امیش دیوگن کے خلاف کاروائی پرروک،سپریم کورٹ سے راحت ملی

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے صوفی بزرگ خواجہ معین الدین چشتی پر متنازعہ تبصرہ کرنے کے معاملے میں جمعہ کو ٹی وی نیوز کے اینکر امیش دیوگن کے خلاف کسی بھی قسم کی کاروائی پر روک لگادی ہے ۔ دیوگن کے خلاف صوفی بزرگ خواجہ معین الدین چشتی کے بارے میں توہین آمیز بیان دینے کے الزام میں متعدد ریاستوں میں متعدد ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ جسٹس اے ایم کھانولکر اورجسٹس دنیش مہیشوری نے صحافی کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے والے لوگوں کو نوٹس جاری کردیاہے۔ اس کے علاوہ راجستھان، تلنگانہ اور مہاراشٹرا حکومتوں کو بھی نوٹس جاری کردیئے گئے ہیں، جہاں صحافی کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ دیوگن کی طرف سے پیش ہوئے سینئر ایڈووکیٹ سدھارتھ لوتھرا نے راحت طلب کی اور کہا کہ ان کے مؤکل نے پہلے ہی اپنے مبینہ ٹویٹ پر وضاحت دے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غلطیوں پر فوجداری مقدمہ نہیں بنایا جاسکتا۔ الزام ہے کہ اس صحافی نے 15 جون کو اپنے نیوز پروگرام میں صوفی بزرگ کیلئے’ لٹیرا چشتی‘کا لفظ استعمال کیا تھا، جس پر مسلم کمیونٹی کی طرف سے شدید ردعمل ملا تھا۔ رضا اکیڈمی کے جنرل سکریٹری عارف رضوی کی شکایت پر دیوگن کے خلاف ممبئی کے فائدھونی پولیس اسٹیشن میں مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے، تاہم بعد ازاں اس نیوز اینکر نے ٹویٹ کیا کہ انہوں نے یہ لفظ مسلم حکمران علاء الدین خلجی کے حوالے سے کہا ہے اور غلطی سے چشتی کا نام بول گئے۔ عدالت عظمی اس درخواست کی سماعت جولائی کے پہلے ہفتے میں کرے گی اور اس وقت تک دیوگن کے خلاف کسی بھی سزا یافتہ کاروائی پر روک لگا دی گئی ہے۔ راجستھان اور تلنگانہ میں درج کی گئی ایف آئی آر اور شکایات میں بھی یہ الزام لگایا ہے کہ دیوگن نے بزرگ کیلئے لٹیرا کا لفظ استعمال کیا۔