امّاں آپ کا کوئی بدل نہیں ـ عبدالغفار سلفی

والدین گھر کے وہ ستون ہوتے ہیں جن سے گھر صحیح معنوں میں گھر بنتا ہے، انہیں کی تربیت اور نگرانی میں گھر کے سارے کام انجام پاتے ہیں، اولاد جتنی بھی بڑی اور سمجھدار ہو جائے والدین کا وجود ہمیشہ ان کے سر پر چھت کی طرح ہوتا ہے جو زمانے کے سرد وگرم سے انہیں بچاتی ہے، والدین کا وجود ہمیں ہماری بہت ساری ذمہ داریوں سے مستغنی کر دیتا ہے، یہ وہ ہستیاں ہوتی ہیں جو اپنی محبت وشفقت کی چھاؤں میں ہمیں مشکلات کی تمازت کا احساس نہیں ہونے دیتیں. آج چونتیس سال کی عمر میں جب میں نے اپنی والدہ کو کھویا ہے تو احساس ہو رہا ہے کہ یتیمی کیا چیز ہوتی ہے اور یہ کس کرب، لاچاری اور بے بسی کا نام ہے، یوں لگ رہا ہے جیسے میری دنیا اجڑ گئی ہے، میرا سب کچھ چھن گیا ہے، میرے آس پاس سیکڑوں رشتے دار، متعلقین، دوست احباب تسلی دینے کے لیے موجود ہیں مگر اماں کی جدائی کا کرب کوئی دور نہیں کر سکتاـ

جب سے آنکھیں کھولیں جس وجود کو اپنے سب سے زیادہ قریب پایا وہ اماں تھیں، ہر ضرورت کا خیال رکھنے والی، ہر احساس کو محسوس کرنے والی، ہر حال میں سینے سے لگا کر رکھنے والی، ہمیں پالنے پوسنے پڑھانے لکھانے کے لیے انہوں نے ہر جتن کیے، زندگی کے مشکل ترین دور دیکھے، فاقے بھی کیے، اپنی اولاد کے سکھ کے لیے اپنا ہر سکھ قربان کیا، ہم پانچ بھائی اور ایک بہن سب کے سب اماں کی آنکھوں کے تارے تھے، جامعہ سلفیہ میں میرے تعلیمی دور میں ایسا وقت بھی آیا کہ میرا پڑھائی جاری رکھنا مشکل ہو گیا، اہل خاندان کا بھی اصرار ہونے گا کہ بیٹے کی تعلیم چھڑوا کر کاروبار میں لگاؤ، مگر اماں ابا میرا تعلیمی سلسلہ ختم کرنے کے لیے کبھی راضی نہیں ہوئےـ آج دین کا جو بھی علم میں نے سیکھا اور دین کی خدمت کرنے کا جو بھی شرف اللہ نے مجھے دیا اس میں میرے والدین کی قربانیوں کا بہت بڑا حصہ ہےـ

میرا نانیہال حنفی گھرانے میں ہے، اماں شروع شروع میں نماز پڑھتی تھیں تو جو طریقہ مائکے سے وراثت میں ملا تھا اسی پر قائم تھیں، بس رفع الیدین کر لیتی تھیں، ہھر دھیرے دھیرے جب میں دینی تعلیم کے میدان میں آیا تو بہت ساری باتیں اماں کو سمجھانے لگا، اب وہ مکمل طور پر سنت کے طریقے پر نماز ادا کرتی تھیں، انہیں اس بات کا بخوبی احساس تھا کہ وہ ایک سلفی عالم اور خطیب کی والدہ ہیں، شادی بیاہ اور میت میں کہیں جاتی تھیں تو خلاف شرع چیزیں دیکھ کر لوگوں کو ٹوکتی بھی تھیں، کبھی روک نہ پاتیں تو گھر آ کر مجھے بتاتیں کہ ایسا ایسا دیکھاـ

میری شادی 2013 میں ہوئی، میں اماں کا سب سے بڑا بیٹا تھا، میری شادی پر وہ بہت خوش تھیں مگر یہ خوشی اماں کے لیے تھوڑی سی پھیکی اس لیے ہو گئی تھی کہ شادی کے کچھ ہی ایام قبل میرے نانا جان کا انتقال ہو گیا تھا، نانا شوگر اور ہارٹ کے مریض تھےـ شوگر کی بیماری نانا سے وراثت میں والدہ کو بھی مل گئی ـ دن بدن شوگر انہیں گھن کی طرح کھوکھلا کرتا رہا، وہ شوگر کی دوا معمول کے مطابق کھاتی تھیں لیکن پرہیز کما حقہ نہیں کر پاتی تھیں، چاول کے علاوہ میٹھی چیزیں بھی بسا اوقات کھا لیتی تھیں ـ

