امیرالمومنین حضرت علیؓ اور ماحولیات-پروفیسر اسلم جمشید پوری

(پروفیسر اسلم جمشیدپوری)

اکیسویں صدی میں ماحولیات پر خاص توجہ صرف کی جارہی ہے۔ ہوا، پانی، مٹی، حیوانات، نباتات وغیرہ کا کرہئ ارض سے گہرا ربط ہے۔ دوسرے معنوں میں دیکھا جائے تو زندگی کے لیے ان عناصر کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہے۔ انسان ہوں یا حیوانات،زندگی کے لیے خالص ہوا، پانی، مٹی، سبزی وغیرہ کی اشد ضرورت ہے۔ آج ان تمام عناصر میں آلودگی پھیل چکی ہے۔ ہوا میں زہریلی گیس، الٹراوائلٹ کرنیں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار روز بہ روز بڑھ رہی ہے۔ ہمارا پانی بھی ہوا کی طرح آلودہ ہو چکا ہے۔ مٹی کا کٹاؤ، نباتات کی بربادی، جانوروں کی تعداد کا توازن متزلزل ہو گیا ہے۔ نئے نئے وائرس، جراثیم کش دوائیں اور زہر یلی ہوا کے سبب جانور مرتے جارہے ہیں۔ جنگل کاٹ کر فلیٹ بنائے جارہے ہیں۔ آلودگی کے ساتھ ساتھ پانی کی مقدار میں واقع ہونے والی کمی نے ہمارے آس پاس کے ماحول کو خطرناک حدتک متاثر کیا ہے۔ ہمارے کھانے پینے کی اشیاء حتیٰ کہ دودھ تک اب خالص نہیں رہا۔ ایسے میں زندگی پر منفی اثرات پڑنا عین فطری ہے۔ پوری دنیامیں بننے والے مختلف جنگی ہتھیار، ایٹم بم، کیمیکل اور بائیولو جیکل ویپن نے بھی ہمارے ماحول کو خاصا آلودہ کیا ہے۔ پھر برق رفتاری سے ڈیزل اور پٹرول کی کھپت اوراس کے نتیجے میں برآمد ہونے والا کثیف دھوا ں انسان، حیوانات اور نباتات کے لیے مضر ثابت ہورہاہے۔ اکیسویں صدی میں ان خطرات کے بڑھنے کا سلسلہ خاصا تیز ہوا ہے۔ لہٰذا ان سے تحفظ کی کوششیں بھی تیز ہوئی ہیں۔پودے لگانے( Plantation)،پانی بچانے( Water Harvesting)،صفائی ستھرائی وغیرہ سے ماحول کے تحفظ کی کاوشیں ہو رہی ہیں۔
اسلام، مذہب فطرت ہے۔ اس میں ہر طرح کے حالات، سوالات اور مسائل کا حل موجود ہے۔ اسلام نے نباتات، حیوانات اور آب و ہوا کے تعلق سے بھی ہمیشہ فکر کی ہے۔ اسلام نے زندگی کے تحفظ کی ذمہ داری کے اصول بھی بیان کیے ہیں۔ یہی نہیں اسلام نے دنیا کے نظا م of Universe Cycle میں ہمیشہ تعاون کیا ہے۔ قرآن اوراحادیث میں اس طرح کے احکامات اوراعمال بھرے پڑے ہیں، جن میں نباتات اور حیوانات کے تعلق سے ہدایات درج ہیں۔ اسلام جانوروں سے صلہ رحمی کی تعلیم دیتا ہے۔ ساتھ ہی صفائی کو نصف ایمان سمجھا جاتا ہے۔ ماحولیات کے تحفظ میں اسلامی قوانین بہت معاون ہیں۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور خلیفہ چہارم امیرالمومنین حضرت علی ابن طالب کی دیدہ وری، دانشوری، علمیت، بزرگی، برد باری، حکمت، تقویٰ وغیرہ کے بارے میں کسی کا فر کو بھی شک نہیں ہوگا۔ وہ ایک بڑے عالم ہی نہیں بلکہ عالم بہ عمل تھے۔ ان کی پوری زندگی ہمارے لیے مثالی ہے۔ آپ انصاف کے لیے مشہور تھے۔آپ کی شُجاعت بے مثل تھی۔آپ نے جو خطبات دیے اور جو خطوط لکھے وہ زندگی کے ہر پہلو کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں۔ زندگی کا وہ کون ساموضوع ہے جس پر آپ نے اپنی مدلل رائے بمطابق سنتِ رسول اور قرآن کے نہ پیش کی ہو۔ عرفانِ اِلہیٰ، زمین و آسمان کی تخلیق، آدم کی پیدائش، ابلیس کا غرور، نماز،روزہ، حج، زکوٰۃ، فتویٰ، جہاد، جنگ، دنیا کی بے ثباتی، آخرت کی تیاری، دنیا کی مذمت، غداری کی مذمت، اللہ کی عظمت و جلالت، زندگی، موت، زندگی بعدالموت، احکام شریعت، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح و توصیف، بعثت سے قبل کے حالات، ملک الموت، اہل بیت کی عظمت، قرآن کی اہمیت، چوپایوں، درندوں اور عورتوں کے عادات و خصائل، رزق ِ حلال، پختہ اور متزلزل ایمان، غرور کی مذمت، امانت، علم و ادب، خود پسندی، ناشکری، خضاب، غیر جانب داری، شرم و حیا، عمل اورنسب، پردہ پوشی، میانہ روی، سفارش، احسان کا بدلہ، دانا و نادان، عاقل واحمق، مومن و منافق، شریف و رذیل، غرض ایسے ایسے موضوعات اور زندگی کے پہلو آپ کے خطابات اور مکتوبات میں شامل ہیں،جن کے بارے میں ہم جانتے بھی نہیں۔ ایسے میں یہ کیسے ممکن تھا کہ کائنات یعنی آب و ہوا اور ماحولیات کے تعلق سے آپ کے ارشادات موجود نہ ہوں۔ آپ کے کلام کی فصاحت و بلاغت کا یہ عالم تھا کہ جس موضوع پر گفتگو کرتے، اسے دلوں میں پہ نقش کر دیتے۔ علامہ احمد بن منصور کازردنی اپنی کتاب مفتاح الفتوح میں لکھتے ہیں:
”جو حضرت کے کلام اورخطوط اورخطبوں اورتحریروں پر غور کی نگاہ ڈالے اُسے معلوم ہوگا کہ حضرت کا علم کسی دوسرے کے علم کی طرح اور حضرت کے فضائل پیغمبر کے بعد کسی دوسرے کے فضائل کے قبیل سے نہیں تھے۔۔۔“
آگے اور لکھتے ہیں:
”اور خدا کی قسم آپ کی فصاحت کے سامنے تمام فصحا کی فضاحت اوربلیغوں کی بلاغت اورحکماء روز گار کی حکمت مفلوج و معطل ہو کر رہ جاتی ہے۔“
(نہج البلاغہ، مفتی جعفر حسین،ص 42، نظامی پریس، لکھنؤ 2004ء)
حضرت علیؓ کے خطبات، مکتوبات، کلام اور متعدد تحریروں میں ماحولیات کے تعلق سے بہت کچھ ملتا ہے۔ وہ اللہ کی قدرت کی باریکیوں کو سمجھاتے ہوئے اس کی متعدد مخلوق کا مفصل بیان کرتے ہیں ان کا ایک بیان ملاخطہ کریں:
