بہ حیثیت’امیر الہند‘ مولانا سید ارشد مدنی کا انتخاب ایک دانشمندانہ فیصلہ- اے۔ آزاد قاسمی

حضرت الاستاذ مولانا سید ارشد مدنی صاحب کابہ حیثیت’امیر الہند‘انتخاب ایسے وقت میں ہواہے،جبکہ جمعیۃ علماء ہند کے قائدکی حیثیت سے مولامدنی ملت اسلامیہ ہندکو درپیش گوناگوں مسائل کے حل کے لئے پہلے سے ہی سرگرم عمل ہیں۔ ملت اسلامیہ ہند کے مذہبی تشخص،شرعی ضروریات اورعائلی معاملات کے حوالے سے پائی جانے والی موجودہ صورتحال کے تناظرمیں امارت شرعیہ ہنداورجمعیۃ علماء ہند کے ارباب حل و عقد نے انتخابِ امیر کافیصلہ لیتے ہوئے پوری پوری دانشمندی کا ثبوت دیااورایک ایسی ہمہ جہت شخصیت کوامیرمنتخب کیا،جن کی ملت کے تئیں دردمندی کا زمانہ گواہ رہا ہے۔ان کی پوری زندگی ایک کھلی کتاب کی طرح ہے، جسے ہر شخص پڑھ سکتاہے، لیکن اس کے لئے ہمیں اپنی آنکھوں پر سے جانب داری اور بغض وحسدکی اس عینک کو اتارپھینکنا ہوگا جو ہماری حقیقی تصویر دیکھنے کی راہ میں حائل رہتی ہے۔
’امیر الہند‘کی شرعی حیثیت اوراس عہدۂ جلیلہ کے قیام کی ضرورت پربراہ راست لب کشائی کی بجائے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہم ماضی کی طرف لوٹیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ وطن عزیز میں مسلمانوں کے مذہبی و شرعی معاملوں کو ذہن میں رکھ کر دین متین کی حفاظت کے لئے ہمارے اکابر نے کس طرح کی فکرمندیاں ظاہر کیں اور ان فکرمندیوں کے نتیجہ میں کس طرح ’امارت‘اور ’امیر‘کی عملی موجودگی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوئی۔دراصل جب ملک میں فرنگیوں کی بے جا مداخلت کی بازگشت اپنے عروج پر تھی اور مغلوں کے آخری شہنشاہ بہادرشاہ ظفر کی حکومت کا دائرہ کار فصیل بند شہر یعنی شاہ جہان آباد تک محدودہو چکا تھا،ایسے پر آشوب دور میں مسلمانوں کے سامنے ایمان ویقین کی حفاظت وبقا ایک بڑامسئلہ بن رہی تھی۔ یہی وہ دورتھا جب اکابر علماے کرام دینی وشرعی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے دیوبند اور سہارنپورمیں عربی مدرسے کی داغ بیل ڈالنے کیلئے جی توڑکوشش کررہے تھے۔ دوسری طرف ملک میں عیسائی مشنری کی ارتدادی چال سے ناخواندہ مسلمانوں کومحفوظ رکھنا اوران کے دین وایمان کی حفاظت کویقینی بناناایک بڑا چیلنج ثابت ہورہا تھا۔اسی عہدسے ملک میں امامت وامارت اور عائلی معاملوں میں شرعی نظام کی ضرورت کو علماء بڑی ہی شدت سے محسوس کررہے تھے۔روزبروزبدسے بدترہوتے حالات کو دیکھتے ہوئے اس وقت کے علماء امت کے سرخیل حضرت شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی ؒ نے بہت ہی وقیع فتویٰ دیا، جسے پہلی بار ملک میں ایک امیرکے انتخاب کے حوالے سے ایک فقہی رائے کی حیثیت حاصل ہوئی۔
حضرت شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی ؒ کے فتویٰ کے الفاظ کچھ اس طرح تھے ’مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ایک امانتدار ومتدین شخص کو اپنا امیر منتخب کرلیں کہ اس کی موجودگی واجازت سے جمعہ وعیدین کا قیام، سرپرست سے محروم نابالغ بچوں کے نکاح کاانتظام،یتیموں کے مال کی حفاظت اورمتنازعہ ترکوں کا حصہ شرعیت کے مطابق تقسیم کی جائے بغیر اس کے کہ ملکی امورمیں مداخلت کی جائے“۔ حضرت سید احمدشہید  ؒاورحضرت شاہ اسمعیل شہید رحمہمااللہ نے حضرت شاہ صاحبؒ کے اس فتویٰ کے عملی نفاذکا بیڑا اٹھایا اور یکم شعبان 1244ھ کو ہزاروں علما کے اجتماع میں نظام شرعی کا قیام عمل میں آیا اور حضرت سید احمد شہیدبریلویؒ کے ہاتھ پر اقامت شریعت کے لیے بیعت کی گئی۔ 1857 کے انقلاب کے موقع پر حجۃ الاسلام حضرت مولانا قاسم نانوتوی ؒ، فقیہ الامت حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ ودیگر حضرات اکابرین رحہم اللہ نے قطب عالم حاجی امداداللہ مہاجرمکی ؒ کو اپنا امام اور امیر منتخب فرمالیا تاکہ ایک اہم اور بنیادی شرعی ضرورت سے امت محروم نہ رہ سکے۔
