امریکہ اور یورپ پہلی دنیا اور ہم تیسری دنیا کیوں ہیں؟مسعود جاوید

پولیٹیکل سائنس کی کلاس میں پروفیسر صاحب نے سرسری طور پر ایک دنیا میں تین دنیا پاۓ جانے پر روشنی ڈالی تھی لیکن کنویں کا مینڈک جب تک باہر زمین پر نہیں آتا اسے باہر کی دنیا کا پتہ نہیں ہوتا۔ کلاس روم کی باتیں عموماً نظریاتی ہوتی ہیں مگر جن طلباء کو زندگی کے میدان میں ان اسباق کا عملی تجربہ کرنا پڑتا ہے یا ان نظریات کے متماثل واقعات سے واسطہ پڑتا ہے صحیح معنوں میں اس وقت وہ اسباق سمجھ میں آتے ہیں۔
جب میں خلیج میں ایک پٹرولیم کمپنی میں نے ایک مینیجریل پوسٹ پر کام شروع کیا تو پہلی دوسری اور تیسری دنیا کی خانہ بندی اور اس کے مثبت و منفی اثرات کو عملی طور پر نہ صرف سمجھا بلکہ اس پر عملدرآمد کرانا میرا فریضہ منصبی ٹھہرا اس لئے کہ پٹرول نکالنے والی کمپنیوں کی پالیسی تھی کہ پہلی دنیا کے ملازمین ؛ انجنیئر، ڈریلر ، رگر اور میکانیک وغیرہ کی تنخواہیں اور مراعات دوسری اور تیسری دنیا کے ملازمین سے چالیس پچاس فیصد زیادہ ہو۔ اسی طرح رگ اور مشینری کے پارٹس کی خریداری کے بارے میں پالیسی تھی کہ ان کا امپورٹ لازمی طور پر پہلی دنیا کے ممالک سے ہو چنانچہ خواہ وہ پارٹس تیسری دنیا کے ممالک میں کم قیمت پر دستیاب ہوں ، ہم ابردین اور ٹیکساس سے امپورٹ کرنے کے پابند تھے۔
شروع شروع میں یہ بھید بھاؤ، تفریق اور امتیازی سلوک میرے لئے ایک صدمہ سے کم نہیں تھا۔ تاہم رفتہ رفتہ اپنے امریکی اور برطانوی رفقاء کار کے ساتھ اختلاط سے فرق کی وجوہات سمجھ میں آنے لگیں جو امتیازی سلوک کا مکمل جواز تو نہیں پیش کر پایا مگر ایک حد تک مطمئن کرتا تھا۔
دراصل دنیا کی ١-٢-٣ میں تقسیم ہمیشہ معرض بحث رہی ہے کہ امریکہ اور مغربی یورپ یعنی سرمایہ دارانہ نظام والے ممالک کو پہلی دنیا ، سوویت یونین اور اشتراکی نظام والے ممالک مشرقی یورپ اور کیوبا وغیرہ کو دوسری دنیا اور باقیوں کو تیسری دنیا کی اصطلاح سے معنون کرنے کا یا برتر اور کمتر سمجھنے کا حق کسی کو کس نے دیا اور کیوں وہ دوسری اور تیسری دنیا کے لوگوں کو حقارت کی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ دوسری اور تیسری دنیا کے باشندوں کے بارے میں ایسی رائے کیوں رکھتے ہیں کہ وہ بیک ورڈ ، کاہل، غیر ذمہ دار ہوتے ہیں اور سب سے بری بات یہ کہ وہ وقت کے پابند نہیں ہوتے۔
سوویت یونین کے سقوط کے بعد دوسری دنیا کی اصطلاح ختم ہوئی مگر فرسٹ ورلڈ اور تھرڈ ورلڈ کی اصطلاح پر اعتراض ہوتا رہا اور بالآخر ترقی یافتہ ممالک اور ترقی پذیر ممالک کی اصطلاح متبادل بن کر ابھری۔ تیسری دنیا کے لوگ اس اصطلاح سے مطمئن ہوگئے اور کہا کہ یہ اصطلاح ہمیں اپنی اصلاح اور بہتر کارکردگی کے مواقع فراہم کرتی ہے دوڑ میں رکھتی ہے کہ ہم بھی تعلیم، صحت عامہ، انفراسٹرکچر ایڈمنسٹریشن ( پولیس اور انتظامیہ) اقتصادی حالات اور حقوق انسانی کا ریکارڈ بہتر کر کے ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہو جائیں ‌۔
تاہم نقائص سے خالی یہ اصطلاح بھی نہیں ہے اس لئے کہ تفریق اور برتری و کمتری کی خانہ بندی اگر کسی ملک اور اس کی عوام کی مالی حیثیت ہے تو جہاں ایک جانب خود امریکہ میں کئی ایسے علاقے ہیں جہاں افلاس ، بے روزگاری اور صحت عامہ کی سہولیات کی کمی ہے پھر بھی وہ فرسٹ ورلڈ بنا رہے اور خلیجی ممالک جو تیل اور دوسرے ذرائع سے دنیا کے امیر ترین ممالک میں شمار ہوتے ہیں وہ تیسری دنیا کی فہرست میں رہیں ایسا کیوں ؟
