امام الہند مولاناابوالکلام آزاد کو بازگشت کا خراج عقیدت

حیدرآباد:مولانا آزادکے افکار اور دانشوارانہ ورثے سے نئی نسل کو واقف کرانے اور ان کے تعلیمی فلسفے کو زندگی میں اتارنے کی ضرورت ہے۔وہ ایک سچے محب وطن، مخلص قوم پرست ،عظیم دانشور، زبردست عالم، نڈر صحافی، ایماندار رہنما، بہترین انشا پردازاور اصول پرست انسان تھے۔ان خیالات کا اظہارپروفیسر رضوان قیصرممتاز مورخ اوراستاد شعبۂ تاریخ و ثقافت، جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی نے’’بازگشت‘‘ کی جانب سے مولانا ابوالکلام آزاد کے مجموعۂ مکاتیب ’’غبار خاطر‘‘ سے منتخب خط کی پیش کش اوران کی قومی و ملّی خدمات سے متعلق گفتگو پر مبنی گوگل میٹ پر منعقدہ پروگرام میں بہ حیثیت مہمانِ خصوصی کیا۔ انھوںنے مزید کہا کہ وہ تقسیم ملک کے مخالف،ہندو مسلم اتحاد کے حامی اور مسلمانوں کی معاشی، معاشرتی اور ذہنی ترقی کے خواہاں تھے۔ وہ ہندوستانی مسلمانوں کو اقلیت اور اکثریت کی سوچ سے آزاد کرکے ان کے دل و دماغ کو خود اعتمادی سے بھر دینا چاہتے تھے۔انھوں نے آزادی کے بعد بطور وزیر تعلیم ملک کی تعلیمی ترقی کے لیے جو منصوبہ سازی کی اور جس طرح مختلف نوعیت کے ادارے قائم کیے وہ ان کی دوراندیشی کی دلیل ہے۔ آئی آئی ٹی کھڑگ پور، یو جی سی، ساہتیہ اکادمی، للت کلا اکادمی، سنگیت ناٹک اکادمی، انڈین کونسل فار کلچرل رلیشنزکے علاوہ ملک بھر میں تعلیمی اداروں کا قیام ان کا شاندار کارنامہ ہے۔انھوں نے رانچی میں نظر بندی کے زمانے میں ایک مدرسہ قائم کیا تھا جس کے نصاب میں ریاضی، سائنس اور دیگر علوم کو شامل کیا تھا۔ آج کے پروگرام میں مولانا جو خط پیش کیا گیا اس میں خود سوانحی عنصر ملتا ہے اور بیوی کی وفات کا شدید کرب اس سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس سے مولانا کی اصول پسندی اور ضبط و استقلال کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ بیوی کی شدید علالت کے باوجود انھوں نے انگریزوں سے رہائی کی درخواست نہیں کی۔
ممتاز افسانہ نگاراور بازگشت آن لائن ادبی فورم کے سرپرست پروفیسربیگ احساس نے صدارتی تقریر میں کہا کہ مولانا آزاد ایک نابغۂ روزگار تھے۔’’غبار خاطر‘‘کے خطوط اپنے اسلوب کی وجہ سے اردو میں اعلیٰ و ارفع مقام کے حامل ہیں۔ان میں انشائیے کا رنگ غالب ہے۔ مولانا نے بیشتر خطوط میں حزم و احتیاط سے کام لیا ہے جس کی وجہ سے ان میں بے تکلفی اور بیساختگی کے عناصر کم ہیں لیکن زلیخا بیگم کی وفات پر لکھے گئے اس خط میں مکتوب نگاری کی تمام خصوصیات موجود ہیں۔اس میں مولانا آزادکی شخصیت جھلکتی ہے ۔ مولانا اپنی تکالیف کا اظہار کرنا پسند نہیں کرتے تھے۔ہماری نئی نسل کو یہ جاننا چاہیے کہ ہمارے اسلاف نے اس ملک کے لیے کتنی قربانیاں دی ہیں۔آج ملک میں جو حالات ہیں ان کے پیش نظر مسلمانوں کو ایک نئی حکمت عملی بنانے اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔
ممتازقلم کار اورصحافی جناب انعام الرحمٰن غیورنے نہایت دلکش انداز اور لب و لہجے میں ’’غبارِ خاطر ‘‘سے وہ خط پیش کیا جو مولانا آزاد نے اپنی اہلیہ زلیخا بیگم کی وفات کے بعد لکھا تھا۔ انھوںنے آواز کے زیروبم سے سماں باندھ دیا۔ڈاکٹر احمد خاں،ڈاکٹرصابر علی سیوانی، ڈاکٹر عمیر منظر اور جناب نیاز احمد نے گفتگو میں حصہ لیا۔
ابتدا میں پروگرام کے کنوینر ڈاکٹرفیروز عالم ،استاد شعبۂ اردو، مانو نے مولاناابوالکلام آزاد کی حیات و خدمات سے مختصر طور پر واقف کرایا اور بتایا کہ ترجمان القرآن،تذکرہ، قول فیصل، غبار خاطر، انڈیا ونس فریڈم وغیرہ ان کی اہم تصانیف ہیں۔ انھوںنے لسان الصدق، الہلال اور البلاغ جیسے اخبارات و رسائل کے ذریعے ہندوستانی عوام میں قومی بیداری لانے کی کوشش کی۔آزاد ہندوستان کے پہلے وزیرِ تعلیم کے طور پر ملک میں تعلیم عام کرنے کے سلسلے میںانھوںنے گراں قدر خدمات انجام دیں۔انتظامیہ کمیٹی کی رکن ڈاکٹر گل رعنا، استاد شعبۂ اردو، تلنگانہ یونی ورسٹی، نظام آبادنے پروگرام کی دلکش نظامت کی اور جناب انعام الرحمٰن غیور کا تعارف پیش کیا۔ ڈاکٹرحمیرہ سعیدپرنسپل گورنمنٹ کالج فار ویمن، سنگاریڈی نے پروفیسر رضوان قیصرکا تعارف پیش کیا اورپروگرام کے آخر میں اظہارِ تشکر کیا۔اس اجلاس میں ملک و بیرونِ ملک کے شائقین ادب، اساتذہ اور طلبا و طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ان میںپروفیسرصدیقی محمد محمود،رجسٹرار مانو،پروفیسر محمد مشاہد، صدر شعبۂ تعلیم و تربیت، مانو، ڈاکٹر کفیل احمد، پرنسپل مانو ماڈل اسکول، حیدرآباد، ڈاکٹر محمد قمر سلیم(ممبئی)ڈاکٹر مشرف علی(بنارس)ڈاکٹر ہادی سرمدی (دائود نگر، بہار)جناب غوث ارسلان، محترمہ فرح تزئین (سعودی عرب)ڈاکٹر تلمیذ فاطمہ نقوی (بھوپال)جناب نوشاد انجم (بنگلورو) محترمہ عظمیٰ تسنیم، محترمہ عظمت دلال(پونے)ڈاکٹر محمد زبیر (پرتاپ گڑھ)جناب حنیف سید(آگرہ) محترمہ افشاں جبیں فرشوری، محترمہ صائمہ بیگ،ڈاکٹر رحیل صدیقی، خواجہ محمد ضیا ء الدین، جناب منور علی مختصر،ڈاکٹر صابر علی، جناب اسرارالحق، ڈاکٹرحنا کوثر،جناب فریدالحق، جناب اقبال احمد، محترمہ حمیدہ بیگم (حیدرآباد)خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