”جو چیونٹی کا پیدا کرنے والا ہے وہی کھجور کے درخت کا پیدا کرنے والا ہے۔ کیوں کہ ہرذی حیات کے مختلف اعضاء میں باریک ہی سافرق ہے۔ اس کی مخلوقات میں بڑی اور چھوٹی، بھاری اورہلکی، طاقتور اور کمزور چیزیں یکساں ہیں اور یو نہی آسمان، فضا،ہوا اورپانی برابر ہیں۔ لہٰذا تم سورج، چاند، سبزے، درخت، پانی اور پتھر کی طرف دیکھو اور اس رات دن کے یکے بعد دیگرے آنے جانے اور اُن دریاؤں کے جاری ہونے اور اُن پہاڑوں کی بہتات اور اُن چوٹیوں کی اُچان پر نگاہ دوڑاؤ۔“
(نہج البلاغہ، مفتی جعفر حسین،خطبہ 183ص 190-91، نظامی پریس، لکھنؤ 2004ء)
منقولہ بالا اقتباس حضرت علیؓ کے ایک طویل خطبے سے ماخوذ ہے۔ یہ ہمارے آس پاس کے ماحول کی عمدہ عکاسی کرتا ہے۔ اس میں حیوان(چیونٹی)،نباتات (کھجور) ماحولیات آسمان، فضا، ہوا اورپانی کاذکر ہے۔ یہی نہیں سورج، چاند جو ہماری فضا کے درجہئ حرارت کو متاثر کرتے ہیں۔ ان کی بھی بات کی گئی ہے۔ سبزے، درخت یعنی سبھی نباتات شامل ہیں۔ پانی اورپتھر کا مطلب سمندر، ندی، نالے اور مٹی، ریت، کنکر ہے۔ یہی نہیں دریا، پہاڑ اور پہاڑ کی چوٹیوں کا ذکر بھی شامل ہے۔ ساتھ ہی انسان کو ان سب پر نظر ڈالنے کی تاکید کی جارہی ہے۔ ان تمام کا ذکر کرنے اور غور فکر کی دعوت دینے کے پیچھے حضرت علیؓ کا مقصد فطرت کی خوبصورتی اوراس کا توازن بتانا ہے۔ دراصل ماحولیات ان تمام کا متوازن ہونا ہی تو ہے۔
”اس کی مخلوقات میں بڑی اور چھوٹی، بھاری اورہلکی، طاقتور اور کمزور چیزیں یکساں ہیں اور یونہی آسمان، فضا، ہوا اور پانی برابر ہیں۔“
زمین و آسمان اوراس کے درمیان کی ہر چیز ایک اصول اورضابطے کے مطابق کم زیادہ، چھوٹی بڑی، ہلکی اور بھاری ہے۔ صدیوں سے یہ نظام قدرت یوں ہی چلا آ رہا ہے۔ جب جب کوئی ایک شئے بھی کم یا زیادہ ہوتی ہے تو قدرت کاتوازن(Balance)متزلزل ہوتا ہے اور ماحولیات پراس کے منفی اثرات قائم ہوتے ہیں۔ ماحولیات کے تناسب اورتوازن کو بگاڑ نے میں جن عناصر کا دخل ہے اُن میں انسان بھی شامل ہے بلکہ آج کے ترقی یا فتہ دور میں ماحول کو آلودہ کرنے میں سب سے بڑا کردار انسان کا ہی ہے۔ امیر المومنین کے خطبے میں صاف ہے کہ اللہ نے سب کچھ متناسب اورمتوازن بنایا ہے حتیٰ کہ دن رات کا سلسلہ، دریا اور پہاڑوں کا وجود، سب کچھ ماحولیات کو کنٹرول کرنے کے لیے ہی ہیں۔
”رات دن کے یکے بعد دیگرے آنے اوراُن دریاؤں کے جاری ہونے اورپہاڑوں کی بہتات اوران چوٹیوں کی اُچان پر نگاہ دوڑاؤ۔“
