امریکی صدارتی انتخاب:گنتی میں فراڈ کا الزام،ری پبلکن کا تین ریاستوں میں عدالت سے رجوع

نیویارک:امریکہ کے صدارتی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی پر تحفظات کا اظہار کرنے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم نے تین ریاستوں پینسلوینیا، مشی گن اور جارجیا میں عدالت سے رْجوع کر لیا ہے۔ری پبلکن پارٹی کے رہنما ؤں اور صدر کی انتخابی مہم کا کہنا ہے کہ پینسلوینیا اور نیواڈا میں ری پبلکن جماعت کے نمائندوں کو ووٹوں کی گنتی کے مقام تک رسائی کے لیے بھی عدالت سے رْجوع کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ ریاست مشی گن میں دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈیمو کریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی سیکریٹری آف اسٹیٹ کی موجودگی میں ووٹوں کی گنتی کے دوران غیر جانب دار مبصرین موجود نہیں تھے۔ریاست جارجیا کی کیتھم کاؤنٹی میں دائر کی گئی درخواست میں ری پبلکن رہنماؤں نے موقف اختیار کیا ہے کہ ریاست یقینی بنائے کہ ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹوں پر ریاستی قوانین کا اطلاق ہوا ہے یا نہیں۔ٹرمپ کی انتخابی مہم کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ ریاست جارجیا کی دیگر متعدد کاؤنٹیز میں بھی ایسی ہی قانونی چارہ جوئی کرنے سے متعلق سوچ رہے ہیں۔ٹرمپ کی انتخابی مہم کے ڈپٹی منیجر جسٹن کلارک کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ ریاست پینسلوینیا میں ڈاک کے ذریعے موصول ہونے والے ووٹوں کی گنتی کے معاملے پر بھی مداخلت کرے۔خیال رہے کہ پینسلوینیا میں ریاستی حکام کا کہنا ہے کہ منگل کو ڈاک کے ذریعے پوسٹ کیے گئے اور چھ نومبر تک موصول ہونے والے ووٹس کو وہ گنتی میں شمار کریں گے۔صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کے منیجر بل اسٹیپئن کا کہنا ہے کہ وہ ریاست وسکونسن میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا بھی مطالبہ کریں گے۔ ان کی طرف سے وسکونسن کی متعدد کاؤنٹیز میں بے ضابطگیوں کا بھی الزام لگایا گیا ہے تاہم ان الزامات کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔دوسری طرف صدارتی امیدوار جو بائیڈن کا بدھ کو کہنا تھا کہ تمام ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری رہنا چاہیے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم کسی کو یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ہم سے جمہوریت کو دْور لے جائے۔ڈیموکریٹس کی انتخابی مہم کے ترجمان اینڈریو بیٹس نے کہا ہے کہ جو جماعت انتخاب جیتنے کے دعوے کر رہی ہو وہ کبھی عدالت سے رجوع نہیں کرتی۔بیٹس کا مزید کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی طرف سے صرف ان ریاستوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جہاں وہ ہار چکے ہیں جب کہ وہ ان ریاستوں میں گنتی رکوانا چاہتے ہیں جہاں سے وہ ہار رہے ہیں۔خیال رہے کہ امریکہ میں ہر انتخابات میں بذریعہ ڈاک موصول ہونے والے ووٹوں کی تصدیق میں قدرے زیادہ وقت لگتا ہے۔ تاہم اس سال کرونا وبا اور دیگر وجوہات کی بنا پر ڈاک کے ذریعے موصول ہونے والے ووٹوں کی بڑی تعداد کی وجہ سے پہلے کی نسبت زیادہ وقت لگ رہا ہے۔ جس کی وجہ سے امریکی عوام میں انتخابی نتائج جاننے سے متعلق بے چینی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*