بائیڈن حکومت اسرائیل کی حمایت میں کھڑی رہے گی،اسرائیلی وزیر دفاع کو یقین دہانی

واشنگٹن :اسرائیل کے وزیرِ دفاع بینی گینتز کے دورہ امریکہ کے موقع پر امریکی حکام نے اسرائیل کے حقِ دفاع کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔بینی گینتز نے جمعرات کو اپنے امریکی ہم منصب لائیڈ آسٹن اور مشیر قومی سلامتی جیک سلیوان سے ملاقات کی۔ دونوں امریکی حکام نے اسرائیل کے دفاع کے لیے امریکی حمایت کے عزم کو دہرایا۔جیک سلیوان سے ملاقات کے بعد ایک بیان میں امریکی قومی سلامتی کونسل کی خاتون ترجمان ایملی ہورن نے بتایا کہ بات چیت کے دوران دونوں رہنماؤں نے اسرائیل اور فلسطینی جنگجوؤں کے درمیان ہونے والی حالیہ جھڑپوں کے معاملے پر گفتگو کی، جس کا اختتام گزشتہ ماہ کے اواخر میں ناپائیدار جنگ بندی کی صورت میں سامنے آیا تھا۔ ایملی ہورن نے کہا کہ سلیوان نے اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کے بارے میں صدر بائیڈن کی جانب سے غیر متزلزل حمایت کے بیان کو دہرایا۔ ساتھ ہی انہوں نے آئرن ڈوم فضائی نظام سمیت ہر قسم کی حمایت کا اعادہ کیا جس میں امریکہ اسرائیل سیکیورٹی پارٹنرشپ کے تمام پہلوؤں کو ٹھوس بنانے کے عزم کا اعادہ بھی شامل ہے۔ یاد رہے کہ آئرن ڈوم دفاع کا ایسا مضبوط نظام ہے جس کے ذریعے مختصر رینج کے راکٹ اور بھاری اسلحے کی گولہ باری کو فضا میں ہی جھپٹ کر تباہ کر دیا جاتا ہے۔ ہورن نے بتایا کہ جیک سلیوان نے اس بات کی اہمیت پر بھی زور دیا کہ غزہ کے لوگوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فوری امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ ترجمان نے بتایا کہ جیک سلیوان اور بینی گینتز نے استحکام، امن اور سلامتی کو تقویت دینے کے مشترکہ مفاد پر بھی گفت و شنید کی جب کہ دونوں رہنماوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں ملک حکمت عملی کی حامل ترجیحات کو فروغ دینے کے لیے باہمی تعاون جاری رکھیں گے۔یاد رہے کہ اسرائیلی وزیرِ دفاع دورہ امریکہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب 12 برس اقتدار میں رہنے کے بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کا مخالف اتحاد مخلوط حکومت بنانے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔خبر کے مطابق اسرائیلی وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ ایسے میں جب جوہری معاہدے کے معاملے پر امریکہ ایران کے ساتھ گفتگو کا خواہاں ہے، اسرائیل امریکہ کے ساتھ رابطے میں رہے گا۔گینتز کا یہ بیان اسرائیل کے اختیار کردہ روایتی مؤقف سے مختلف معلوم ہوتا ہے۔ اس معاملے پر امریکہ اور وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے درمیان کھلی نااتفاقی جاری رہی ہے۔ امریکی وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن سے ملاقات سے قبل بینی گینتز نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ایران کا جوہری پروگرام اور دیگر سرگرمیاں اسرائیل کے وجود کے لیے خطرے کا باعث ہیں۔ تاہم نیتن یاہو کی سوچ کے برعکس گینتز نے بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر بات چیت کی کھل کر مخالفت نہیں کی۔اسرائیلی وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کا معاملہ یقینی طور پر اسرائیل اور خطے کے دیگر ملکوں کی اسٹریٹجک ضرورت کے عین مطابق ہے۔