Home تجزیہ امریکہ مودی حکومت کی واپسی کے خلاف ہے؟ -سہیل انجم

امریکہ مودی حکومت کی واپسی کے خلاف ہے؟ -سہیل انجم

by قندیل

سیاسی و صحافتی حلقوں میں ایسی چہ می گوئیاں ہیں کہ امریکہ نہیں چاہتا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو تیسری بار مسلسل کامیابی ملے اور وہ پھر ہندوستان کے وزیر اعظم بنیں۔ حالانکہ وزیر اعظم مودی نے اپنے دس برسوں کے دور اقتدار میں دنیا کے مختلف ملکوں کے دورے کیے ہیں اور پڑوسی ملکوں کو چھوڑ کر متعدد ملکوں سے اچھے اور خوشگوار رشتے قائم کیے ہیں۔ سابق وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کے زمانے میں ہندوستان اور امریکہ میں شروع ہونے والی نزدیکیاں کافی آگے تک گئی ہیں اور دونوں ایک دوسرے کے گہرے دوست ہو گئے ہیں۔ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان اسٹریٹجک رشتے ہیں۔ امریکہ کا کہنا ہے ہندوستان کے ساتھ اس کے رشتے روز بہ روز فروغ پا رہے ہیں۔ لیکن یہ کیا ہوا کہ اب امریکہ نہیں چاہتا کہ مودی تیسری بار وزیر اعظم بنیں۔ مبصرین کے مطابق اس کی متعدد وجوہات ہیں۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ نریندر مودی کا جھکاؤ ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف زیادہ ہے۔ وہ امریکہ میں جا کر ’ہاوڈی مودی‘ کے پروگرام میں ٹرمپ کی انتخابی مہم چلا چکے ہیں اور جب ٹرمپ ہندوستان آئے تھے تو احمد آباد کے مودی اسٹیڈیم میں انھوں نے ان کے ساتھ پروگرام کیا تھا۔ ذاتی طور پر مودی ٹرمپ کے نزدیک ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کو دوست بھی کہتے ہیں۔
اس کے علاوہ بھی کئی وجہیں ہیں۔ مثال کے طور پر ہندوستان امریکہ امریکہ کی توقعات پر کھرا نہیں اترا ہے۔ وہ چین کے معاملے میں امریکہ کی خواہش کے مطابق کارروائی کرنے کے حق میں نہیں ہے۔ چین سے سرحدی کشیدگی کے باوجود ہندوستان کے تجارتی رشتے بہت اچھے ہیں۔ امریکہ چاہتا ہے کہ ہندوستان ایران سے قریبی رشتہ نہ رکھے۔ جبکہ ایران سے اس کے صدیوں پرانے تعلقات ہیں۔ روس نے جب یوکرین پر حملہ کیا تو ہندوستان نے امریکہ کی مخالفت کے باوجود روس کی حمایت کی۔ امریکہ نے اس حملے کی وجہ سے روس پر پابندی لگائی تو ہندوستان نے بظاہر اس پابندی کو قبول نہیں کیا اور اس نے اس سے تیل کی خوب خریداری کی۔ جب اس پر مغربی ملکوں نے اعتراض کیا تو وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ ہندوستان سے زیادہ ان ملکوں نے روسی تیل خریدا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایران، چین اور سعودی عرب ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں۔ امریکہ نہیں چاہتا کہ ہندوستان بھی اس گروپ میں شامل ہو۔ جبکہ ہندوستانی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی اپنے قومی مفادات کو سامنے رکھ کر چلائی جا رہی ہے۔ ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا جمہوری اور آزاد اور خود مختار ملک ہے۔ اس کی خارجہ پالیسی ہمیشہ آزاد رہی ہے اور اسی پالیسی کو موجودہ حکومت بھی بڑھا رہی ہے۔
یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ بائڈن انتظامیہ امریکہ میں مقیم خالصتانی رہنما گورپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی مبینہ سازش اور کناڈا میں ایک خالصتانی رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے سلسلے میں ہندوستان پر دباؤ ڈالتی رہی ہے۔ امریکہ کے محکمہ انصاف نے پنوں کے قتل کی سازش کے سلسلے میں ایک مقدمہ بھی قائم کیا ہے اور کئی ہندوستانیوں کو گرفتار بھی کیا ہے۔ اس نے نجر کے قتل کے سلسلے میں کناڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے ہندوستان پر الزامات کے معاملے میں کناڈا کا ساتھ دیا اور ہندوستان سے کہا کہ وہ اس معاملے کی جانچ میں تعاون کرے۔ ہندوستان نجر کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام کی تردید کرتا ہے اور پنوں کے قتل کی سازش میں ملوث ہونے سے بھی انکار کرتا ہے۔ عالمی امور کے سینئر تجزیہ کار پروفیسر اے کے پاشا کہتے ہیں کہ ہندوستان اور امریکہ کی جانب سے ایک عرصے سے ’جیسے کو تیسا‘ والی کارروائی چل رہی ہے۔ امریکہ کی دھمکی سے دونوں ملکوں کے رشتوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ اس سے قبل امریکہ نے ہندوستانی کمپنیوں پر الزام لگایا تھا کہ وہ خفیہ طریقے سے روس کے ساتھ تجارت کر رہی ہیں۔ اس سلسلے میں اس نے روس کی تین سافٹ ویئر کمپنیوں پر پابندی عاید کی ہے۔ اس نے چار ایسی ہندوستانی کمپنیوں پر بھی پابندی لگائی ہے جو ایران کو ڈرونز کی سپلائی کر رہی ہیں۔
اسی درمیان ایک اور اہم واقعہ پیش آگیا۔ امریکہ نے ہندوستان پر پابندی عاید کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ حالانکہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ پابندی کس نوعیت کی ہو سکتی ہے یا کب نافذ ہو سکتی ہے۔ لیکن بہرحال یہ تشویش کی بات ہے کہ امریکہ ہندوستان پر پابندیاں عاید کرنے کی دھمکی دے بیٹھا ہے۔ اس دھمکی کے پس منظر میں ایران کے چابہار بندرگاہ کے فروغ اور چلانے کے لیے ایران اور ہندوستان کے درمیان دس سال کا ایک معاہدہ ہے۔ یہ معاہدہ پیر کو تہران میں ہوا اور اس کے چند گھنٹوں کے اندر ہی امریکہ کی وزارت خارجہ میں ڈپٹی ترجمان ویدانت پٹیل نے ایک نیوز بریفنگ میں کہہ دیا کہ ایران پر امریکی کی پابندیاں جاری ہیں۔ اگر کوئی اس سے تجارتی معاہدہ کرتا ہے تو اسے پابندی کے خطرے کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے۔ حالانکہ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان اور ایران کے درمیان دو طرفہ تعلقات ہیں۔ لیکن اس جملے میں اتنا وزن نہیں ہے جتنا کہ دھمکی والے جملے میں ہے۔ دراصل امریکہ ایران کے جوہری پروگراموں کی وجہ سے اس سے ناراض ہے اور اس پر اس نے اقتصادی پابندیاں عاید کر رکھی ہیں۔ وہ نہیں چاہتا کہ ایران کے ساتھ کوئی ملک تجارت کرے۔ لیکن ایران کے اپنے دلائل ہیں اور وہ امریکہ کی پابندیوں کے آگے جھکنے کو تیار نہیں ہے۔
جہاں تک ہندوستان اور ایران کے تعلقات کی بات ہے تو دونوں میں تاریخی رشتے ہیں۔ دونوں میں گہری دوستی ہے اور دونوں ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں۔ ان کے باہمی تعلقات کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن مودی حکومت کی جانب سے اپنا تمام تر سیاسی وزن سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے پلڑے میں ڈال دینے کی وجہ سے ایران کچھ کچھ ناراض بھی ہے۔ اس سے قبل بھی کچھ ایسے ایشوز آئے تھے جن کی وجہ سے دونوں ملکوں میں کشیدگی پیدا ہوئی تھی یا تعلقات میں سردمہری آگئی تھی لیکن پھر دونوں نے حالات کو قابو میں کیا۔ جہاں تک چابہار بندرگاہ کا معاملہ ہے تو ہندوستان 2003 سے سیستان صوبے میں واقع چابہار بندرگاہ کو ترقی دینے اور اسے چلانے سے متعلق معاہدے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ لیکن اس میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو رہی تھی۔ اس کی وجہ ہندوستان کی سست روی رہی ہے۔ ہندوستان نے 2013 میں 100 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی پیشکش کی تھی۔ لیکن وہ اس معاملے میں کبھی تیزی دکھاتا اور کبھی سست ہو جاتا۔ 2016 میں دونوں میں اس کی تعمیر کا معاہدہ ہوا تھا لیکن اس کے بعد پھر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
مبصرین کا خیال ہے کہ ہندوستان کی اس سست روی کی وجہ سے ایران نے دھمکی دے دی تھی کہ اگر اس نے یہ معاہدہ نہیں کیا تو وہ پاکستان میں چین کی جانب سے فروغ دیے جانے والے گوادر بندرگاہ پروجکٹ کے طرز پر چین اور پاکستان سے معاہدہ کر لے گا۔ اس کے بعد ہی ہندوستان نے معاہدہ کیا۔ معاہدے پر دستخط کے بعد ایرانی وزیر نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان مشترکہ جہاز رانی پروجکٹ لانچ کرنے کی بھی تجویز رکھی گئی ہے۔ ہندوستان کی کمپنی آئی پی جی ایل نے 2018 میں بندرگاہ کو چلانے کی ذمہ داری لی تھی۔ لیکن جیو پولیٹیکل صورت حال کی وجہ سے اس میں تیز رفتاری نہیں آئی تھی۔ بہرحال پیر کو ہونے والے معاہدے کے مطابق ہندوستان چابہار بندرگاہ کے فروغ کے لیے 120 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ اس نے چابہار سے متعلق بنیادی ڈھانچے کے فروغ کے پروجکٹوں کے لیے 250 ملین روپے کے قرض کی بھی پیشکش کی ہے۔
وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ امریکہ کو اس بارے میں تشویش نہیں ہونی چاہیے۔ چابہار اس کے لیے کوئی ایشو نہیں۔ یہ ہندوستان اور ایران کے درمیان کا معاملہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران کے شاہد بہشتی پورٹ ٹرمنل کے آپریشن کے لیے طویل مدتی معاہدے پر دستخط کے بعد چابہار بندرگاہ میں مزید سرمایہ کاری کے مواقع اور کنکٹیوٹی روابط پیدا ہوں گے۔ بقول ان کے ابھی بندرگاہ کا فروغ نہیں ہوا ہے۔ اگر طویل مدتی معاہدہ نہیں ہوتا تو اس میں سرمایہ کاری مشکل ہوتی۔ لہٰذا اس معاہدے کے بعد مزید سرمایہ کاری اور کنکٹیوٹی بڑھے گی۔ چابہار کی وجہ سے ہمارے روابط وسطی ایشیا سے قائم ہوں گے۔ یاد رہے کہ چابہار کاریڈور ہندوستان کو ایران اور آذربائجان کے راستے روس کے سینٹ پیٹرز برگ سے جوڑ دے گا۔ اس کے علاوہ وہ وسطی ایشیا میں بہت آسانی سے رسائی حاصل کر لے گا۔ جبکہ افغانستان کے لیے سپلائی بھی اسی راہداری سے کرے گا۔ ابھی تک اسے افغانستان کے لیے سپلائی کرنے میں پاکستان کے راستے جانا پڑتا ہے۔ پاکستان کبھی اجازت دیتا ہے اور کبھی نہیں۔ لیکن اس معاہدے کے بعد ہندوستان کے سامنے پاکستان کی محتاجگی ختم ہو جائے گی۔
بہرحال ہندوستان اور امریکہ کے رشتوں میں اگر کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو یہ نہ صرف ان دونوں ملکوں کے بلکہ دنیا بھر کے مفادات کے خلاف ہوگا۔ لہٰذا توقع کی جانی چاہیے کہ دونوں ملک مل کر اس معاملے کو حل کر لیں گے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

You may also like