امیر شریعت کے انتخاب میں ایسی شخصیت کو ترجیح دی جائے جو امارت کے وقار و اعتبار کا تحفظ کر سکے : حبیب اللہ ہاشمی 

 

جالے: امارت شرعیہ کے امیر شریعت سابع مفکر اسلام مولانا سید محمد ولی رحمانی علیہ الرحمہ کی رحلت کے بعد سے ہی بھلے ہی نئے امیر شریعت کے انتخاب کو لے کر ریاست میں غیر یقینی کا ماحول ہو مگر میں محسوس کرتا ہوں کہ ارباب حل وعقد امارت کے مفاد اور اس کے شاندار مستقبل کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایسے شخص کے کندھے پر امارت کی ذمہ داری کا بوجھ ڈالنے کے لئے خود کو تیار کریں گے جن کے اندر اس بوجھ کو نہ صرف سنبھالنے کی صلاحیت ہو بلکہ وہ پوری جرآت وبے باکی کے ساتھ ہر قسم کے مسائل کا سامنا کرنے کے لئے بھی تیار ہوں یہ باتیں سابق ضلع پریشد رکن حبیب اللہ ہاشمی نے اپنے ایک بیان میں کہیں۔ انہوں نے کہا کہ امارت شرعیہ مسلمانوں کا وہ مضبوط پلیٹ فارم ہے جس کے قیام سے لے کر آج تک اس عظیم ادارے نے بہار جھارکھنڈ اور اڈیشہ کے مسلمانوں میں دین کی مناسب راہنمائی کا جو فرض نبھایا ہے اسے فراموش کرنا آسان نہیں اور اس سلسلے کی سب سے مضبوط کڑی یہ ہے کہ اس ادارہ کو تاریخ کے ہر دور میں ایسے افراد کی قیادت میسر آئی جنہوں نے نہ صرف اس ادارہ کے عملی کردار کی حفاظت کی بلکہ اس کے مثبت پیغام سے اپنے حلقے کے مسلمانوں کو اس طرح خود اعتمادی اور حوصلے سے جینے کا ہنر سکھایا جسے اس ادارہ کی تاریخ کا شاندار باب کہا جا سکتا ہے۔حبیب اللہ ہاشمی نے کہا کہ آج امارت کو لے کر جس طرح کی افواہیں گرم ہیں اور جس انداز سے مختلف لوگوں کے لیے ماحول سازی کی خبریں آرہی ہیں انہیں امارت کے نظریہ سے کسی بھی صورت قابل اطمینان نہیں کہا جا سکتا۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں امیر شریعت کے عہدے کا حق دار ایسے شخص کو بنایا جانا چاہئے جو امارت کے کردار کا محافظ ومعاون ہو اور وہ ماضی کی روایات کی پاسداری کرتے ہوئے اس عظیم ادارے کے دائرے کو مثبت انداز میں پھیلانے کا فرض نبھا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا نہیں ہوا اور ارباب حل وعقد کسی دباؤ کا شکار ہوکر ایسا قدم اٹھانے پر مجبور ہو گئے جس کو قبول کرپانا عام مسلمانوں کے لئے مشکل ہو،تو اس کے منفی نتائج کا سامنا امارت سمیت تمام مسلمانوں کو کرنا ہوگا۔