رات دن کا آنا جانا سے مراد موسم کے اعتبار سے ان کے وقفے کا کم زیادہ ہونا ہے یعنی کبھی رات آہستہ آہستہ طویل ہوتے ہوتے دن سے بڑی ہوجاتی ہے تو کبھی دن پھیلتے پھیلتے رات پرسبقت لے جاتا ہے۔ رات کے طویل ہونے سے موسم میں ٹھنڈک بڑھتی ہے جبکہ دن کی طوالت درجہ حرارت میں اضافے کا سبب ہوتی ہے۔ یہی معاملہ دریاؤں یعنی ندی، نالے،تالاب وغیرہ کا بھی ہے ان سے درجہ حرارت متاثر ہوتا ہے۔ پہاڑوں کا بھی یہی معاملہ ہے۔ سبز پہاڑ خوش گوار موسم کا سبب ہوتے ہیں۔ پھر ہم جیسے جیسے پہاڑ کی چوٹی کی طرف بڑھتے ہیں موسم سرد ہونے لگتا ہے۔ حتیٰ کہ برف ہی برف نظر آنے لگتی ہے۔ یہی برف جب پگھلتی ہے تو ندی، جھرنے بہتے ہیں۔ جو زمین کو سیراب کرتے ہیں اور سبز ے اگنے کا سبب بنتے ہیں۔ سبزہ اور جنگل جب متوازن مقدار میں ہوتے ہیں تو ان میں حیوانات کی افزائش ممکن ہوتی ہے۔
بغور مطالعہ کیا جائے تو ہم پر واضح ہوگا کہ امیر المومنین حضرت علیؓ کے مطابق قدرت کا نظام کائنات کو متوازن رکھنا ہے۔ پیڑ پودے، ندی نالے، جانور، ہوا، پانی، مٹی، انسان سب ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزدم ہیں۔ قدرت نے انہیں توازن کے ساتھ بنایا ہے اورقدرت انہیں متوازن بھی رکھتی ہے(یعنی جس جز کی بہتات ہو جاتی ہے، تو پھر قدرتی آفات، شکار، اور دیگر ذرائع سے وہ قابو میں آ جاتی ہے)۔قدرت کا یہی متوازن نظام ِ کائنات در اصل ماحولیات ہے۔نئی صدی میں ماحولیات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ جس میں پانی کا تحفظ،اس کی تقطیر، مٹی کا کٹاؤ روکنا اور نقصان دہ جراثیم کش دواؤں سے تحفظ، ہوا کو صاف رکھنے کے لیے اورمٹی کے کٹاؤ کو کم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پرشجر کاری کی جارہی ہے۔ جانوروں کا تحفظ کیا جا رہا ہے۔ زہر یلی گیسوں سے ہوا کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔
حضرت علیؓ نے اپنے احکام و مواعظ میں جہاں بے شمار موضوعات کی صراحت کی ہے وہیں موسم کے متعلق خصوصاً سردی کے موسم کے بارے میں یوں فرماتے ہیں:
”شروع سردی میں سردی سے احتیاط کرو، اور آخرمیں اس کا خیر مقدم کرو،کیوں کہ سردی جسموں میں وہی کرتی ہے، جو وہ درختوں میں کرتی ہے کہ ابتداء میں درختوں کو جُھلس دیتی ہے اور انتہا میں سر سبز و شاداب کرتی ہے۔“
(نہج البلاغہ، مفتی جعفر حسین،احکام نمبر 128ص 843، نظامی پریس، لکھنؤ 2004ء)
موسم کی تبدیلی اوراس کے اثرات پر آج خاطر خواہ ریسرچ ہوتی ہے۔ موسم کے مزاج میں آنے والی تبدیلیوں کو بتانے کے لیے آج بڑے بڑے محکمہ ء موسمیات قائم ہیں۔جو موسم کی تبدیلی کی ہر اطلاع عوام کو قبل ہی پہنچا دیتے ہیں کہ ہم سب ہوشیار ہو جائیں، اور موسم کے منفی اثرات سے خود کو محفوظ کر لیں۔حضرت علیؓ نے اپنے بیان میں موسم کی تبدیلی کو درختوں کی مثال کے ساتھ پیش کیا ہے۔ یعنی موسم کا جتنااثر انسان، حیوان اوردیگر عناصر ہوا، پانی پر پڑتاہے،اتنا ہی نباتات پر بھی پڑتاہے۔ کئی بار موسم کی مارسے نباتات مرجھاجاتی ہیں اور کئی بار دم بھی توڑ دیتی ہیں۔ اور جب موسم خوش گوار ہو جاتا ہے۔،ہوا زندگی کا پیغام لاتی ہے تو ہر طرف ہریالی ہی ہریالی چھاجاتی ہے۔ شجر سرسبز و شاداب اور جنگل ہرے بھرے ہو جاتے ہیں۔
