امیر خسرو کی 716 ویں برسی کے موقعے پر ریختہ ورچوئل عرس منعقد کرے گا

نئی دہلی:اس ہفتے امیر خسرو کا 716 واں عرس منایا جائے گا، جو مشہور اور مقبول صوفی شاعر تھے۔ ہر سال دنیا بھر سے قوال ، ایک ساتھ مل کر ان کے کلام کو موسیقی کےساتھ پیش کرتے ہیں اور دہلی کے قلب میں واقع حضرت نظام الدین اولیاء کے مزار پر عرس کا اہتمام کر تے ہیں۔صوفی ، اور دہلی کے حضرت نظام الدین اولیا کے شاگرد ، امیر خسرو فارسی زبان کے ماہر تھے اور اسی میں اکثر شاعری کرتے تھے۔ چودہویں صدی کے مشہور شاعر نے پڑھنے اور گانے کے لیے اپنی داستان چھوڑ ی ، جب کہ وہ 72 سال کی عمر میں جنت نشیں ہوگئے ۔انھوں نے بنیادی طور پر فارسی میں برج کے ساتھ ، ہندوستانی کلاسیکل موسیقی کے سروں کوخوبصورتی سے فروغ دیا۔ متعدد داستانیں ستار اور طبلہ جیسے موسیقی کےساز کے موجد کی حیثیت سے ان کا احترام کیاجاتا ہے ۔

صوفی نامہ(sufinama.org) ، 400 سالوں پر مشتمل صوفی تصنیف اور فلسفہ کے تحفظ اور تبلیغ کے لئے ریختہ فاؤنڈیشن کا اقدام ہے۔امیر خسرو کے 716 ویں عرس کے آن لائن جشن کا اہتمام کیا جائے گا تاکہ ان کےپیروکار اور مریدین ان تقریبات سے محروم نہ رہیں۔اس ورچوئل جشن کے لئے ، صوفی نامہ نے نامور قوالوں کو ای-دعوت دی ہے تاکہ وہ براہ راست ا پنے فن کا مظاہرہ کریں اور عظیم صوفی بزرگ کو خراج عقیدت پیش کریں۔ ہندوستان بھر میں پھیلے ہوئے مختلف مقامات کے 15 سے زائد قوالوں ، جیسے آگرہ ، بھوپال ، دیوا شریف ، لکھنؤ ، جے پور ، وغیرہ کے لوگ اس دلی ای میلے میں شریک ہوں گے۔ عشق اور ثقافتی ہم آہنگی کے پیغام کو عام کرنے کے مقصد سے ، ای عرس کا آغاز اسی قول سے ہوگا جیسے سالوں سے درگاہ میں ہوا ، اور رنگ کے ساتھ اختتام پذیر ہوگا۔
اس پہل پر اظہار خیال کرتے ہوئے بانی ریختہ فاؤنڈیشن سنجیو صراف نے کہا : ” دنیاامیر خسرو کی مقروض ہے – ایک صوفی فلسفی ، موسیقار ، شاعر اور اسکالر ، جس نے غزل کے انداز کو بھی گلوکاری سے متعارف کرایا۔ورچوئل عرس کامقصد عظیم صوفی کو ان کی 716 ویں برسی پر خراج تحسین پیش کرناہے‘‘۔
اس تقریب میں راجو مرلی، حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے وارثی برادران، دانش حسین بدایونی ، عفان وارثی ، شاہد نیازی اور غلام وارث قوال شامل ہوں گے۔ آن لائن پروگرام میں پروفیسر اخلاق آہن کی گفتگو کبھی ہوگی ،جو خسرو اور داستان گو سید ساحل آغا کے بارے میں سامعین کو متعارف کرائیں گے ۔