وطن عزیز میں انتخاب امیر اور اقامت شریعت کے نفاذاور اس کو عملی طوربروئے کارلانے میں علماء امت مختلف الخیال تھے،لیکن علماء امت کی ایک بڑی جماعت ایسی بھی تھی جوہمہ وقت اس بات کیلئے کوشاں رہی کہ کس طرح امامت وامارت کی داغ بیل ڈالی جائے تاکہ مسلمان اپنے عائلی اور شرعی ضرورتوں کی تکمیل کیلئے اپنے امیر یا ان کے نائبین سے رجوع ہوں۔خاص کر جمعیۃعلماء ہند کے اکابرین اور اس کی قیادت ایک پل کیلئے بھی اس اہم شرعی فریضہ کے تعلق سے غافل نہیں رہے۔ اس جماعت کے مخلص علماء کرام برابر اپنے اجلاس ہائے عام اور مجلس عاملہ میں اس شرعی فریضہ کے نفاذ کیلئے غوروخوض کرتے رہے۔ علماء امت میں اتفاق رائے قائم کرنے کیلئے تجویزیں پاس کرکے موجود اکابرین امت کے پاس بھیجتے رہے۔
مسلمانوں کے لیے امیر کی ضرورت اور جمعیۃعلماء ہند کے کردارکو شیخ الاسلام حضرت مولاناسید حسین احمد مدنی نوراللہ مرقدہ نے واضح کرتے ہوئے جو رائے دی ہے،وہ کچھ یوں ہے۔
’مسلمانوں کی بہت سی مشکلات کا حل نیز خوداسلام کی ترقی اور اس کے بہت سے فرائض اور واجبات کی ادائیگی، اجتماعی قوت اور صحت نظام پر موقوف ہے اور اس زمانہ انحطاط میں بالخصوص ان ملکوں میں جہاں اسلامی حکومت نہیں ہے اورمسلمان اپنی اقلیت کی وجہ وہاں پر نہایت کمزوراوران کی آواز نہایت گری ہوتی ہے، اشدضرورت ہے کہ ان میں اجتماعی قوت اورنظام مکمل ہو۔ بالاخص انڈین یونین(بھارت)میں تقسیم ہند کے بعد یہ ضرورت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اس لئے تمام مسلمانوں کا عموما اورعلماء اسلام کا خصوصا اہم فریضہ ہے کہ وہ جاگیں اورتحفظ اوربقاکی صورتیں عمل میں لائیں۔ اختلاف کو مٹائیں اوراجتماعی قوتوں کو بڑھاکر صحیح نظام پر گامزن رہیں ورنہ عندللہ اورعندالناس سخت مواخذہ اورگرفت کے مستحق ہوں گے، خودکو بھی بربادکریں گے اورقوم وملت نیزدین ومذہب کی بربادی کاوبال بھی اپنے اوپرلیں گے‘۔
جمعیۃعلماء ہند اور اس کے نظام سے متعلق حضرت شیخؒ اس وقت کے علماء کرام کو متنبہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ”اپنی تمام ترانفرادی واصلاحی جدوجہدکے ساتھ ساتھ اجتماعی تقویت زیادہ سے زیادہ عمل میں لائیں، ہرگزہرگز اس میں سہل انگاری کو راہ نہ دیں ورنہ سخت خطرات سے دوچارہوں گے، اور اس کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ ہند یونین میں جمعیۃعلماء ہندکے نظام کو زیادہ سے زیادہ مستحکم اور مضبوط بنائیں‘۔ یہ اقتباس یہ بتانے کیلئے کافی ہے کہ جمعیۃعلماء ہند اور اس کے اکابرین کس طرح  ملک وملت کی سرخروئی کیلئے ہمہ وقت متفکر رہتے تھے۔
ملک عزیز میں امامت وامارت کے تعلق سے بطل حریت،سالار مالٹاشیخ الہند ؒ کی دلی خواہش کو نائب امیر شریعت حضرت مولانا عبدالصمدرحمانی ؒ کچھ یوں نقل کرتے ہیں ”آپ (حضرت شیخ الہند ؒ)کا اصرارتھا کہ اس نمائندہ اجتماع میں جبکہ تمام اسلامی ہند کے ذمہ داراورارباب حل وعقد جمع ہیں، امیر الہندکا انتخاب کرلیا جائے اورمیری چارپائی کو اٹھاکر جلسہ گاہ میں لے جایاجائے۔ پہلاشخص میں ہوں گا،جو اس امیر کے ہاتھ پر بیعت کرے گا‘۔(تاریخ امارت ص۳۵)افسوس کے حضرت شیخ الہند ؒ کی علالت کی وجہ سے یہ خواہش پوری نہ ہوسکی۔ البتہ ناظم جمعیۃعلماء ہند ابوالمحاسن مولاناسید سجاد صاحب رحمۃ اللہ علیہ صوبائی طورپر اس کارخیر کو انجام دے پانے میں کامیاب ہوئے اور جمعیۃعلماء ہند کے صوبائی اجلاس عام ۲۔