درج بالا احکام میں نظریہ طب بھی مخفی ہے۔ اِطبّا اورحکماء بھی شروع موسم میں احتیاط کا مشورہ دیتے ہیں۔اس سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں۔ ایک ہم محتاط رہ کر صحت مند رہ سکتے ہیں۔دوسرے موسم کی تبدیلی سے ہم اپنے آس پاس کے ماحول کا تحفظ بھی کر سکتے ہیں۔
آپ، ہم سب بخوبی واقف ہیں کہ امیر المومنین حضرت علیؓ نے مزدور اورکاشتکار کی زندگی گذاری ہے۔ دوسروں کے کھیتوں میں بھی کام کیا اوربنجر اورافتادہ زمینوں کے لیے آبی وسائل مجتمع کرکے انہیں زرخیز اور کاشت کے لائق بنانے کی ہر ممکن کوشش کرتے اور باغات لگا کر انہیں ہمیشہ کے لیے آباد کرتے۔ ان میں سے اکثر زمینیں آپ کی ملکیت ہوتیں۔ لیکن آپ انہیں کا رآمد بناکر دوسروں کے لیے وقف کردیتے۔ اپنی ایک وصیت میں حضرت امام حسن اور امام حسین کو اپنی جائداد وقف کرتے وقت فرمایا:
”جو اس جائداد کا متولی ہو اس پر پابندی عائد ہوگی کہ وہ مال کو اس کی اصل حالت پر رہنے دے اوراس کے پھلوں کوان مصار ف میں جن کے متعلق ہدایت کی گئی ہے،تصرف میں لائے اور یہ کہ وہ ان دیہاتوں کے نخلستانوں کی نئی پود کو فروخت نہ کرے۔ یہاں تک کہ ان نئے درختوں کے جم جانے سے عالم ہی دوسرا ہو جائے۔“
(نہج البلاغہ، مفتی جعفر حسین،وصیت نمبر 24ص 670، نظامی پریس، لکھنؤ 2004ء)
اس وصیت پر ابن ابی الحدیدتحریر کرتے ہیں۔
”سب کو معلوم ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام نے مدینہ اور ینبع اورسویعہ میں بہت سے چشمے کھود کر نکالے اوربہت سی افتادہ زمینوں کو آباد کیا، اور پھراُن سے اپنا قبضہ. اُٹھا لیا اور مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا۔“
(نہج البلاغہ، مفتی جعفر حسین،ص671، نظامی پریس، لکھنؤ 2004ء)
ان دونوں اقتباسات سے دو باتیں بالکل واضح ہیں۔ ایک تو عوام یعنی عام مسلمانوں کے لیے اچھی زمین، باغات وغیرہ کا وقف کرنا دوسراحضرت علیؓ کا کھیتی باڑی، زمین، آب پاشی سے حددرجہ دلچسپی رکھنا۔ شجر کاری کاعمل آج ہمارے عہد کی سخت ترین ضرورت بن گیا ہے جبکہ حضرت علیؓ نے آج سے چودہ سو سال قبل یہ عمل کیا۔ بنجر زمینوں کو آب پاشی اور دوسرے ذرائع سے لائق کاشت بنانا اور پھر ان میں باغات لگانا، دراصل امیرالمومنین کا ماحولیات کے تحفظ کی جانب ہی اقدام تھا۔ اس میں صرف نباتات اُگانا ہی شامل نہیں ہے بلکہ مٹی کی حفاظت اورپانی کا صحیح کام کے لیے استعمال بھی شامل ہے۔ پھر خدمت ِخلق کے عمل نے اس کام کو دوسروں کے لیے نصیحت بنا دیا ہے۔ آج اس کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ یعنی ہم باغات نہیں دے سکتے تو تحفے، تحائف میں پیڑ پودے ضرور دیں۔اورپودے لینے والے پر بھی ذمہ داری عائد ہو تی ہے کہ وہ اس کی پرورش و پرداخت کرے اور اسے سوکھنے اور مرنے نہ دے۔ یہ ماحولیات کے تحفظ کی جانب ہمارا بے مثل عطیہ ہوگا۔
’نہج البلاغہ‘ سے زندگی کے تقریباً ہر پہلو پر روشنی پڑتی ہے۔ اسلام، حضور صلی علیہ وسلم کی تعلیمات، زندگی گذارنے کے طریقے، اعما ل، موت کے بعد کی زندگی اور ہزارہا موضوعات پر بھر پور رہنمائی کرنے والی کتاب میں امیر المومنین حضرت علیؓ نے متدد حیوانات اورحشرات الارض کے بارے میں بڑی تفصیل سے ذکر کیا۔ چیونٹی، ٹڈی، مور،چمگادڑ، اونٹ وغیرہ کے بارے میں آپ کے بیانات حیرت میں ڈال دیتے ہیں اور آپ کی ذہانت، علمیت، خطابت وغیرہ کے بین نفش ثبت کرتے ہیں۔ یہ سارے ہمارے ماحول کا ایک اہم حصّہ ہیں۔ امیر المومنین نے باور کرایا ہے کہ اللہ نے دنیا کی ہر مخلوق کی تخلیق کسی سبب سے کی ہے اور سب کا اپنا اپنا وجود اور دائرہ ہے۔ ایک دو مثالیں دیکھیں:
”کیا وہ لوگ ان چھوٹے چوٹے جانوروں کو کہ جنہیں اس نے پیدا کیا ہے، نہیں دیکھتے کہ کیوں کر ان کی آفرنیش کو استحکام بخشتا ہے اور ان کے جوڑ بند کو باہم استواری کے ساتھ ملایاہے اوران کے لیے کان اورآنکھ کے سوراخ کھولے ہیں اور ہڈی اور کھال کو درست کیاہے۔ ذرا اس چیونٹی کی طرف،اس کی جسامت کے اختصار اورشکل وصورت کی باریکی کے عالم میں نظر کرواتنی چھوٹی کہ گوشہئ چشم سے بمشکل دیکھی جا سکے اور نہ فکروں میں سماتی ہے۔ دیکھو تو کیونکرزمین پر رینگتی پھرتی ہے اور اپنے رزق کی طرف لپکتی ہے اور دانے کو اپنے بِل کی طرف لے جاتی ہے۔“
(نہج البلاغہ، مفتی جعفر حسین،خطبہ نمبر 183ص489، نظامی پریس، لکھنؤ 2004ء)
اسی طرح ٹڈّی کے بارے میں یوں فرمایا:
”اگر چاہو تو (چیونٹی کی طرح) ٹڈّی کے متعلق بھی کچھ کہو، کہ اس کے لیے لال بھبوکا دو آنکھیں پیدا کیں اوراس کی آنکھوں کے چاندسے دونوں حلقوں کے چراغ روشن کیے اوراس کے لیے بہت ہی چھوٹے چھوٹے کان بنائے اور مناسب و معتدل منھ کا شگاف بنایا اوراس کے حس کو قوی اورتیز قرار دیا اور ایسے دو دانت بنائے کہ جن سے وہ (پتیوں) کو کاٹتی ہے اور درانتی کی طرح دو پیر دیے کہ جن سے وہ (گھاس پات کو) پکڑتی ہے۔“
مور کے تعلق سے بھی ان کا بیان ملاحظہ کریں:
”ان سب پر ندوں میں سے زائد عجیب الخلقت مور ہے کہ (اللہ نے) جس کے (اعضاء کو)موزونیت کے محکم ترین سانچے میں ڈھالا ہے اور اس کے رنگوں کو ایک حسین ترتیب سے مرتب کیا ہے۔ یہ (حسن و توازن) ایسے پروں سے ہے کہ جن کی جڑوں کو (ایک دوسرے سے)جوڑدیا ہے اورایسی دُم سے ہے جو دور تک کھنچتی چلی جاتی ہے۔جب وہ اپنی مادہ کی طرف بڑھتاہے تو اپنی لپٹی ہوئی دُم کو پھیلا دیتا ہے اوراسے اس طرح اونچا لے جاتا ہے کہ وہ اس کے سرپر سایہ فگن ہو کر پھیل جاتی ہے۔“
(نہج البلاغہ، مفتی جعفر حسین،خطبہ نمر 163ص 435، نظامی پریس، لکھنؤ 2004ء)
چمگادڑ کے تعلق سے اس بیان کو بھی دیکھتے چلیں:
”گہری حکمتیں ہیں کہ جو اُس نے ہمیں چمگاادڑوں کے اندر دکھائی ہیں کہ جن کی آنکھوں کو دن کا اُجالا سکیڑدیتا ہے، حالانکہ وہ تمام آنکھوں میں روشنی پھیلانے ولا ہے، اور اندھیرا ان کی آنکھوں کو کھول دیتا ہے حالانکہ وہ ہر زندہ شئے کی آنکھوں کو نقاب ڈالنے والا ہے۔“
(نہج البلاغہ، مفتی جعفر حسین،خطبہ نمبر 153ص 405، نظامی پریس، لکھنؤ 2004ء)
آپ نے دیکھاحضرت امیر المومنین نے کس باریک بینی سے چیونٹی، ٹڈی، مور، چمگادڑوغیرہ کے بارے میں معلومات واضح کی ہیں۔ یہی نہیں ان کے تعلق سے آپ کے خطابات کا فی طویل ہیں اوران کی بناوٹ، خوبصورتی اعضاء کا بیان اورپھر ان کے عمل تولید کے مفصل بیان موجود ہیں۔ وہ جگہ جگہ اللہ کی تخلیقی شان کی تعریف بھی کرتے ہیں۔
اونٹ عرب کے ریگستان کاایک انتہائی مفیدوکار آمد جانور ہے۔ اس کی خوبیاں بے مثل ہیں۔ ریگستان کا جہاز ہے اور ہفتوں بغیر کھائے پئے معمول کے مطابق سارے کام کرتا ہے۔ امیر المومنین نے اپنے خطبے میں اس کے تحفظ اوراس کے کھانے پینے کا خاص خیال رکھنے کا حکم دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں:
”جب تمہاراامین اس مال کو اپنی تحویل میں لے لے، تو اُسے فہمائش کرنا کہ وہ اونٹنی اوراس کے دودھ پیتے بچے کو الگ الگ نہ رکھے اورنہ اس کا سارے کا سارا دودھ،د وہ لیا کرے کہ بچے کے لیے ضر رسانی کا باعث بن جائے۔ اوراس پر سواری کر کے اسے ہلکان نہ کر ڈالے۔ اس میں اوراس کے ساتھ کی دوسری اونٹنیوں میں (سواری کرنے اور دوہنے میں‘) انصاف ومساوات سے کام لے۔ تھکے ماندے اونٹ کو سستانے کا موقع دے اور جن کے کھر گھِس گئے ہوں یا پیر لنگ کرنے لگے ہوں اُسے آہستگی اور نرمی سے لے چلے اوران کی گذر گاہوں میں جو تالاب پڑیں وہا ں انہیں پپانی پینے کے لیے اتارے اور زمین کی ہریالی سے ان کا رُخ موڑ کر (بے آب وگیاہ)راستوں پر نہ لے چلے اور وقتاً فوقتاً انہیں راحت پہنچاتا رہے اور جہاں تھوڑا بہت پانی یا گھاس سبزہ ہو انہیں کچھ دیر کے لیے مہلت دے…“
(نہج البلاغہ، مفتی جعفر حسین،ص 674، نظامی پریس، لکھنؤ 2004ء)
