امیر ممالک کی ذخیرہ اندوزی،کیاغریب ممالک کووڈ ویکسین سے محروم رہ جائیں گے؟

واشنگٹن:پیپلز ویکسین الائنز نامی ایک غیر سرکاری تنظیم نے کورونا وائرس کا ویکسین تیار کرنے والی کمپنیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس تکنالوجی میں دوسروں کو بھی شریک کریں تاکہ ویکسین زیادہ سے زیادہ تعداد میں تیار کی جاسکے۔آکسفیم، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور گلوبل جسٹس ناؤ جیسی بین الاقوامی تنظیموں پر مشتمل پیپلز ویکسین الائنز کا کہنا ہے کہ درجنوں غریب ملکوں میں دس میں سے صرف ایک شخص کو ہی کورونا ویکسین مل سکے گی کیوں کہ امیر ملکوں نے ضرورت سے زیادہ ویکسین کا ذخیرہ کرنا شروع کردیا ہے۔ مثال کے طورپر کینیڈا نے اپنی مجموعی آبادی سے پانچ گنا زیادہ کورونا ویکسین کا آرڈر دیا ہے۔الائنز کا کہنا ہے کہ دنیا کے امیر ممالک میں دنیا کی مجموعی آبادی کا صرف 14فیصد رہتی ہے لیکن یہ امیر ممالک کورونا ویکسین کے 54 فیصد کا آرڈر دے چکے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی بقیہ 86 فیصد آبادی کے لیے صرف 47 فیصد ہی ویکسین رہ جاتی ہے۔الائنس کے مطابق یہ امیر ممالک جتنی تعداد میں ویکسین کے آرڈر دے چکے ہیں ان میں سے ان ملکوں کی تمام آبادی کو تین مرتبہ سے زیادہ بار ٹیکے لگائے جاسکتے ہیں۔ الائنز کا کہنا ہے کہ اب تک سب سے موثر سمجھی جانے والی بیون ٹیک۔ فائزر اورموڈیرنا کی تقریباً تما م ویکسین امیر ممالک خرید چکے ہیں۔الائنز نے اس کی ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ کینیڈا نے اپنی ضرورت سے پانچ گنا زیادہ ویکسین کاآرڈر دیا ہے۔ یورپی یونین، امریکا، برطانیہ، جاپان، سوئٹزرلینڈ، آسٹریلیا، ہانگ کانگ، مکاو، نیوزی لینڈ، اسرائیل اور کویت بھی ویکسین کے کافی زیادہ آرڈر دے چکے ہیں۔پیپلز ویکسین الائنز کی مشیر موگا کمل ینّی نے روئٹرز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ’’اسے ملکوں کے مابین زیادہ سے زیادہ ویکسین جمع کرنے کی جنگ نہیں بننا چاہیے۔الائنز نے دواساز کمپنیوں سے اپیل کی کہ وہ کورونا وائرس ویکسین کے فارمولے کو عالمی ادارہ صحت کے ذریعہ دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں تاکہ کورونا وائرس کے لیے زیادہ سے زیادہ ویکسین تیار کی جاسکے۔کمل ینّی کا کہنا تھا کہ عالمگیر وبا کے اس غیر معمولی دور میں دوا ساز کمپنیوں کے منافع سے زیادہ لوگوں کی زندگیوں اور ذریعہ معاش کو ترجیح دی جانی چاہیے۔الائنز کے مطابق بھوٹان، ایتھوپیا اور ہیٹی سمیت 67 ممالک ویکسین حاصل کرنے کی دوڑ میں پیچھے رہ سکتے ہیں۔ بیون ٹیک۔ فائزر کی تقریباً تمام دستیاب ویکسین امیر ملکوں نے خرید لی ہیں۔اوکسفورڈ یونیورسٹی اور ایسٹرا زینکا نے وعدہ کیا ہے کہ وہ 64 فیصد ویکسین ترقی پذیر ملکوں کو فراہم کریں گے لیکن دعوے کے باوجود صرف 18ملکوں تک ہی ویکسین پہنچ سکے گی۔اوکسفیم کی ہیلتھ پالیسی منیجر انّا میریوٹ کا کہنا تھا ‘زندگی بچانے والی ویکسین سے کسی کو صرف اس لیے محروم نا رکھا جائے کہ وہ جس ملک میں رہتا ہے وہ ملک یا خود اس کی جیب اس کو خریدنے کی متحمل نہیں ہے۔” میریوٹ کا کہنا تھا کہ ‘جب تک کوئی ڈرامائی تبدیلی نہیں ہوتی ہے اس وقت تک آنے والے برسوں میں بھی دنیا بھر کے اربوں افراد کو کووڈ۔19 کا محفوظ اور موثر ویکسین ملنا مشکل ہے۔دریں اثنا چین کی ویکسین سائنو ویک کی وجہ سے بھی نئی امیدیں پیدا ہوگئی ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے ڈرگز کنٹرول محکمہ کا دعوی ہے کہ اس کے کلینیکل ٹرائل میں سائنو ویک 86 فیصد موثر ثابت ہوئی ہے۔ اگر اوکسفورڈ یونیورسٹی۔ایسٹرو زینکا اور سائینوویک جیسی ویکسین موثراور حفاظت کے پیمانوں پر پورا اترتی ہیں تو غریب ملکوں کے لیے یہ بڑی راحت کی بات ہوگی۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*