امام اعظم ابوحنیفہؒ پر بیس جلدوں میں موسوعات الحدیثیۃ لمرویات الامام ابی حنیفہ کا اجرا

نئی دہلی:آج یہاں مدنی ہال صدر دفتر جمعیۃ علماء ہند میں شیخ مولانا لطیف الرحمن بہرائچی قاسمی کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس کی صدارت امیرالہند مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری صدر جمعیۃ علماء ہند نے فرمائی، شیخ مولانا لطیف الرحمن قاسمی نے حضرت امام اعظم ابوحنیفہ ؒ کے مستدلات سے متعلق 10613/ احادیث کو بیس جلدوں میں جمع کیا ہے جو امام ابوحنیفہ ؒ کی حیات و خدمات پر بہت بڑا کارنامہ ہے۔ صدر جمعیۃعلماء ہند مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری نے مولانا لطیف الرحمن کو تمغہ اعزاز پیش کیا اور دارالعلوم کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی اور مولانا رحمت اللہ کشمیری رکن شوری دارالعلوم دیوبند نے شال اوڑھا کر استقبال کیا۔ مولانا ابوالقاسم نعمانی نے دارالعلوم دیوبند کے ایک فرزند کی ایسی جلیل القدر خدمات کو سراہا، مولانا شبیر قاسمی محدث جامعہ قاسمیہ شاہی مراد آباد نے اپنے شاگرد کی اس خدمت کو عصر حاضر کا سب سے نمایاں کام بتایا۔ صدر جمعیۃ علماے ہند نے کہا کہ یہ کتاب ان لوگوں کے لیے آنکھ کھولنے والی ہے جو امام اعظم کے علم حدیث پر سوال اٹھاتے ہیں۔جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے اپنے پیام تہنیت میں کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا مجموعہ ہے جسے اگر مستدلات حنفیہ کے عظیم انسائیکلوپیڈیا سے تعبیر کیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔انھوں نے امام اعظم پر لگائے جانے والے الزامات واتہامات کا جواب دے کر علم حدیث میں ان کے عظیم مقام ومرتبے کی توثیق کی ہے۔ اگلی دو جلدوں میں موسوعے میں مذکور راویان احادیث کے سوانحی تراجم تحریر کیے ہیں۔دو جلدوں میں فہرست مرتب کی گئی ہے اور بقیہ 12/ جلدوں میں نہ صرف احادیث کو جمع کیا گیا ہے؛ بلکہ ان کی تحقیق و تخریج کی گئی اور ان پر تعلیقات ثبت کی گئیں ہیں۔ترتیب میں بھی فقہ اور حدیث کی دونوں ترتیبوں کا خیال رکھا گیا ہے۔یہ موسعہ بیروت کے مشہور مکتبہ دارالکتب العلمیۃ سے شایع ہوا ہے۔
اس موقع پر مولانا مفتی سلمان منصورپوری، مفتی محمد عفان منصورپوری، مولانا حکیم الدین قاسمی،مولانا انیس الرحمن قاسمی سمیت دیگر کئی اہم علماء و فقہائے کرام بھی موجود تھے، سبھوں نے اس کارنامے کی جم کر ستائش کی۔
مولانا لطیف الرحمن کا مختصر تعارف مولانا لطیف الرحمن صاحب کا خاندانی تعلق شہر لکھنؤ کے قریب ضلع بہرائچ سے ہے؛ البتہ مستقل سکونت مکۃ المکرمہ میں ہے۔مولانا 1946ء میں پیدا ہوئے اورضلع باندہ کے قصبہ ہتھورا میں حضرت مولانا قاری صدیق صاحب نور اللہ مرقدہ کے مدرسے میں تعلیم حاصل کی، اعلی تعلیم کے لیے1984ء میں دارالعلوم دیوبند میں داخل ہوئے اور دو سال تعلیم حاصل کر کے1986ء میں سند فضیلت حاصل کی۔اس انسائیکلوپیڈیا سے پہلے مولانا بہرائچی نے امام اعظم ابوحنیفہ سے متعلق بہت سے دیگر مسانید ترتیب دیے،ان کے مخطوطات کو تلاش کیا،موازنہ کیا اور ان کی تحقیق وتخریج کر کے دیدہ زیب طباعت سے مزین کیا۔مولانا موصوف نے فقہ حنفی سے متعلق تقریبا 20/کتابوں کی تحقیق وتخریج کی ہے۔ اور سب ہی بیروت اور سعودی عربیہ کے اہم مکتبوں سے شایع ہوکر علمی دنیا میں مقبولیت حاصل کر چکی ہیں۔