیا،جو مسلمانوں سے جنگ نہیں کر رہے ہوں اور امن کے ساتھ رہنا چاہتے ہوں: دمائهم کدمائنا واموالہم کاموالنا۔
اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ مسلمان کہے جانے کے وہی لائق ہے، جس سے لوگ ہر طرح کے ظلم سے امن محسوس کریں،اسلام کی تعلیم ہے کہ ساری مخلوق اللہ کی عیال ہے،لہٰذا اللہ کے نزدیک سب سے محبوب وہی شخص ہے،جو ساری مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے: الْخَلْقُ عِيَالُ اللهِ ، فَأَحَبُّ الْخَلْقِ إِلَى اللهِ مَنْ اَحْسَنَ اِلَى عِيَالِهِ (أخرجه الطبراني في ((المعجم الأوسط)) (5541 )، وأبو نعيم في ((حلية الأولياء )) (2/ 102)، والبيهقي في ((شعب الإيمان)) (7048) اسلام کی نگاہ میں ظلم و ایذا رسانی اس قدر بد ترین چیز ہے کہ ظلم کے بدلے میں بھی حد سے تجاوز اور ظلم کرنے کی گنجائش نہیں ہے: وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِنْ سَبِيلٍ . إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (الشورى: 41 -42) اسلام میں جہاد کی اجازت اور حدود وقصاص کے احکام بھی در حقیقت قیام امن اور دفع ظلم کے لئے ہی ہیں؛اس لئے کہ جہاد کا مقصد قتل وغارت گری اور فساد پھیلانا نہیں ہے،بلکہ فتنہ وفساد کی سرکوبی اور ظالموں کے ہاتھ کو روکنا ہے،چنانچہ قرآن کا حکم ہے: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ ۖ فَإِنِ انتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّالِمِينَ (البقرة: 193) قتل کی صورت میں قصاص کا حکم، زنا اور چوری کی صورت میں حدود قائم کرنے کا حکم بھی امن کی خاطر ہے؛ اس لئے کہ جب کوئی کسی کو قتل کر دیتا ہے،تو قاتل کی طرف سے پورا معاشرہ غیر مطمئن ہو جاتا ہے وراپنی جان کا خطرہ محسوس کرتا ہے،لہٰذا پورے معاشرہ کو خوف کی نفسیات سے بچانے کے لئے اورقاتل کے ظلم سے محفوظ رکھنے کے لئے اسلام نے اسے قصاصا ًقتل کرنے کا حکم دیا ہے، ایسے ہی زنا اور چوری کے مرتکب سے پورا معاشرہ اپنی عفت وعصمت اور مال کے تعلق سے غیر مطمئن ہو جاتا ہے،اسی لئے اسلام نے ان جرائم کے لئے حدود مقرر کئے؛تاکہ امن کی فضا قائم ہو۔۔۔لہذا یہ کہنا کہ اسلام ظلم ودہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے، سراسر غلط اور بدترین جھوٹ ہے؛ بلکہ اسلام امن کی تعلیم دیتا ہے اورفساد پھیلانے اور دہشت گردی سے روکتا ہے۔
تاریخ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم جب مبعوث فرمائے گئے اور آپ نے اسلام کی نشر واشاعت کا فریضہ انجام دینا شروع کیا، اس وقت ساری دنیا ظلم وبربریت کی آماج گاہ بنی ہوئی تھی،خاص طور سے عرب کے خطے میں ہر قسم کا ظلم روا تھا؛لیکن جیسے جیسے آپ کی لائی ہوئی تعلیم خطۂ عرب میں پھیلتی گئی،امن وامان کا دور دورہ ہوتاگیا اور جب یہ تعلیمات دوسرے خطے میں پہونچیں،تو وہاں بھی لوگوں نے محض اس کے عد ل اور ظلم وناانصافی سے خالی ہونے کی وجہ سے قبول کیااور آج بھی انصاف پسند لوگ اس وجہ سے اسلام کو قبول کر رہے ہیں یاکم از کم اس کے دین عدل ہونے کے معترف ہیں،اسلام کی تعلیمات کے پھیلنے کی وجہ سے عرب کا خطۂ امن بن جانا واضح شہادت ہے کہ اسلام دین امن ہے،اگر ظلم وبربریت کا دین ہوتا تو عرب میں اسلامی تعلیمات کے پھیلنے کے بعد ظلم ودہشت گردی اور بڑ ھ جاتی نہ کہ سیکڑوں سال سے چلنے والے جھگڑے صلح پر ختم ہوتے اور نہ ہی اسلام کے بدترین دشمنوں کو فتح مکہ کے موقع پر عام معافی دی جاتی!