والدین کو وہ اولاد سب سے زیادہ عزیز ہوتی ہے جو کمزور اور ناتواں ہو. جب تک میں پندرہ سولہ سو روپے مہینے کماتا تھا اماں کو میری بہت فکر رہتی تھی، پھر جب اللہ نے مجھے فراغت سے نوازا تو اماں میری طرف سے ایک حد تک مطمئن ہو گئیں، اب انہیں میرے ان بھائیوں کی بہت فکر تھی جو ابھی باضابطہ طور پر برسر روزگار نہیں تھے۔ میری اور مجھ سے چھوٹے بھائی کی شادی کے بعد اب انہیں یہ فکر دامن گیر تھی کہ جلدی سے باقی تین بھائیوں کی شادی کر کے ان کی ذمہ داری سے بھی عہدہ بر آ ہو جائیں مگر اجل نے انہیں مہلت نہیں دی ـ

اماں کی شدید خواہش تھی کہ انہیں حج بیت اللہ کی سعادت نصیب ہو، ان کے بڑھتے ہوئے شوگر لیول کو دیکھ کر ہم سب بھی چاہتے تھے کہ وہ یہ فریضہ جلد از جلد ادا کر لیں، امسال ہم نے ان کے حج کا فارم بھی بھرا تھا مگر کورونا نے آکر سب ختم کر دیا، اماں کو شدید قلق تھا کہ وہ اس سال حج کو نہیں جا سکیں، وہ کبھی کبھی حسرت سے کہتی تھیں کہ اب پتہ نہیں میری تقدیر میں حج ہے بھی یا نہیں ـ

9 اکتوبر 2020 کی رات وہ سیاہ رات تھی جب اماں ہم سے جدا ہو گئیں، رات گیارہ بجے میں اپنے کمرے میں لیٹا ہوا تھا کہ نیچے سے ناظمہ (اماں کی ماموں زاد بہن جو ان کی خدمت کے لیے ان کے ساتھ رہتی تھی) آ کر کہنے لگی کہ اماں کی طبیعت بہت خراب ہے، جلدی آؤ.. میں دوڑا دوڑا گیا تو دیکھا وہ سینہ پکڑ کر بیٹھی ہیں اور تڑپ رہی ہیں اور کہہ رہی ہیں کہ سانس لینے میں تکلیف ہو رہی ہے.. مجھے وقتی سمجھ میں نہیں آیا کہ اس وقت کہاں لے کر جاؤں کیا کروں، ناظمہ سے پوچھا کہ شوگر وغیرہ کی دوا کھائیں ہے یا نہیں اس نے کہا ساری دعائیں معمول کے مطابق کھائی ہیں. میں نے فوراً چھوٹے بھائی آصف اور ابا کو بھی بلایا۔ طے ہوا کہ فوری طور پر قریبی اسپتال جامعہ ہاسپٹل لے جایا جائے، میں نے فوراً ایکٹوا نکالی اماں کو پیچھے بٹھایا اور گاڑی کا رخ جامعہ اسپتال کی طرف رخ کر دیا، راستے میں خیال آیا کہ پہلے ڈاکٹر جنید کے گھر چل کر بات کروں، انہیں کا علاج چل رہا ہے، وہ صحیح مشورہ دیں گے، ان کا گھر جامعہ ہاسپٹل سے تھوڑی ہی دوری پر تھا، اس وقت تک ہمیں بالکل یہ احساس نہیں تھا کہ اماں کا آخری وقت قریب ہے ۔ ڈاکٹر جنید کے دروازے پر گاڑی روک کر اماں کو وہیں بٹھایا اور ڈاکٹر صاحب کا نام لے کر آواز دینے لگا، اما‍ں بے حد بیچین تھیں، سانس لینے میں تکلیف محسوس کر رہی تھیں، بار بار کہہ رہی تھی کہ یا اللہ! میں مر جاؤں گی۔ میں نے تسلی دی اماں ایسا نہ کہیے سب ٹھیک ہو جائے گا. ڈاکٹر جنید کسی طرح اوپر سے آ نہیں رہے تھے، میں فون سے ان سے رابطہ کی کوشش کرنے لگا، انہیں سب میں مزید دس منٹ برباد ہو گئے، بہرحال ڈاکٹر جنید کا دروازہ کھلا، میں اماں کو لے فوراً ان کے کلینک کی سیڑھیاں چڑھنے لگا، اوپر چڑھ کر جو بیٹھنے کی سیٹ تھی اسی پر اماں کو لٹا دیا، ڈاکٹر جنید نے آ کر امی کو دیکھا حال پوچھا، نبض دیکھی، پھر بولے ان کو فوراً جامعہ ہاسپٹل کے آئی سی یو میں لے چلو. میں نے فوراً گاڑی اسٹارٹ کی ، اماں کو پیچھے کسی کسی طرح بٹھایا اور ان کے پیچھے انہیں تھامنے کے لیے چھوٹے بھائی عارف کو بھی گاڑی پر بٹھا لیا اور تیزی سے گاڑی کا رخ ہاسپٹل کی طرف موڑ دیا. جیسے ہی ہاسپٹل میں داخل ہوا اماں کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی اور ان کا بے جان جسم گاڑی سے گر کر زمین پر آ گیا، عارف ان کے جسم کا بوجھ برداشت نہ کر سکا.. میں نے فوراً گاڑی سائیڈ کر کے انہیں ایک شخص کی مدد سے وہیں پاس کے چبوترے پر لٹایا، تب تک سب بھائی آ چکے تھے، سب لوگ انہیں اٹھا کر آئی سی یو میں لے گئے، ڈاکٹر نے فوراً ای سی جی وغیرہ لگایا، دل دھڑکنا بند ہو چکا تھا، سانسیں رک چکی تھیں، ڈاکٹروں نے ہماری تسلی کے لیے سینے پر دباؤ ڈالا کہ شاید سانس پھنسی ہو اور پھر سے جاری ہو جائے مگر سانسوں کا بندھن ٹوٹ چکا تھا اور اماں ہم سب کو چھوڑ کر اپنے مالک حقیقی کے پاس جا چکی تھیں، تب تک بہن بھی آ گئی، ہم سب سوائے آنسو بہانے اور افسوس کرنے کے کچھ نہیں کر سکتے تھےـ اماں ہم سب کو چھوڑ کر جا چکی تھیں ـ

