20 C
نئی دہلی
Image default
ستاروں کےدرمیاں

امریکہ میں نعتیہ شاعری کے فلک کاچاندقمرؔبستوی

غوث سیوانی، نئی دہلی
ghaussiwani@gmail.com

دلوں کی دھڑکنوں کو تیز کرڈالا قمرؔ تونے
بیان سیدِ والا سنایا ہی کچھ ایسا ہے
امریکہ نشیں شاعر حضرت قمرؔبستوی کا یہ شعر تعلی نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے۔وہ زودگو کے ساتھ ساتھ ایک پُرگواور قادرالکلام شاعر ہیں اور ان کی شاعرانہ عظمت مسلّم ہے۔ وہ ایک باصلاحیت اور ذی علم شخص ہیں اور کسی بھی صنف شاعری میں بہت اونچے معیار کا ادب دے سکتے ہیں مگر خود کو حمدونعت کے لئے وقف کرر کھاہے۔ وہ نعتیں محض اس لئے نہیں لکھتے کہ یہ ایک صنف ادب ہے بلکہ اسے عبادت اور جزوایمان مانتے ہیں۔ ان کی نظم ونثر کے مضامین، اسی کے گرد گھومتے ہیں اور تحریروتقریرکا مقصد اصلی نعت گوئی ہی ہے۔انھوں نے غزل، نظم، مسدس، قطعات، رباعی، قصیدہ وغیرہ کے فارم میں نعتیں کہی ہیں اور فن کا حق ادا کیا ہے حالانکہ نعت گوئی کا حق تو کبھی ادا ہی نہیں ہوسکتا۔
فکرِ قمرؔ ہے سر افگندہ، وصفِ نبی کیا نظم کرے
لفظ ہو ان کی ذات کے شایاں، کیا ایسا ہوسکتا ہے؟
یوں تو جب سے امریکہ میں مسلمانوں کے قدم پہنچے ہیں تب سے یہاں صنف نعت بھی پھل پھول رہی ہے مگر1950 ء کی دہائی سے اس میں اضافہ ہوا جب بھارت اور پاکستان سے بڑی تعداد میں مسلمان، تلاش معاش میں سات سمندر پار پہنچے۔ان کی بڑی تعدادامریکہ کے بڑے شہر وں، نیویارک، کیلفورنیا، شکاگو، ٹکساس، باسٹن، واشنگٹن، مشکن وغیرہ میں رہائش پذیر ہوئی۔ان میں شعراء بھی شامل تھے جنھوں نے دوسری اصناف ادب کے ساتھ ساتھ نعتیں بھی لکھیں۔ امریکہ میں جن اردو شعراء وشاعرات نے صنف نعت میں طبع آزمائی کی ان میں نمایاں نام صلاح الدین ناصر (نیویارک)، حامد امروہوی (شکاگو)،رشید عیاں (نیویارک)،مخفی امروہوی (شکاگو)،سیما عابدی (شکاگو)،صوفی امان خان دِلؔ (نیویارک)، سید ظفر حسین نقوی (ہیوسٹن ٹکساس)سطانہ مہر(لاس اینجلس)سید اللہ بخش سازؔ(کیلی فورنیا)،ڈاکٹر توفیق انصاری احمدؔ(شکاگو)، ایس۔ زیڈ حسن (شکاگو) اور قمرؔبستوی (ہیوسٹن)کے ہیں مگر آخرالذکر کی حیثیت، اس میدان میں اس لئے ممتازہے کہ موصوف نے شاعری کی دوسری اصناف کے بجائے پوری توجہ صرف حمدونعت اور مناقب اہل بیت، صحابہ واولیاء کرام پر مرکوز رکھی۔
حضرت قمرؔبستوی کے کم از کم آٹھ نعتیہ مجموعے شائع ہوچکے ہیں یازیرطبع ہیں۔جو باتیں انھیں دوسرے شعراء سے ممتاز کرتی ہیں وہ یہ ہیں کہ وہ ایک متبحرعالم دین،مقررذی متین،ترجمان شرع مبین اورلاجواب نثرنگارکے ساتھ ساتھ سرزمین امریکہ پر عشق رسول کے مبلغ ہیں۔وہ ان شعراء میں سے نہیں ہیں جن کے لئے نعتیہ شاعری محض ایک صنف سخن ہو بلکہ ان کے لئے نعت گوئی ایمان وایقان کا حصہ ہے۔
ان کی محبت جانِ ایماں، رب جس کو تفویض کرے
بے اس کے ہو کامل ایماں کیا ایسا ہوسکتا ہے؟
نعت گوئی ایک مشکل صنف ہے۔ کوئی محض عقیدت اورطبع موزوں کے ساتھ نعتیہ اشعار نہیں کہہ سکتا۔ اس کے لئے دینی علم اور شرعی حدود سے واقفیت لازمی ہے کہ تاکہ اس کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر کھا جاسکے۔معروف نقاد فرمان فتح پوری رقم طراز ہیں:
”نعت کا موضوع ہماری زندگی کا ایک نہایت عظیم اور وسیع موضوع ہے۔اس کی عظمت و وسعت ایک طرف عبد سے اور دوسری طرف معبود سے ملتی ہے۔شاعر کے پا ئے فکر میں ذرا سی لغزش ہوئی اور وہ نعت کے بجائے گیا حمد و منقبت کی سرحدوں میں۔ اس لیے اس موضوع کو ہاتھ لگانا اتنااسان نہیں جتنا عام طور پر سمجھا جاتاہے۔حقیقتاً نعت کا راستہ بال سے زیادہ باریک اور تلوار کی دھا ر سے زیادہ تیز ہے۔“(نقوش: رسول نمبر، لاہور، ج 10، 25 ص)
حضرت قمرؔبستوی چونکہ خود ایک عالم دین ہیں لہٰذا وہ نعت کی سرحدوسیماسے واقف ہیں اور تلوار کی دھار پر انتہائی مہارت کے ساتھ چلتے ہیں۔نعت اور حمد کے فرق کو ایک ایک مصرع میں وہ کس مہارت کے ساتھ نباہتے ہیں، اس کی مثال ذیل کے اشعار میں دیکھ سکتے ہیں:
میرے حرفوں کو معنیٰ کی تنویر دے
فکر کو میرے تقویٰ کی تطہیر دے
حمد تیری لکھوں، نعت سرکار کی
سوزدل کی خدا اس میں تاثیر دے
مدحتِ مصطفےٰ میں چلے جب قدم
میرے حرفوں کو آداب و توقیر دے
ذکرپاکِ نبی میں زباں تر رہے
وہ تکلم دے مجھ کو وہ تقریر دے
بعض شعراء کے نعتیہ کلام میں بکثرت محاورات، مصطلحات، ضرب الامثال، اقوال، صنائع و بدائع کا استعمال دیکھنے کو ملتاہے مگرجناب قمرؔبستوی کی شاعری عموماً سادہ اورسلیس ہوتی ہے،جو عام قاری کی فہم وادراک کے قریب محسوس ہوتی ہے۔ باوجود اس کے مضامین میں گہرائی اور گیرائی ہے۔
تخلیقِ کائنات کا عنواں حضور ہیں
اصلِ وجودِ عالم امکاں حضور ہیں
ہرپھول میں ہے حسنِ جمالِ محمدی
ہر گلستاں کی فصلِ بہاراں حضور ہیں
ادھر بھی کیجئے چشم کرامت یارسول اللہ
گدا کو دیجئے اب پھر اجازت یارسول اللہ
قمرؔبستوی نے بہت سی نعتوں میں مشکل زمین کا بھی انتخاب کیاہے۔ کہیں قافیہ مشکل ہے تو کہیں ردیف کو نبھانا آسان نہیں مگر دلچسپ بات یہ ہے،مضامین پھر بھی گنجلک یا مبہم نہیں ہیں بلکہ ایسی نعتوں میں پروازِخیال زیادہ بلند نظر آتا ہے۔
عطا ہوئی ہے اُنھیں اختیار کی چادر
تنی ہوئی ہے نبی کے وقار کی چادر
چمک اٹھا ہے مرا جسم کہکشاں کی طرح
جو اوڑھی شہرِ نبی کے غبار کی چادر
حرا سے پھوٹی جو حق ترجمان کی خوشبو
زبانِ وحی سے بکھری دہان کی خوشبو
لگائی گھر میں جو تصویرِ گنبدِ خضریٰ
بکھر رہی ہے ہر اِک سو مکان کی خوشبو
چمک اٹھی مری تنہائیِ شب
مہک اٹھی مری لیلائیِ شب
دلِ مہجور جا پہنچا مدینہ
سمٹ کر رہ گئی پہنائیِ شب
کہاں تھا خلد تھی یا شہر بطحا
بڑی دلگیر تھی رعنائیِ شب
نعتیہ شاعری کے لئے محض طبع موزوں اور زبان وبیان پر دسترس کافی نہیں،ورنہ شاعری،قافیہ پیمائی بن کر رہ جاتی ہے۔ اس کا سب سے بنیادی عنصر،محبت رسول ہے۔ظاہر ہے کہ پہلانعت خوانِ نبی،خود اللہ تبارک وتعالیٰ ہے، جس نے قرآن کریم اور دیگرآسمانی صحیفوں میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح خوانی بے حد محبت سے فرمائی ہے۔ گویا جب کائنات کا وجودنہ تھا‘ چرندوپرند کی تخلیق نہیں ہوئی تھی‘ زمین کافرش نہ بچھا تھا اور آسمان کے شامیانے نہیں لگے تھے، جنت ودوزخ، حوروغلماں،لوح وقلم اور عرش وکرسی، کسی کا وجود نہ تھا،تب بھی محبت رسول کے ساتھ ہی نعت خوانی کی گئی تھی اور آج بھی وہی شعراء اس میدان میں کامیاب ہیں، جن کے دل اس نعمتِ عظمیٰ کی آماجگاہ ہیں۔قمرؔبستوی خود سنت رسول کا پیکر ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا دل، عشق رسول کے نور سے معمور ہے۔
