امیر شریعت سادس :حضرت مولانا سید نظام الدین ـ مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

 

نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ

امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ کے چھٹے امیر شریعت ، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری، نظامیہ یونانی میڈیکل کالج واسپتال گیا کے بانی ، مجلس شوریٰ دا ر العلوم دیوبند وندوۃ العلماء لکھنؤ کے رکن ،امارت شرعیہ ایجوکیشنل اینڈ ویلفیر ٹرسٹ پٹنہ کے چیرمین ،ھیئۃ التنسیق العلیا للمنظمات الاسلامیۃ مکۃ المکرمۃکے سابق رکن مدرسہ ریاض العلوم ساٹھی مغربی چمپارن ومدرسہ فرقانیہ بگھیلا گھاٹ دربھنگہ کے صدر، اسلامک فقہ اکیڈمی دہلی ، آل انڈیا ملی کونسل دہلی، مدرسہ امدادیہ لہیریا سرائے دربھنگہ ، جامعہ اسلامیہ قرآنیہ سمرا مغربی چمپارن ، المعہد العالی للتدریب فی القضاء والافتاء پٹنہ، دار العلوم الاسلامیہ امارت شرعیہ پٹنہ، مدرسہ محمود العلوم دملہ مدھوبنی، جامعۃ البنات رشیدیہ امراہا ، گیا ،کے نگران اعلیٰ مدرسہ اسلامیہ عربیہ گھوڑی گھاٹ کے بانی وسرپرست کا نواسی (۸۹) سال کی عمر میں وصال ہوگیا ، علالت کا سلسلہ رمضان المبارک سے ہی چل رہا تھا ، ۸؍ اکتوبر بروز جمعرات بعد نماز عصر برین ہیمریج ہو گیا ، جس کی وجہ سے فالج کا اثر ہو ا ، بولنا ، آنکھ کھولنا ، منہہ کے ذریعہ غذا لینا سب بند ہو گیا ، موت وحیات کی کشمکش جاری رہی ، طبیعت میں اتار چڑھاؤ آتا رہا ، اور بالآخر۳؍ محرم الحرام ۱۴۳۷ھ بروز شنبہ بعد نماز مغرب ۱۷؍ اکتوبر ۲۰۱۵ء کو کوئی چھ بجے حادثہ پیش آگیا ۔

جنازہ کی نماز ۱۸؍ اکتوبر کو ڈھائی بجے دن میں امارت شرعیہ کے احاطہ میں نائب امیر شریعت حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی دامت برکاتہم نے پڑھائی اور پھلواری شریف کے حاجی حرمین قبرستان میں ،حاجی حرمین کے مزار مبارک کے نواح میں تدفین عمل میں آئی ، لوگوں کا ازدحام اس قدرتھا کے تل رکھنے کی جگہ نہیں تھی، پٹنہ کی طرف آنے والی سواریاں سوگواروں اور جنازہ میں شرکت کرنے والوں سے بھری ہوئی تھیں اور پٹنہ کی تمام سڑکوں کے مسلم مسافروں کا اختتام پھلواری شریف پر ہو رہا تھا ۔