بہت واضح ہے کہ حضرت امیر المومنین نے اونٹ اوراس کے بچے کے تعلق سے جن امور کا حکم دیا ہے وہ جانوروں کے ساتھ صلہئ رحمی کا ایک روشن باب ہے۔ اور جانوروں سے صلہئ رحمی، دراصل ماحولیات کے تخفظ کا ہی ایک اقدام ہے جو آج کے عہد میں انتہائی ضروری ہے۔
آخر میں امیر المومنین کے ایک اہم خطبے کا اقتباس پیش کرنا چاہتا ہوں جس میں ماحولیات کا نہ صرف علم موجود ہے بلکہ ماحولیات کا تحفظ قدرتی طور پر کس طرح عمل میں آتا ہے، پر وضاحت وصراحت موجود ہے۔
”پرندے اس کے حکم (کی زنجیروں)میں جکڑے ہوئے ہیں وہ ان کے پروں اورسانسوں کی گنتی تک کو جانتاہے اور(ان میں سے کچھ کے) پیر تری پراور (کچھ کے)خشکی پر جما دیے ہیں اوران کی روزیاں معین کر دی ہیں اور ان کے ا نواع واقسام پر احاطہ رکھتا ہے کہ یہ کوّا ہے اور یہ عقاب۔یہ کبوتر ہے اور یہ شُتر مرغ۔اس نے ہر پرندے کواس کے نام پر دعوت (وجود) دی۔ اور ان کی روزی کا ذمہ لیا اور بوجھل بادل پیدا کیے کہ جن سے مو سلا دھار بارشیں برسائیں اور حصہ رسدی (سر زمینوں پر) انہیں بانٹ دیا اور زمین کو اس کے خشک ہو جانے کے بعد تر بتر کر دیا اور بنجر ہونے کے بعد اس سے(لہلہاتا ہوا) سبزہ اگایا۔“
(نہج البلاغہ، مفتی جعفر حسین،خطبہ نمبر 183ص 492، نظامی پریس، لکھنؤ 2004ء)
امیر المومنین کے خطبہ کے اس اقتباس سے سب کچھ بالکل واضح اورصاف ہو جاتا ہے۔ چرند، پرند، ان کا وجود، رزق۔سب کچھ ایک نظام کے تحت متعین ہے اوران کے رزق کا انتظام جس نظام حیاتCycle of Life)) کے تحت چلتاہے۔یعنی بادل، بارش اور پھر سبزہ کا اُگنا۔ان سب کی طرف مکمل اشارے ہیں، دراصل یہ ہمارے ماحولیات کی تشکیل و تعمیربھی ہے۔اور اس کے تحفظ کا سلسلہ بھی۔ قدرت کا اپنانظام ہے۔انسان نے سائنسی ترقیات،کمپیوٹر اوردیگر مشینوں کی ایجادات سے قدرت کے نظام میں مداخلت کی جو عاقبت نااندیشانہ کوششیں کیں ہیں اس نے ہمارے ماحولیات کا توازن بگاڑا ہے۔ جس کے سبب اب موسم (سردی،گرمی،برسات) کے وقفے اور شدت میں کمی بیشی وقوع پذیر ہو رہی ہے۔ ہوا،پانی،مٹی وغیرہ آلودہ ہو رہے ہیں۔ فصلیں جلد اُگانے اور پکانے کے لیے جو جراثیم کش دوائیں اور انجکشن استعمال کیے جا رہے ہیں، اس سے پھل اور سبزیاں مضرثابت ہورہی ہیں۔ ساتھ ہی مٹی کی زرخیری بھی متاثرہو رہی ہے۔ ماحولیات کے تحفظ کے لیے جہاں ہم دوسرے اقدامات کر رہے ہیں وہیں قرآن و احادیث اورامیر المومنین حضرت علی کے خطبات، مکتوبات اوراحکامات کے پیش نظر قدرت کے کاموں میں مداخلت بند کر دیں اور نباتات، حیوانات سے محبت کرنا سیکھیں۔ پانی کی فضول خرچی بالکل نا کریں اور ہوا کو آلودہ ہونے سے بچائیں۔ یہ ہماری مذہبی اور سماجی ذمہ داری بھی ہے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)