آج اماں ہمارے درمیان نہیں ہیں پر ان کی بیشمار یادیں ہمارے دلوں میں پیوست ہیں، ان کی محبتیں، ان کی فکر مندی، ان کا ناراض ہونا پھر مان جانا، انہیں ہماری غلطیوں پر ٹوکنا اور ڈانٹنا سب یاد آ رہا ہے.. آج صرف یہ احساس ہو رہا ہے کہ کاش ہم نے جیتے جی ان کی ویسی قدر کی ہوتی جیسی کرنی چاہیے تھی، وہ اتنا اچانک ہم سے جدا ہو گئیں کہ ہم ان کی کوئی خدمت بھی نہیں کر سکے۔

اماں کی یہ خوش نصیبی تھی کہ ان کے بیٹوں میں تین عالم دین تھے، میرے علاوہ میرے چھوٹے بھائی محمد سالم اور آصف جمال سلمہما اللہ بھی جامعہ سلفیہ سے فارغ ہیں، اپنے آبائی کاروبار کے علاوہ دعوت وتبلیغ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں. میری تقریر آس پاس ہوتی تھی تو اماں ضرور سننے جاتی تھیں، ایک دو مرتبہ بنارس کے باہر بھی پروگراموں میں گئیں، میری دعوتی مصروفیات سے بہت خوش رہتی تھیں، علاقائی مسجد میں جب میں خطبہ دیتا اور وہ جمعہ میں شامل ہوتیں اور وہاں موجود خواتین میں کوئی میرے خطبے کی تعریف کر دیتا تو بہت خوش ہوتیں، گھر آ کر بڑے فخر سے بیان کرتیں۔

نیک اولاد سے بڑھ کر والدین کے لیے کوئی صدقہ جاریہ نہیں، اماں خوش نصیب ہیں کہ انہیں عالم اولاد ملی ہے جو یقیناً ان کے حق میں دعائے مغفرت کرتی رہے گی. ہم سب بچوں کے ہر نیک عمل پر ان شاء اللہ انہیں بھی اجر ملے گا. اماں کی زندگی میں جب بھی بارگاہِ الہی میں دعا کے لیے میرے ہاتھ اٹھے ان میں ان کے لیے رحمت کے سوال کے ساتھ ساتھ ان کی صحت وسلامتی کی دعا شامل ہوتی تھی ، آج ان کے جانے کے بعد بھی ان کے حق میں بس یہی دعا ہے کہ رب کریم انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ دے ان کی لغزشیں معاف فرمائے، ہم سے ان کے حقوق میں جو کمی کوتاہی ہوئی ہے انہیں معاف فرمائے اور ان کی جدائی پر ہم سب بھائیوں اور بہن کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*