حضرت مولانا سید نظام الدین بن قاضی حسین (م ۱۹۴۳ء) بن قاضی شرف الدین (م ۱۹۴۹ء) بن قاضی عبد القادر بن قاضی صادق علی کی ولادت مہر النساء بنت حکیم اولاد حسین کے بطن سے ۳۱ ؍ مارچ ۱۹۲۷ء مطابق ۱۳۴۵ھ گیا کے محلہ پرانی جیل خانہ واقع شاہ شریف صاحب شملہ والے کے مکان میں ہوئی ، دادا نے نظام الدین اور نانا نے محمد قائم نام تجویز کیا ، گاؤں اور علاقہ میں عرفی نام قامو بابوسے مشہور تھے، چار سال چھ ماہ کی عمر میں پنچایتی اکھاڑہ گیا کی مسجد میں مولانا کریم رضا نے رسم بسم اللہ ادا کرائی ، جو آپ کے نانا کے بڑے بھائی تھے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد اپنے گاؤں گھوڑی گھاٹ منتقل ہو گیے،جو گیا شہر سے اسی (۸۰)کلومیٹر اور چترا سے ساٹھ کیلو میٹر کی دوری پر واقع ہے ، یہاں عربی کی ابتدائی کتابوں سے لیکر قدوری تک کی تعلیم اپنے والد قاضی حسین سے ہی حاصل کیا، شرح جامی کے سال ۱۹۴۱ء میں مدرسہ امدادیہ دربھنگہ میں داخل ہوئے اور دوسرے سال ۱۹۴۲ء میں دار العلوم دیو بند کے لیے رخت سفر باندھا ، ۱۹۴۶ء میں علوم متداولہ کی تکمیل کی اور دورہ حدیث شریف سے فراغت پائی ، ۱۹۴۷ء میں مزید ایک سال قیام کرکے فقہ وتفسیر میں تخصص کیا ، دوران قیام فرحت گیاوی کے نام سے شاعری بھی کرتے رہے اور سجاد لائبریری کے ترجمان ’’البیان‘‘ کے مدیر بھی رہے ۔شادی محمد سلیم صاحب محلہ روشن گنج تھانہ ڈبھری ٹکاری کی بڑی صاحبزادی حافظہ خاتون سے ۳۱ ؍ مارچ ۱۹۵۰ء کو ہوئی ۔ ۱۹۶۹ء اور ۱۹۸۸ء میں دوبار حج کی سعادت نصیب ہوئی۔تدریسی سلسلے کا آغاز مدرسہ ریاض العلوم ساٹھی مغربی چمپارن سے ہوا ، تقریبا پندرہ سال پوری مستعدی کے ساتھ وہاں صدر مدرس کی حیثیت سے کام کرتے رہے اور پوری ایک نسل کی تعلیم وتربیت فرمائی، ۱۹۶۳ء میں مولانا رحمت اللہ صاحب کی دعوت پر مدرسہ رشیدالعلوم چترا صدر مدرس کی حیثیت سے منتقل ہو گیے ، دو سال تک اس منصب پر فائز رہے اور اچھے استاذ اور منتظم کی حیثیت سے آپ کی شہرت پھیلتی چلی گئی ۔ اگست ۱۹۵۸ء میں مدارس اسلامیہ کنونشن اور ۱۹۶۰ء میں تربیت قضاء کے موقع سے حضرت امیر شریعت رابع مولانا سید شاہ منت اللہ رحمانی نور اللہ مرقدہ سے آپ کی خصوصی ملاقات ہوئی اور حضرت نے اس گوہر گراں مایہ کو پرکھ لیا اور امارت شرعیہ میں ناظم کی حیثیت سے آجانے کے لیے کہا؛ لیکن مولانا ریاض احمد صاحب نے اجازت نہیں دی؛ اس لیے یہ معاملہ ٹلتا چلا گیا ، ۱۹۶۲ء میں مولانا کا انتقال ہو گیا ، تو اصرار بڑھنے لگا، اب اس اصرار میں قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ بھی شریک ہو گیے، جن پر نظامت امارت شرعیہ اور قضا کی دہری ذمہ داری آپڑی تھی چنانچہ ۱۹۶۵ء میں آپ ناظم کی حیثیت سے امارت شرعیہ وارد ہوئے، اور امارت شرعیہ کی نظامت کا بار اپنے کاندھے پر لے لیا، امارت حضرت امیر شریعت رابع کی ، نظامت مولانا سید نظام الدین کی اور کار قضاء کے ساتھ منصوبہ بندی مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی کی مشہور تھی یہ وہ ارکان ثلٰثہ تھے جنہوں نےامارت شرعیہ کے کام کو بام عروج پر پہونچادیا، اس درمیان پورے ملک میں امارت کی ساکھ قائم ہوئی، اعتبار واعتماد بڑھا، شعبوں میں توسیع ہوئی، نظامت کے ساتھ وہ ۱۲؍ مئی ۱۹۹۱ء سے نائب امیر شریعت کی ذمہ داری بھی اٹھائے رہے ، امیر شریعت خامس حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب کے وصال کے بعد یکم نومبر ۱۹۹۸ء کو مجلس ارباب حل وعقد نے آپ کو چھٹا امیر شریعت متفقہ طور پر منتخب کر لیا ، آپ کے دور میں نئے ٹیکنیکل ادارے کھلے، دارالقضاء کی توسیع ہوئی، لڑکیوں کے لیے ایک الگ آئی آئی ٹی انسٹی چیوٹ کا قیام عمل میں آیا،حضرت امیر شریعت رابع کے وصال کے بعدمئی ۱۹۹۱ء میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مقرر ہوئے، اور بورڈ کے تین صدور حضرت مولانا ابو الحسن علی ندوی ، مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی اور موجودہ صدر حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی کے ساتھ ملت کی بقا اور تحفظ پرسنل لا کے لیے مثالی جد وجہد فرمائی اور تادم آخر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری رہے۔