آمدم بر سر مطلب یہ کہ پچھلے دنوں امریکہ میں ایک سفید فام پولیس نے ایک سیاہ فام امریکی شہری ، جو بظاہر نہ کوئی کریمنل تھا اور نہ دہشتگرد بلکہ اس کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس نے جس کرنسی نوٹ سے سگریٹ خریدا تھا وہ بقول سفید فام عربی النسل فلسطینی ابو میالہ( دکاندار) جعلی نوٹ تھا، کے خلاف نسلی بربریت کا جو نمونہ پیش کیا اس نے مہذب دنیا کے لوگوں میں غم و غصہ بھر دیا۔ امریکہ میں بلا تفریق سفید فام اور سیاہ فام، شہریوں کی اتنی بڑی تعداد مظاہرہ کرنے سڑکوں پر اترے کہ بیسیوں شہروں میں کرفیو لگانی پڑی پولیس کے لئے کنٹرول کرنا ناممکن ہو گیا تو ریزرو فورس بلایا گیا۔ لوگوں کا غصہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا تو پولیس نے معافی کے اپنے انداز میں سینے پر ہاتھ رکھ کر اس نسل پرست ظالم پولیس کی طرف سے معذرت چاہی بات پھر بھی نہیں بنی تو مظاہرے کے مواقع پر موجود تمام پولیس کے افراد اپنے گھٹنوں پر کھڑے ہوکر اس حادثے پرافسوس اور مظلوم کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے معافی مانگی۔ حادثہ کے فوراً بعد صدر ڈونالڈ ٹرمپ ٹویٹ غیر ذمہ دارانہ ٹویٹ کیا جس نے آگ پر گھی کا کام کیا تاہم سلام ہے اس پولیس کمشنر کی جرأت کو جس نے دنیا کی سب سے طاقتور ملک کے صدر کو کہا کہ "اگر کچھ نہیں بول سکتے تو اپنا منہ بند رکھیں”.. (اردو زبان کی نفاست اور ادبیات کبھی کبھی مدعا کی ادائیگی میں ہلکی رہ جاتی ہی۔ جو کرختگی keep your mouth shut میں ہے وہ اپنا منہ بند رکھیں کہنے سے پوری طرح ادا نہیں ہوتی۔ ویسے چونکہ کہنے والا ایک ذمہ دار پولیس کمشنر ہے اور مخاطب صدر جمہوریہ اس لئے ادب آداب اور احترام کے تقاضوں کے تحت اس مہذب اسلوب میں بات کہی گئی ورنہ ایسے موقعوں پر امریکیوں کے لئے ایف۔۔۔ یو۔۔۔ کہنا عام بات ہے)
اس واقعے نے آج پھر سے میرے ذہن میں وہ پرسیپشن تازہ کر دیا کہ امریکہ اور مغربی یورپ کے لوگ فرسٹ ورلڈ یا ترقی یافتہ مہذب ترین ممالک کے شہری کہلانے کے مستحق کیوں ہیں۔ ( یو ایس ایڈمنسٹریشن کی خارجہ پالیسیوں بالخصوص دوسرے ممالک؛ مشرق وسطی، فلسطین، عراق ،افغانستان، مصر، لیبیا وغیرہ میں امریکہ نے اپنے حلیفوں کے ساتھ مل کر جو کچھ کیا یا کر رہا ہے وہ اس مضمون کے مفہوم سے مستثنیٰ ہے)
کیا تیسری دنیا کے کسی ملک میں کوئی پولیس کمشنر ایسی جرأت کر سکتا ہے اور اگر اپنی ڈیوٹی سے وفاداری کے جوش میں ایسا کچھ کیا یا کہا تو اس کا حشر کیا ہوگا اس کا اندازہ ہم سب کو بخوبی ہے۔
کیا تیسری دنیا کی پولیس اتنی عوام دوستی کا مظاہرہ کر سکتی ہے ؟ کیا ہمارے یہاں فرقہ وارانہ تعصب سے اٹھ کر کسی مظلوم کے ساتھ اس طرح لوگ کھڑے ہو سکتے ہیں؟
پولیس ریفارم کی بات ٢٠١٤ سے قبل کی جاتی تھی مگر سیاسی ٹھگ اس کے لئے کبھی سنجیدہ نہیں رہے۔ سول سوسائٹی کے لوگ کبھی آواز اٹھائیں تو morale down ‌نہ کیا جائے کہ کر ان کے منہ بند کرا دیے جاتے تھے اب تو خیر یہ سب باتیں بھی نہیں کی جا سکتی۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*