امریکہ کا صدارتی انتخاب اور عالمی سیاسی منظر نامہ-ڈاکٹر مشتاق احمد

حسبِ روایت اس بار بھی امریکہ کے صدارتی انتخاب پر پوری دنیا کی نگاہ ٹکی ہوئی ہے کہ موجودہ صدر ٹرمپ کی واپسی ہوتی ہے کہ بائڈین کے لیے وہائٹ ہاؤ س کے دروازے وا ہوتے ہیں۔یوں تو امریکہ میں صدارتی انتخاب کی ہلچل گذشتہ ایک سال سے جاری ہے اور اس کے لیے ٹرمپ کے حامیوں نے ماحول کو سازگاربنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ۔ لیکن بائڈین کے حامیوں کے ذریعے بھی ان تمام مورچوں پر جواب دیا جا رہاہے جہاں کہیں بھی ٹرمپ کی سبقت نظر آتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ صدر ٹرمپ کے بڑبولے پن نے ان کے حامیوں کو بھی مشکلوں میں ڈال رکھا ہے ۔ بالخصوص کورونا وائرس کے متعلق ان کے فیصلے سے ان کی شخصی ساکھ کو خاصا نقصان پہنچا ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ حالیہ دنوں میں امریکہ کے اندر نسلی تصادم کی وجہ سے بھی ٹرمپ کی سیاسی کشتی ڈگمگا رہی ہے۔ گذشتہ چھ ماہ سے سیاہ فام تنظیموں کے ذریعہ مسلسل مظاہرے ہو رہے ہیں ۔ جہا ں تک اقتصادی بحران کا سوال ہے تو اس معاملے میں بھی ٹرمپ کو کامیابی نہیں مل پائی ہے کہ کورونا اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہزاروں امریکی نوجوان بیروزگار ہو چکے ہیں ۔ ہم سب جانتے ہیں کہ امریکہ کا صدارتی انتخاب کسی مبینہ لہر کا شکار نہیں ہوتا البتہ امریکہ کی سیاسی پالیسی کے حامیوں کے ذریعہ اپنے من پسند امیدوار کو کامیاب کرنے کی ہر وہ شطرنجی چال چلی جاتی ہے جس کی بدولت وہ اپنے مخالفین کو مات دے سکیں ۔ صد فیصد تعلیم یافتہ ووٹر یہ طے کرتے ہیں کہ آئندہ امریکہ کی تصویر اور تقدیر بدلنے کی قوت کس امیدوار کے اندر ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہودی لابی ہمیشہ سے امریکی انتخاب کے لیے سرگرم رہی ہے اور اس بار بھی وہ ٹرمپ کے لیے مہم سازی میں لگی ہوئی ہے کیوں کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جو سیاسی خلیج ہے اور اسرائیل کے ذریعہ فلسطینیوں پر ظلم ڈھائے جاتے رہے ہیں اس میں امریکی سیاست کا عمل دخل رہاہے۔حالیہ دنوں میں صدر ٹرمپ نے بھی فلسطین کے خلاف ماحول سازی میں اسرائیل کا ساتھ دیا ہے اس لیے پوری دنیا کی یہودی لابی چاہتی ہے کہ صدر ٹرمپ کی واپسی ہو ۔ لیکن بائڈین کی دعویداری نے ٹرمپ کی نیند اڑا دی ہے کیوں کہ بائڈین کی شخصیت نہ صرف پر وقار ہے بلکہ امریکی عوام کی نگاہوں میں محترم بھی ہے۔ ٹرمپ کے غیر متوازن بیانات اور کئی غیر دانشمندانہ فیصلوں کی وجہ سے عالمی سطح پر امریکہ کی ساکھ گری ہے ۔ چین کے ساتھ امریکہ کی دوری بڑھنے میں بھی ٹرمپ کا کلیدی کردار ہے ورنہ امریکی تاجر وں کا موقف رہا ہے کہ چین کے ساتھ ہمارے تجارتی تعلقات بحال رہنے چاہئیں ۔اس انتخاب میں ٹرمپ کا سب سے بڑا دشمن چین ہے اور چین کے حامیوں کے ذریعہ بھی ٹرمپ کو وہائٹ ہاؤس سے بے دخل کرنے کی کوشش جاری ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹرمپ کی وجہ سے امریکہ میں نہ صرف سیاسی بحران پیدا ہوا ہے بلکہ اقتصادی بحران میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ امریکی صدارتی انتخاب میں صدارتی ا میدواروں کے درمیان مباحثے کو غیرمعمولی اہمیت حاصل ہے لیکن اس بار کے صدارتی خطاب میں ٹرمپ کا کوئی واضح سیاسی نظریہ سامنے نہیں آیا ہے اس کی وجہ سے بھی امریکی میڈیا نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔جب کہ ان کے مخالف بائڈین نے امریکہ میں کورونا اور لاک ڈاؤن سے پیدا شدہ مسائل کو اپنی تقریر کا موضوع بنایا اور امریکہ کے لیے نئے خطوط بھی پیش کیے ۔ آخری صدارتی مباحثے میں بھی ریپبلک امیدوار اور موجودہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے کہیں زیادہ مؤثر تقریر ڈیموکریٹک امیدوار بائڈین کی رہی ۔ واضح ہو کہ تین نومبر کو امریکہ میں صدارتی انتخاب ہونا ہے اور اس کے لئے اب دونوں امیدواروں کےلیے  بہت کم وقت رہ گیا ہے۔ اس بار کے انتخابی مباحثے میں کوویڈ 19،نسل پرستی کے مسائل ، ماحولیاتی تبدیلی ، قومی سلامتی اور قائدانہ قابلیت کو موضوع بنایا گیاہے۔ امریکی میڈیا نے بھی ان ہی موضوعات کی روشنی میں دونوں صدارتی امیدوار کا تقابلی مطالعہ پیش کیا ہے ۔ صدر ٹرمپ کو اگر یہودی لابی پر امید ہے تو بائڈین کو افریقی اور ایشیائی ووٹروں پر بھروسہ ہے ۔ بائڈین اور ٹرمپ دونوں امریکہ کی اقتصادی حالت کو مستحکم کرنے کی وکالت کر رہے ہیں لیکن ووٹروں کے رجحان سے ایسا لگتا ہے کہ کورونا کے مسائل کو حل کرنے میں ٹرمپ ناکام رہے ہیں اور اس کا خسارہ ان کو ہو سکتا ہے۔ واضح ہو کہ امریکہ میں کوروناوائرس سے جاں بحق ہونے والے شہریوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے ۔بائڈین نے اپنے ووٹروں کے سامنے مستقبل کا روڈ میپ بھی رکھا ہے اور امریکی معیشت پر کورونا وائرس کے خلاف لڑائی لڑنے کا عہد کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بائڈین کے حامیوں کے ذریعہ امریکی ووٹروں کو کس طرح اپنے حق میں کر پاتے ہیںکیوں کہ امریکی میڈیا کا جھکاؤ ٹرمپ کی طرف قدرے زیادہ ہے۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ معاشی بحران اور صحتِ عامہ کے مسئلہ پر امریکی عوام ٹرمپ سے قدرے بد دل ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ماحولیاتی تبدیلی اور امیگریشن کے مسائل کو لے کر ایشیائی ووٹر بھی ٹرمپ کے خلاف نظر آتے ہیں ۔ بائڈین پر مبینہ طورپر یہ الزام لگایا جا رہاہے کہ وہ امریکی معیشت کو سوشلزم کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ بائڈین نے امریکہ کے بڑے تاجروںپر ٹیکس میں اضافے کی بھی بات کہی تھی اس کو لے کر بھی تاجروں کا ایک بڑا حلقہ بائڈین کے خلاف نظر آتا ہے ۔ لیکن ایک مثبت بات یہ ضرور ہے کہ امریکی میڈیا نے خارجہ امور پر بائڈین کے نظریے کی تعریف کی ہے ۔مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کو صدر ٹرمپ اپنی بڑی کامیابی مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کی وجہ سے ہی اس خطے میں جنگ نہیں ہو سکی ہے جب کہ ان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ امریکہ میں نسلی منافرت پر قابو پانے میں ناکام رہے ہیں اور اس کا خسارہ انہیں ہوسکتا ہے۔ ایسی صورت میں امریکہ کا یہ انتخاب بہت دلچسپ ہے کہ کورونا وائرس کے بعد پیدا شدہ مسائل نے امریکی صدر کے بیشتر کاموں پر پانی پھیر دیا ہے اور اس کا فائدہ بائڈین کو مل سکتا ہے۔ لیکن سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ پوری دنیا کی یہودی لابی ٹرمپ کے حق میں ہے ایسی صورت میں بائڈین کا کامیاب ہونا کسی کرشمہ سے کم نہیں ہوگا کیوں کہ اس وقت پوری دنیا کی سیاست کا ریموٹ کنٹرول یہودی لابی کے ہاتھوں میں ہے کہ وہ زندگی کے تمام شعبوں پر قابض ہے ۔ امریکی انتخاب میں ہندوستانی ووٹروں کابھی اہم رول ہوتا ہے شاید اس لیے ٹرمپ نے شروع سے ہی ہندوستانی وزیر اعظم سے دوستانہ تعلقات استوار رکھا بلکہ اس کا پروپیگنڈہ بھی خوب کیا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ میں ہندوستانی ووٹر وں کا فیصلہ کس کے حق میں ہوتا ہے کہ بائڈین نے بھی غیرملکی امریکی باشندوں کے لیے مختلف فلاحی اسکیموں کا خاکہ پیش کیا ہے ۔ خصوصی طورپر ہندوستانی نوجوانوں کے لیے امریکہ میں روزگار کے مواقع دینے کی وکالت کی ہے ۔اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ ٹرمپ کو صد فیصد ہندوستانی ووٹروں کی حمایت مل سکے گی۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے امریکی شہری بھی خاموش ہیں کہ گذشتہ انتخاب کی طرح ان شہریوںکے اندر کوئی جوش وخروش نظر نہیں آرہا ہے اس لیے امریکی میڈیا بھی کسی بھی امیدوار کے تعلق سے کوئی فیصلہ کن اشارہ دینے سے قاصر ہے اور سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ امریکی دانشوربھی خاموشی اختیار کیے  ہوے ہیں ورنہ پہلے صدارتی انتخاب کے تعلق سے مختلف شعبۂ حیات کی نمایاں شخصیات اور دانشوروں کی آرا ذرائع ابلاغ کے ذریعہ عوام الناس تک پہنچتی تھی اور جس سے امیدواروں کو خاطر خواہ فائدہ بھی پہنچتا تھا۔ لیکن اس بار ایسا کچھ بھی نظر نہیں آرہا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ امریکہ کا یہ صدارتی انتخاب امریکہ کی سیاست کے لیے ایک نئی تاریخ رقم کرے گا۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*