امیر شریعت کی روایت یہاں بے لوث خدمت کی رہی ہے، کوئی معاوضہ اور تنخواہ نہیں ، ہم لوگوں نےبہت زور دیا کہ طویل دور نظامت کے پنشن کے طور پر ہی کچھ مقرر کر دیا جائے، لیکن انہوں نے یہ بھی گوارہ نہیں کیا ،امیر ہونے کی حیثیت سے سارا وقت دیتے اور بد لے میں کچھ نہیں لیتے ، بیت المال کے پیسے پیسے کی حفاظت پوری دیانت داری کے ساتھ کرتے، مدات کی رعایت کے ساتھ خرچ کرتے ، ذاتی زندگی میں وہ رقیق القلب بھی تھے اور سخی بھی، رمضان المبارک میں کوئی ان کے در سے خالی نہیں جاتا ، اپنی رقم بھی تقسیم کرتے اور اپنے اعزواقرباء کی بھی ، ان کی امانت ودیانت اور امارت شرعیہ کی محبت ضرب المثل تھی، بڑے عہدوں پر فائز ہونے کے باوجود ان کی سادگی ، تواضع وانکساری مثالی تھی ، عجب اور کبر کاذرا بھی حصہ ان کی زندگی میں نہیں تھا، صبر وتحمل اور برداشت میں اپنی مثال آپ تھے،وہ مشوروں کو اہمیت دیتے ،اپنے رفقاء سے چھوٹی چھوٹی باتوں پر مشورہ لیتے اور کوئی بھی فیصلہ کا رکنوں کو اعتماد میں لے کرہی کرتے، اسی غرض سے انہوں نے مجلس نظامت کی تشکیل کرائی تھی ،آپ نے پوری زندگی عالمانہ وقار اور داعیانہ کردار کے ساتھ گذار دیا ، اتحاد امت ، خدمت خلق، اصلاح معاشرہ، پریشان حال لوگوں کی مدد آپ کی زندگی اور خدمات کے نمایاں عناوین ہیں، امارت سے تعلق کی بنیاد پر ان کی شاید ہی کوئی تقریر ذکر امارت سے خالی ہوتی، کسی نہ کسی بہانے وہ امارت شرعیہ کا ذکر ضرور کرتے ۔ پس ماندگان میں اہلیہ کے علاوہ تین لڑکے اورچھ لڑکیوں کو چھوڑا، حضرت کے جو نمایان اوصاف تھے اس کا ذکر یہاں فائدہ سے خالی نہیں ، ایک بار فرمایا:

"خلوص و للہیت کے ساتھ جو کام کیا جاتا ہے ۔ اس پر اللہ کی نصرت ضرور آتی ہے ، میں نے ہر موقع سے حضرت کوخلوص و للہیت کا پیکر پایا اور جس کام کوحضرت نے شروع کیا اس میں ان کی نصرت ضرور آئی ، یہ معاملہ شنیدہ نہیں دیدہ ہے ۔ مختلف موقعوں پر دیکھا کہ ہم لوگوں کی الگ رائے ہے ، اور حضرت کی رائے الگ ہے ، فیصلہ حضرت کی رائے پر ہوا ، وقتی طور پر انسانی ذہن مطمئن ہونے کو تیار نہیں؛ لیکن وقت نے بتایا کہ صحیح وہی تھا جس کا القاء حق جل مجدہ نے حضرت کے قلب پر کیا ۔

