امارت شرعیہ بہار ، اڈیشہ و جھارکھنڈ کے امیر کا انتخاب ـ مسعود جاوید

امارت شرعیہ بہار جھارکھنڈ اڈیشہ کے امیر کے لئے اگر معیار وراثت نہیں اہلیت ہے تو میرے خیال میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کارگزار سکریٹری جنرل آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی شخصیت امیر شریعت کے عہدے کے لئے سب سے موزوں ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ و جھارکھنڈ کئی معنوں میں ایک دوسرے سے مرتبط ہیں۔ پرسنل لا بورڈ کے بہت سارے کام امارت کے دفاتر سے ہوتے رہے ہیں۔ مولانا محمد ولی رحمانی رحمہ اللہ پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری تھے اور ساتھ ساتھ امارت شرعیہ کے امیر۔
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کی علمی و فقہی لیاقت اور سیاسی بصیرت ملک و بیرون ملک میں مسلم ہے اور اسی لئے پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا رابع حسنی صاحب دامت برکاتہ نے مولانا محمد ولی رحمانی کے انتقال کے بعد مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کو کارگزار جنرل سکریٹری مقرر کیا ہے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے قیام ٧ اپریل ١٩٧٢ سے ہی صدر قاری محمد طیب رحمہ اللہ دیوبند ، ان کے بعد مولانا ابوالحسن علی میاں رحمہ اللہ لکھنؤ ان کے بعد مولانا رابع حسنی صاحب ، لکھنؤ میں رہے لیکن ورکنگ آفس امارت شرعیہ پٹنہ میں رہا۔اور مولانا منت اللہ رحمانی رحمہ اللہ جنرل سکریٹری رہے، اس کے بعد مولانا سید نظام الدین صاحب، پھر مولانا محمد ولی رحمانی جنرل سکریٹری رہے اور اب مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کارگزار جنرل سکریٹری ہیں۔
اس لئے میری رائے ہے کہ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کا انتخاب بحیثیت امیر شریعت بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ نہ صرف امارت شرعیہ کے شایان شان ہوگا بلکہ مسلم پرسنل لا بورڈ کا کام بھی حسب سابق چلتا رہے گا۔ دوسری جانب امارت میں امیر کے انتخاب کے تعلق سے پائے جانے والے انتشار پر بھی قدغن لگ جائے گا۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*