وہی تو لے کے تجھ کو خلد میں بے خوف جائے گا
قمرؔ تو نے نبی کا عشق جو دل میں بسایاہے
راقم الحروف، موصوف کو 1982سے جانتا ہے اور تقریباً چار سال تک ان کے زیرتربیت رہنے کی خوش نصیبی حاصل ہوئی۔ اس دوران کبھی بھی دینی معاملات میں تساہلی کرتے، یا سنت رسول سے غفلت برتتے نہیں دیکھا۔بڑوں کا احترام،چھوٹوں پر شفقت اور عوام سے خندہ پیشانی سے ملناان کی عادات کا حصہ ہے۔ اکثر نعت خوانی کی محفلوں میں ان کی آنکھیں نم ہوتی دیکھی ہیں اور جب بھی ذکر مدینہ،ان کی زبان سے سنا آوازگلوگیرہوتی محسوس کی ہے۔
ذراسا فاصلہ ہے ان کے در کا دیدہئ تر سے
اِدھر آنکھیں ہوئیں نم دل مچل کر چل دیا گھر سے
یہ کہکر اس نے میرے دل کی دھڑکن تیز کر ڈالی
ابھی میں لوٹ کے آیا ہوں کل، سرکار کے در سے
علامہ مفتی محمدقمرالحسن قمرؔ بستوی بنیادی طور پر ایک ہندوستانی ہیں جوگزشتہ تیس برسوں سے امریکہ میں مقیم ہیں اور اب وہاں کے شہری بھی ہوچکے ہیں۔ اترپردیش کا ضلع بستی ان کا آبائی وطن ہے۔ وہ نصاب نظامیہ وعالیہ کے مطابق عالم وفاضل ہیں نیزلکھنویونیورسٹی وعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فارسی اور اردو میں ایم اے ہیں۔ان کی تحریر ہی شستہ وشائستہ نہیں ہوتی بلکہ ان کی بولنے کی زبان بھی انتہائی فصیح وبلیغ اور عالمانہ ہے۔وہ اردو میں گفتگو کرتے ہیں یا خطابت کرتے ہیں توگویا زبان کا حق اداکردیتے ہیں اورامریکہ میں ایک طویل مدت سے قیام کے باجود تقریر کے دوران نگلش کا ایک لفظ زبان پر نہیں آتا۔ ظاہر ہے کہ اس کا اثر ان کی شاعری کی زبان میں بھی دیکھنے کوملتا ہے۔ ذیل کے اشعار ملاحظہ کریں جن میں مضمون آفرینی اور فکروخیال کی بلندی ہی نہیں بلکہ زبان کے حسن کی چھٹائیں بھی بکھرتی نظر آرہی ہیں۔
نگاہوں میں دیار سید والا سمایا ہے
زباں پر اللہ اللہ نام نامی ان کا آیا ہے
انھیں کا ذکر ہے گلشن میں، صحراؤں میں دریا میں
انھیں کا نورِ اقدس دو جہاں میں ہر سو چھایا ہے
یہ باغ وبن کی رعنائی، گل وگلشن کی گلکاری
جمال سرورِ عالم سے دنیا کو سجایا ہے
مصطفےٰ لکھنا نور لکھ دینا
ان کو دل کا سرور لکھ دینا
ہرگلی کوچہ قدسیوں کا ہجوم
شہر طیبہ کو طور لکھ دینا
پھول پتی کلی کلی اُن کی
صحن عالم کی دلکشی اُن کی
چھولیا عرش کی بلندی کو
یاد مجھ کو جب آگئی اُن کی
نبی کا ذکر کیا اور ہوا مہکنے لگی
پڑھا سلام تو گھر کی فضا مہکنے لگی
وسیلہ سرور کونین کا لیا جب بھی
سکون دل کو ملا اور دعاء مہکنے لگی
زباں پہ آیا مری جب بھی یارسولَ اللہ
اُفُق اُفُق پہ یہ پیاری صدا مہکنے لگی

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں ہے)

متعلقہ خبریں

Leave a Comment