۳مئی ۱۲۹۱  دربھنگہ میں قیام امارت کے تعلق سے ایک تجویز پاس کی گئی اور 25-26جون1921کو محلہ پتھرکی مسجد پٹنہ بصدارت مولانا ابوالکلام آزادانتخاب امیر کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا، صوبائی طورپرحضرت مولانا شاہ بدرالدین قادریؒ کو امیر شریعت اور حضرت مولانا سید سجاد ؒ کو نائب امیر شریعت منتخب کرلیا گیا۔ پورے ملک میں امارت شریعہ اور انتخاب امیر کے سلسلہ میں جمعیۃعلماء ہند کی مرکزی قیادت اپنے قیام 1919سے لے کر 1940تک اپنے تمام اجلاس عام، اجلاس منتظمہ اور اجلاس عاملہ میں انتخاب امیر اور امارت کے تعلق سے بات کرتی رہی لیکن ملکی حالات اور دیگر وجوہات مانع آتے رہے اور یہ کام شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا،لیکن جمعیۃعلماء ہند کی قیادت ہمیشہ اس اہم شرعی ضرورت کو اپنے سے اوجھل نہیں ہونے دیا، جب ملک میں مسلمانوں کے پرسنل لاء اور دیگر عائلی مسئلہ پر حکومت کی ٹیڑھی نظریں پڑنے لگی تھیں، کامن سول کوڈاور شرعی تحفظات کے خلاف ماحول سازی ہونے لگی تو جمعیۃعلماء ہند نے اس ناپاک عزائم  کے خلاف ایک بارپھر پوری قوت اورطاقت سے ملک کے بااثر ارباب حل وعقد، علماء عظام اور درد مندان ملت کو شرعی نظام، انتخاب امیراور امامت وامارت کے قیام کیلئے آواز دی اور 7/ستمبر1986 کو دفترجمعیۃعلماء ہند میں ایک کامیاب نمائندہ اجلاس ہوا، سبھوں نے اتفاق رائے یہ محسوس کیاکہ  فوری طورپر قیام امارت مسلمانوں کیلئے ضروری ہے۔ اور الحمدللہ2/نومبر1986ء کو شرعی نظام کی بقاء وتحفظ کیلئے امارت شرعیہ ہند کا قیام بحسن وخوبی عمل میں آیا اورانتخاب امیر کا فریضہ انجام پایا اور وقت کے محدث جلیل حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی ؒ کے ہاتھ پر علماء امت نے بیعت وسمع وطاعت کئے اور نائب امیرالہند کیلئے فدائے ملت حضرت مولانا سید اسعدمدنی نوراللہ مرقدہ کا انتخاب عمل آیا، تب سے آج تک بحمدللہ یہ سلسلہ تواتر کے ساتھ جاری ہے اور امارت شرعیہ ہند مسلمان ہند کی شرعی ضرورتوں کو حتی المقدور پوری تندہی ہے سے انجام دے رہی ہے۔
چند ماہ قبل امیر الہند رابع کے انتقال پرملال کی وجہ سے یہ عہدہ خالی تھااور امارت کے کام کاج کو پہلے کی طرح مہمیزدینے کیلئے نئے امیر کی ضرورت شدت سے محسوس کی جارہی تھی، ملک میں لاک ڈاؤن کی پابندی کی وجہ سے امیر کے انتخاب میں تاخیر ہورہی تھی۔ حالات کے بہتر ہوتے ہی امارت کے ارباب حل وعقد نے اس اہم شرعی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے انتخاب امیر کا ایجنڈاجاری کرکے 3/جولائی 2021 کو اپنے ایک نمائندہ اجلاس میں جانشین شیخ الاسلام، امین شیخ الہند، صدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند،رکن تاسیسی رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ، رکن عبداللہ بن عبدالعزیزانٹرنیشنل ڈائلاگ آسٹریا، وصدرجمعیۃعلماء ہند کو بہ اتفاق رائے پانچویں امیر الہند کے طورپر منتخب کرلیا ہے، اس حسن انتخاب کیلئے جمعیۃعلماء ہند اور امارت شرعیہ ہند کے ارباب حل وعقد لائق مبارک بادہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب کہ ملک میں ہر طرف اقلیت خاص کر مسلمانوں کیلئے منافرت کی دیواریں کھڑی کی جا رہوں اور مسلمانوں کو طرح طرح سے پریشان کیاجارہا ہے،امید کی جانی چاہئے یہ انتخاب ملت کیلئے ایک خوش آئنداورمژدہ آفریں ثابت ہوگا۔ اللہ سے دعاہے کہ اللہ حضرت امیر الہند کی عمر میں برکت عطافرمائے اور ملک وملت کے لئے خیر کا ذریعہ بنائے۔ آمین