امّی، میں اور اُردو ڈائجسٹس ـ احمد سعید قادری بدایونی

کہتے ہیں کہ بچّے کا پہلا مدرسہ ماں کی گود ہوتی ہے، جہاں سے کسی بھی بچّے کے اخلاق و تربیت اور شعور و آگہی کے سفر کا آغاز ہوتا ہے۔
سو ہمارا بھی لکھنے پڑھنے کا سفر کچھ ایسے ہی شروع ہوا بس داستان تھوڑی مختلف ہے۔ سنانے جارہا ہوں آپ بھی سن لیں۔
تو میاں! معاملہ یہ ہے کہ میں نے بہت چھوٹی عمر سے اپنی امّی کو اُردو کی کتابیں پڑھتے دیکھا ہے، اب کتابوں سے آپ یہ نہ سمجھ لیجئے گا کہ کوئی بہت ادبی قسم کتابوں کی بات ہورہی ہے بلکہ ہماری امّی کو شادی سے پہلے ہی سے اُردو ڈائجسٹ پڑھنے کا شوق رہا ہے، ھدیٰ، خاتون مشرق اور پاکیزہ آنچل جیسی اُردو ڈائجسٹس وہ باضابطہ پڑھتی رہی ہیں۔ اچّھا! چھ سات برس کی عمر تک ایک تو ہمیں ہر عربی کی کتاب قرآن اور ہر اُردو کی کتاب پنچ سورہ یا عملیات کے قبیل سے لگتی ہے۔ لہٰذا ہم بھی یہی سمجھ رہے تھے کہ بھئ ہم جیسے عفریت صفت بچوں کو قابو کرنے کے لئے ہماری والدہ ماجدہ کوئی بڑے اوراد و وظائف کی کتابیں کھنگال رہی ہیں اور جس دن اُن کے ہتّھے کوئی مجرّب نسخہ لگ گیا اُس دن ہم اپنی شیطانیوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے اور بیچارے عفریت کو بھی قید و بند کی صعوبتوں سے دوچار ہونا پڑے گا سو الگ۔
ابھی ہم اپنے دماغ میں یہ کھچڑی پکا ہی رہے تھے کہ اچانک ہماری نگاہِ معجِز نما امّی کے ہاتھ میں موجود کتاب کے کوَر پیج پر پڑی، جس پر کسی خاتون کی تصویر چھپی ہوئی تھی، اب میاں! ہم نے جیسے ہی تصویر میں موجود خاتون کے حسنِ کرشمہ ساز کو دیکھا تو زبان پر بے ساختہ "سبحان اللہ وبحمدہ سبحان العظیم” جاری ہوگیا، پھر جب تسبیح و تہلیل سے فارغ ہوئے تو نہایت عقیدت و معصومیت سے امّی سے دریافت کیا کہ امّی! آج کل کیا وظائف کی کتابوں کے سرِ ورق پر "عاملات” کی تصاویر چھپنے لگی ہیں؟ امّی نے مڑکر کچھ حیرت بھرے انداز میں مجھے دیکھا اور بولیں، ” وظائف کی کتابیں؟ عاملات کی تصاویر ؟ کس کتاب کی بات کر رہے ہو اور تمہیں کہاں مل گئی؟”۔ ہم نے نیاز مندانہ عرض کی کہ، "امّی جان! یہ بندہٗ عاجز اُس کتاب کی بات کررہا ہے جو آپ نے اپنے دستہائے اقدس میں پکڑ رکھی ہے”۔ امّی نے قدرے خفگی سے مجھ بندہٗ پُر تقصیر کو بالکل اسی انداز میں دیکھا جیسے ایک مولوی کسی بے نمازی کو دیکھتا ہے اور پھر اُسی طرح گھورتے ہوئے فرمایا، "بیوقوف! یہ عملیات کی کتاب نہیں ہے بلکہ اُردو ڈائجسٹ” پاکیزہ آنچل” ہے”۔
یہ میرا اُردو کی اِس قدر ضخیم کتاب سے پہلا تعارف تھا (اُس وقت ۳۰۰ صفحات کی کتاب بھی ہمارے لئے ۳۰۰۰ صفحات سے کم نہ تھی)کیونکہ ہم پرائمری اسکول میں تھے اور زندگی میں کچھ پڑھائی کرنے کی راہ پر گامزن تھے اِس لئے اُردو لکھائی پڑھائی سے ابھی اتنی آشنائی نہیں ہوئی تھی البتّہ اُردو اشعار اُس وقت بھی وافر مقدار میں یاد تھے۔ اب آپ کہیں گے کہ بھئ یہ کیا بات ہوئی کہ اُردو پڑھنا تو صحیح سے آتی نہیں اور اشعار یاد ہیں؟ تو وہ اِس لئےکیونکہ ہمارے ابّا شاعر ہیں، تو اشعار تو اُن سے سنتے ہی رہتے تھے نیز ابّا کی تازہ نعت و مناقب بھی ابّا مجھے ہی املاء کراتے تھے اِس لئے شعر یاد ہونے اور سمجھنے میں کوئی دقت نہیں تھی، مطلب کہ آپ ایسا سمجھ لیں:
ہو بھی چکے تھے دامِ محبت میں ہم اسیر
عالم ابھی بھی بقیدِ زمان و مکاں نہ تھا