دوسری بڑی خوبی حضرت کی تحمل اور برداشت کی تھی ، بڑے سے بڑے واقعے اورناگوارسے ناگوارمعاملے کو اس طرح پی جاتے تھے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ ان کے اس تحمل اور برداشت نے ان سے متعلق اداروں کی سالمیت اور وقارکوبچا رکھا تھا، کینہ وکدورت سے پاک ان کاسینہ تحمل وبرداشت کا منبع تھا، میں یہ نہیں کہتا کہ نا خوشگوار واقعات ان کے دل و دماغ کو متاثر نہیں کرتے تھے ۔ ظاہر ہے کہ جب انسان کے پاس ایک سوچنے والا دماغ اور متحرک قلب ہو تو متاثرہونا فطری ہے ، وہ پتھر کی طرح بے حس تو نہیں ہوسکتا لیکن یہ بار بار دیکھا کہ حضرت پر ناخوشگوار واقعہ کا تاثر دیر پانہیں ہوتا تھا ، قلب کی صفائی فورا ہوتی تھی اور پھر وہی شفقت ومحبت الفت و انسیت کا مظہر دیکھنے میں آتا ، جو پہلے سے ان کے جسم و جان کا حصہ تھا ۔

تیسری بڑی خوبی ان کی امانت و دیانت تھی، ایک لمبے عرصہ سے وہ امارت شرعیہ سے منسلک تھے ، لیکن قوم کی امانت کو جس طرح انہوں نے سنبھال کر رکھا ، مدات کی رعایت کے ساتھ صرف کیا ، وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ بارہادیکھا کہ دفتر کی گاڑی ان کے ذاتی کام سے گئی ، آتے ہی ڈرائیورکو کہا کہ میرا حساب بھیجو اور جوڑ کر روپے اپنی جیب خاص سے داخل بیت المال کروایا ، ایک بار اپنےذاتی کام سے سفر رانچی کا ہوا، قیام دفتر میں تھا ، قاضی شریعت سے کہا ، میں یہاں ذاتی کام سے آیا ہوں ، میرے اوپر چائے پانی تک پر خرچ کی جانے والی رقم کا حساب بتاؤ ، اور وہ رقم اپنی جیب خاص سے داخل بیت المال کیا ، دیگر اسفار میں بھی اچھی خاصی رقم اپنی جیب خاص سے خرچ کردیتے ، اس درجہ کی امانت اور دیانت تنظیم کے ذمہ داروں میں کم دیکھنے کوملتی ہے ۔ کسی عزیز کوخط بھیجنا ہے دفتر میں ہزاروں روپے کے ڈاک ٹکٹ رکھے ہوتے لیکن جب سے پانچ روپے نکال کر کسی کو دیتے تھے کہ ڈاک خانہ سے ٹکٹ لے کر آ ؤ، یہ بھی گوارہ نہیں کہ پانچ روپے ٹکٹ والے ڈبہ میں ڈال دو ، بعد میں لے آنا ،نہیں ، اس کونہیں چھوئیں گے اور جب تک ڈاک سے ٹکٹ آنہ جائے ، خط چلا نہ جائے ، اطمینان نہیں ہوتا ۔

ایک اور خوبی جس کا ذکر کرنا یہاں بہت ضروری ہے ۔ وہ حضرت کی کفایت شعاری تھی ، فرمایاکرتے : کفایت شعاری آدھی آمدنی ہے ، ہم لوگوں کے سفر کے اخراجات ان کی خدمت میں پیش ہوتے رہتے تھے کارکنوں کی جو تربیت انہوں نے کی تھی ، اس میں کفایت شعاری ہم لوگوں کی زندگی کالازمہ بن گیا تھا۔ ایسالازمہ جس کو بعض نا سمجھ مزاجا بخالت سے تعبیر کرتے ہیں ۔ اس احتیاط کے باوجوداگر کہیں قلم لگانے کی ضرورت محسوس ہوتی تو اس سے گر یزنہیں ہوتا ۔