یہاں ایک بات قابل غور اور بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ آخر اسلام نے وہ کون سا نسخۂ کیمیا استعمال کیا،جس نے ظلم وستم کے ماحول کو امن وآشتی کی فضا سے بدل دیا؟درحقیقت اسلام کا مزاج یہ ہے کہ کسی بھی غلط چیز کے اسباب وعوامل کو ختم کیا جائے،وہ صرف سرسری کاروائی اورفوری اقدام کو کافی نھیں سمجھتا ہے،چنانچہ اس نے صرف ظلم کی شناعت،حسن سلوک کی ترغیب اور ظلم کے لئے سزائیں مقرر کرنے پر اکتفاء نہیں کیا؛بلکہ ان جڑوں اور بنیادوں کا بھی استئصال کیا، جوانسان کو ظلم وبربریت پر ابھارتے ہیں۔
فساد، ظلم اور دہشت گردی پر ابھارنے والی چیزوں میں ایک اہم چیز معاشی محرومی ہے،اسلام نے اسے ختم کرنے کے لئے ایک طرف صحت مند افراد کو کسب معاش کی ترغیب دی،حکومت کو اس کا مکلف بنایا کہ ہر شخص تک روزی پہونچانا اس کی ذمہ داری ہے، امراء کے مال میں فقراء کے لئے صدقات واجبہ اور نافلہ کی شکل میں حصہ رکھا اور دوسری طرف یہ ذہن بنایا کہ دنیوی مال ومتاع کی مسلمانوں کے یہاں اتنی ہی حیثیت ہے کہ آدمی اس سے استفادہ کر کے باعزت زندگی گذار لے،وہ مسلمانوں کا مقصود نہیں۔
ظلم کی طرف لے جانے والی دوسری چیز سیاسی سطح پر کسی قوم کو دبانا اور ذات برادری کی بنیادوں پر عہدوں کی تقسیم ہے،اسلام نے عہدوں کی تقسیم کے لئے لیاقت وصلاحیت کو معیار بنایا ہے،ذات پات کو نہیں اور نہ ہی سیاسی سطح پر کسی کو دبانے کی اجازت دی۔
ظلم ودہشت گردی کی طرف لے جانے کا ایک اہم محرک انصاف سے محرومی اور انصاف میں دوہرا پیمانہ اختیار کرناہے،اسلام نے ایسا نظام حکومت دیا، جس میں ہر ایک کے لئے انصاف کا دروازہ ہمہ وقت وا رہتا ہے،جس میں انصاف سے محرومی کسی کا مقدر نہیں، ا ور نہ ہی امیر وغریب کے لئے انصاف کا دوہرا پیمانہ۔
اپنے اوپر ظلم ہونے کی صورت میں اگر احتجاج کا قانونی دروازہ بند ہو تو یہ انسان کو فساد پھیلانے کی طرف لے جاتا ہے،اسلام نے ہر شخص کو اجازت دی ہے کہ وہ اپنے اوپر ظلم،اپنی حق تلفی اور دوسروں کی حق تلفی کی صورت میں بادشاہ وقت کے خلاف بھی احتجاج کر سکتا ہے اور اسے بھی ٹوک سکتا ہے،الحاصل معاشرہ میں فساد اور بدامنی و دہشت گردی کے محرک کو اسلام نے ختم کیا، نتیجۃ ً چند ہی سالوں میں کایا پلٹ گئی۔
لہذا اگر حکومتیں واقعی پرامن معاشرہ کی تشکیل ، بد امنی اور دہشت گردی کا خاتمہ چاہتی ہیں اور اس تعلق سے سنجیدہ ہیں،تو ان کے لئے ضروری ہے کہ ان اسباب و محرکات کا پہلے خاتمہ کریں،جو بسا اوقات پڑھے لکھے افراد کو بھی اس کوچہ تک لے جاتی ہیں،ورنہ بس یہی ہوگا کہ بد امنی اور دہشت گردی کے خاتمہ کی کوشش کے نام پر کتنے ہی معصوم افراد کو دہشت گردی اور ظلم کی بھینٹ چڑھایا جاتا رہے گا،جیسا کہ ابھی ہو رہا ہے اور ظلم وبربریت کی رات تاریک سے تاریک تر ہتی چلی جائے گی۔