ہاں! تو میں بات کررہا تھا پاکیزہ آنچل اور دوسری اُردو ڈائجسٹس کی۔ اچھّا! "پاکیزہ آنچل” سے متعارف ہونے کے بعد، امّی کی ذخیرہ کردہ ڈائجسٹس میں سے ایک عدد ڈائجسٹ ہم نے بھی ہتھیالی اور اٹک اٹک کر ہی سہی مگر اُس کو پڑھنا شروع کردی۔ جہاں کہیں اٹکتے تو امّی سے پوچھ لیتے یا آگے بڑھ جاتے (اب کون بار بار اٹھ کر پوچھنے جاتا)۔
پاکیزہ آنچل میں ملک وبیرونِ ملک کے افسانہ نگار، کہانی نویس اور ناولسٹ کی سماجی ناول سے لیکر سیاسی و مذہبی ہر طرح کی کہانیاں، ناول مکمل/ قسط وار ناول شائع ہوتی ہیں۔
میں نے پہلی بار حضرت عمّار بن یاسرؓ، قطب الدین بختیار کاکیؒ، حضرت بابا فرید گنج شکرؒ، محبوب الٰہی حضرت نظام الدین اولیاءؒ وغیرہم کی مفصّل سوانح پاکیزہ آنچل ہی میں قسطوار پڑھیں تھی۔ اُس کے علاوہ طلسم، شہرِ دل، عکس، خوشبو کی سوغات، تھوڑا سا آسمان، اعتراف محبت، کانچ سی لڑکی، شام کے بعد، جو میرا نصیب تھا، نوید عید اور نا جانے کون کون سی مکمّل کہانیاں، قسطوار ناول اُس دوران پڑھنے میں آئیں۔ دلچسپ بات تو یہ تھی کہ امّی، میری بڑی بہن اور میں؛ کہانیاں پڑھتے اور پھر نا صرف یہ کہ کہانی کے کرداروں پر تبادلہٗ خیال کرتے بلکہ کہانی کے اچھّے برے ہونے کا فیصلہ بھی بڑی بیباکی سے سنادیتے۔ (گویا ہم سے بڑا کوئی ناقد ہے ہی نہیں)
ارے ہاں! پاکیزہ آنچل پڑھنے کے چکّر میں ہم نے امّی کی بڑی ڈانٹ ڈپٹ بھی جھیلی ہے، اب چونکہ اگر کبھی امّی کسی بات پر ہم پر غصّہ ہوں اور اُسی اثنا میں، میں یا میری بہن نے پاکیزہ آنچل کو لے لیا پھر سمجھو کہ بس اللہ ہی بچائے، جیسے ہی ہمارے ہاتھ میں موجود کتاب پر امّی کی نظر پڑی عین اُسی وقت اُن کی گرجدار آواز سنائی دیتی: "میری کتاب فوراً جہاں سے اٹھائی ہے، وہیں رکھ دو اور خبردار جو دوبارہ ہاتھ لگایا”۔

جب تک مدرسے میں داخلہ نہیں ہوا تھا تب تک تو ہمہ وقت گھر پر ہی رہتے تھے لیکن جب مدرسے میں داخلہ ہوگیا اور ہوسٹل میں رہنا ہوا پھر جب چھٹیوں میں گھر آتے تبھی پاکیزہ آنچل ہاتھ لگتی کیونکہ مدرسے میں تو بعض دوسرے ساتھیوں کی طرح ہم پر بھی عنایت اللہ التمش اور نسیم حجازی کا خمار چڑھ گیا پھر تو کبھی کسی کونے میں بیٹھے "دمشق کے قیدخانے میں” پڑھ رہے ہیں تو کبھی "داستان ایمان فروشوں کی”۔ کبھی سینے پر "محمد بن قاسم” رکھی ہوتی تو کبھی "ستارہ جو ٹوٹ گیا” سے آنکھوں کو اشکبار کرتے۔ تو کبھی تاریخی ناولز کے دائرے سے نکل کر الف لیلٰی کی داستانوں میں کھو جاتے۔
اچھّا! جاسوسی ناول پڑھنے کا چسکا ہمیں ہماری خالہ نے لگایا۔ صاحب! اب کیا بتاوٗں، ہماری خالہ جان، ابن صفی کی بلا کی فین ہیں اور جنون کی حد تک اُن کی ناولز پڑھنے کا شوق رکھتی ہیں؛ جاسوسی دنیا و عمران سیریز کی؛ جونک کی واپسی، سہ رنگا شعلہ، مہکتے محافظ، خطرناک لاشیں، موت کی آندھی، صحرائی دیوانہ، جہنم کی رقّاصہ، دشمنوں کا شہر، ہیروں کا فریب، سازش کا جال، خونی بگولے، ہولناک ویرانے، دھواں اٹھ رہا تھا وغیرہ ناولز نا جانے کتنی بار پڑھی ہوں گی اور مجھے سنائی ہوں گی۔

شاید لاشعوری کے دور میں پڑھی گئیں وہ ساری کہانیاں آج بھی شعور و آگہی کے دریچوں کو الفاظ و معانی، افہام و تفیہم، اسلوب و کتابت کی روشنی فراہم کررہی ہیں۔ ماں کی ممتا کی درسگاہ میں جو سفر اٹک اٹک کے پڑھنے اور امّی سے پوچھ کر آگے بڑھنے سے شروع ہوا تھا وہ سفر ہنوز جاری ہے بس آج ماں کے اُس سکھانے نے "اٹک” کی بجائے "روانی” کی شاہراہ پر لاکر کھڑا کردیا ہے، جہاں کھڑا ہوکر میں صرف اتنا ہی کہہ سکتا ہوں:
شمع نظر خیال کے انجم جگر کے داغ
جتنے چراغ ہیں تری محفل سے آئے ہیں