بے ضابطگی کے اس دور میں اصول وضوابط کی پابندی کرنا اور کراناان کی خاص صفت تھی مزاجانرم ہونے کے باوجود کوئی بات خلاف اصول سامنے آ گئی تو خفگی کا سامنا ہم لوگوں کو بھی کرنا پڑتا تھا، کبھی محبت سے کہتے” کام سب سمجھ لیجئے، مولوی صاحب! علم آپ لوگوں کا زیادہ ہوسکتا ہے لیکن میرا تجر بہ زیادہ ہے، حضرت کے تجربے کی روشنی میں جب بھی کام کیا اس کا نفع اورفائدہ کھلی آنکھوں سے دیکھا۔واقعہ یہ ہے کہ تجربات کی کمی سے بھی اکثر و بیشتر کام بگڑ جا تے ہیں ۔

اعز اقربا کی پاس داری ، رشتوں کا احترام اوران سے تعلق حضرت جس قد ر کھتے تھے اور جتنابرتتے تھے ، وہ ہم سبھوں کے بس کی بات نہیں ، بیمار ہیں ، دم پھول رہا ہے ، پاؤں پرجسم کا وجود بار ہے، ضعف ونقاہت ہے، کسی عزیز کے انتقال کی خبر آئی ،کسی کی بیماری کی اطلاع ہوئی ۔حضرت جانے کے لئے پابہ رکاب ، دور دراز کے اسفار سے بھی احتراز نہیں ، یہ سفرکا شوق نہیں ، حقوق کی پاسداری اور تعلق خاطر کی نشانی ہے ، ہم لوگ آپس میں تبصرہ کرتے تھے کہ حضرت سفر میں صحت مند رہتے ہیں ، جے پور کہاں ہے ، پیرانہ سالی دیکھئے ، ٹھنڈی نہ کہئے، مسلم پرسنل لا بورڈ کو ضرورت پڑی ، بھاگے بھاگے چلے گئے اور جلدی جلدی چلے آئے ، حضرت کے ان احوال کو دیکھ کر تو ہم جیسے جوانوں کوبھی ، جواب جوانی کی دہلیز عبور کر رہے ہیں ، پسینہ آ جاتا تھا ۔

حضرت کی ایک بڑی خوبی وقت کی پابندی تھی ۔حضرت کے یہاں ساڑھے آٹھ کا مطلب ہر حال میں آ ٹھ بجکرتیس منٹ ہی ہوتا تھا ، کہیں جانا ہے تو مقررہ وقت سے آدھے گھنٹہ قبل ، بلکہ اس کے بھی پہلے سے یاددہانی کراتے رہتےکہ مبادا غفلت کی وجہ سے وقت سے زیادہ نہ ہوجائے، کئی بار ایسا ہوا کہ حضرت کو کسی مجلس کی صدارت کرنی ہے وقت مقررہ پر پہنچ گئے اور وہاں استقبال کرنے والا بھی کوئی نہیں ، مزدورا سٹیج سجانے میں لگے ہیں ، اسی طرح اگر کوئی کام مثلا کسی سے گفتگو کرنے کی ذمہ داری ا نہیں دی گئی تو وہ گفتگو کر کے جو بات ہوئی اسے فوراً فون سے بتاتے ، انہیں صاحب معاملہ کے فون کا انتظارنہیں رہتا کہ وہ پوچھیں تب بتائیں گے ، یہی خواہش حضرت دوسروں سے بھی رکھتے تھے کہ کام ہوگیا تو بتائیے نہیں ہو سکا تو بھی خبر کیجئے، حضرت کو یہ بات گراں گذرتی تھی کہ کسی خوش گوار یاناخوشگوار واقعہ کی اطلاع انہیں دوسروں سے ملے ، ان کی خواہش ہوتی تھی کہ دفتر اور ملت اسلامیہ سے متعلق ہر قابل ذکر واقعہ سے انہیں باخبر رکھا جائے تاکہ ضرورت کے مطابق وقت پر اقدام کئے جائیں ، کسی دوسرے سے اطلاع ملنے کی شکل میں انہیں یہ نہ کہنا پڑے کہ میرے پاس اطلاع نہیں ہے ، اس سلسلے میں چھوٹی بات ہی کیوں نہ ہو ، اجمال کو حضرت بالکل پسندنہیں کرتے مثلا آپ کو یہ بتانا ہے کہ ٹرین کا ٹکٹ دہلی کا بن گیا تو صرف اتنا کہنا کافی نہیں ہے آپ کو بتانا ہو تاکہ کس ٹرین سے ہے ؟ کتنے بجے ہے ؟ اور برتھ کون سا ہے ؟ کس کلاس میں بنا ہے ؟ ان تفصیلات کے بعدہی حضرت کو اطمینان ہوتا تھا کبھی یہ بھی بتانا ہوتا تھا کہ اس ٹرین کے منزل پر پہنچنے کا کیا وقت ہے ؟

