امریکہ نے بھارت میں مذہبی آزادی پرتشویش کا اظہار کیا

نئی دہلی:امریکہ میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدے دارنے ہندوستان کو تاریخی طور پر روادار ، تمام مذاہب کے لیے قابل احترام ملک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذہبی آزادی کے سلسلے میں بھارت میں جو کچھ ہورہا ہے اس کے بارے میں امریکہ بہت پریشان ہے۔ بین الاقوامی مذہبی آزادی کے ایک سفارت کار ، سیموئیل براؤن بیک کا یہ بیان 2019 کی بین الاقوامی مذہبی آزادی رپورٹ کے اجراء کے بعد سامنے آیا ہے۔ وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی جاری کردہ اس رپورٹ میں دنیابھر میں مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کے بڑے واقعات کا تذکرہ کیاگیاہے۔ہندوستان نے امریکہ کی مذہبی آزادی سے متعلق اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ کسی بھی غیر ملکی حکومت کودوسرے شہریوں کے آئینی حقوق پرکوئی حق نہیں ہے۔غیر ملکی صحافیوں سے فون پرگفتگوکے دوران براؤن بیک نے کہاہے کہ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جس نے چار بڑے مذاہب کوجنم دیاہے۔انھوں نے کہاہے کہ ہم ہندوستان میں جو کچھ ہورہاہے اس سے بہت پریشان ہیں۔ یہ تاریخی طور پر تمام مذاہب کے لیے ایک بہت ہی روادار ، قابل احترام ملک رہا ہے۔براؤن بیک نے کہاہے کہ ہندوستان میں جوکچھ ہورہا ہے وہ بہت پریشان کن ہے کیونکہ یہ ایک مذہبی برصغیر ہے اوروہاں زیادہ فرقہ وارانہ تشدد دیکھا جارہا ہے۔انھوں نے کہاہے کہ ہمیں مزید کشیدگی دیکھنے کومل رہی ہے۔ میں امیدکرتاہوں کہ ہندوستان میں بین المذاہب بات چیت بہت ہی اعلیٰ سطح پرشروع ہونی چاہیے اورپھرمخصوص امورسے نمٹناچاہیے۔ ہندوستان میں اس موضوع پر مزید کوششیں کرنے کی ضرورت ہے اور میری پریشانی یہ ہے کہ اگر یہ کوششیں نہ کی گئیں توتشدد بڑھ سکتاہے۔