اسی طرح نماز اور تلاوت قرآن کریم کا غیر معمولی اہتمام آپ کی زندگی کی ضرورت تھی ، وہ عبادت کے ساتھ ان کی عادت بن گئی تھی ، کئی بار ایسا ہوا کہ جہاں جانا ہے ، وہاں وقت میں پہونچناممکن ہے، لیکن اذان کی آواز کہیں سے آ گئی تو پہلی مسجد جو ملے اس میں نماز پڑھنی ہے، تاخیر کا مطلب خفگی ہے ، ایک بار فرمانے لگے کہ ’’مولوی صاحب ! یہاں پڑھ لیں گے تو اطمینان رہے گا ، وہاں پہونچنے کے انتظار میں تاخیر ہوجائے گی اور جام میں پھنس گئے تو نماز قضا بھی ہوسکتی ہے ۔ اس لئے اس کام کو پہلی فرصت میں کر لو ، وہاں پہونچنے کا انتظار مت کرو ‘‘۔

اپنی پیرانہ سالی اور ضعف کی وجہ سے وقت ضرورت ہی حضرت کا دفتر آنا ہوتا تھا؛ لیکن دفتر کے معاملات اور کارکنوں کی حاضری سے گھر بیٹھے جتنی واقفیت انہیں رہتی، ہمیں دفتر میں بیٹھ کر اتنی واقفیت نہیں رہتی،کبھی دفتر کے کارکنوں سے واقفیت لے لی اور کبھی فون کر کے خیریت دریافت کیا اور معلوم کرلیا کہ آپ اس وقت کہاں ہیں ، جھوٹ بولنا ایسے بھی بڑا گناہ ہے ، امیر شریعت سے جھوٹ بولنے کی ہمت کون کر سکتا ہے ؟ کبھی کسی نے اگر ذومعنی جملے کہدیے تو فرماتے: مولوی صاحب ! لگتا ہے کہ آپ دفتر میں نہیں ہیں ۔ ایسے تھے ہمارے امیر شریعت سادس ، صاف دل ، پاک طینت ، نزم وگرم چشیدہ،متحمل و بردبار، فراق کی روح کو نا گوار نہ گذرے تو فراق کی جگہ نظام رکھ دیجئے اور کہئے ۔

آنے والی نسلیں تم پر فخر کریں گی ہم عصرو

جب تم یہ کہو گے ان سے کہ ہم نے ’’نظام‘‘ کو دیکھا ہے

حضرت نے ایک بار مشہور صحافی عارف اقبال کو ’’باتیں میر کارواں‘‘ کے لیے انٹر ویو دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ’’ اللہ پوچھے گا کہ کیا لے کر آئے ہوتو میں کہوں گا کہ اے اللہ امارت شرعیہ کو پوری زندگی دونوں ہاتھوں سے مضبوطی سے پکڑے رکھا اور تسبیح کے اس دھاگے کو ٹوٹنے اور اس کے دانے کو بکھرنے نہیں دیا ، یہی ایک عمل لے کر آیا ہوں‘‘، اور حضرت کو اسی عمل پر نجات کی امید تھی کاش ہمارے درمیان آج بھی کوئی نظام الدین اور مجاہد الاسلام ہوتا جو اپنے ناخن تدبیر سے امارت شرعیہ کے مسائل حل کرتا،واقعہ یہ ہے کہ ان کے جانے سے دل میں غموں کی جس سیہ رات نے بسیرا کر لیا ہے اس کی نمود صبح میں کافی عرصہ لگے گا۔