القاعدہ کےلیے ایران محفوظ ٹھکانہ بن چکا ہے:امریکی سینیٹر

واشنگٹن:امریکا میں ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر لنڈسے گراہم نے باور کرایا ہے کہ ایران دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست ہے ، یہ القاعدہ تنظیم کے لیے محفوظ آماج گاہ بن چکا ہے۔منگل کے روز ایک بیان میں گراہم کا کہنا تھا کہ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ جوہری معاہدہ ایرانی نظام کی جانب سے تبدیل کر دیا جائے گا تو وہ غلطی پر ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ منتخب امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ ایرانی نظام کے ساتھ مذاکرات کی کوشش سے قبل اس کی حقیقت کو سمجھ لے گی۔یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے منگل کے روز ہی کہا تھا کہ 11 ستمبر کے حملے کرنے میں ایران نے القاعدہ تنظیم کی مدد کی تھی۔ پومپیو کے مطابق القاعدہ اور ایران دنیا میں تباہی کے محور ہیں۔واشنگٹن میں نیشنل پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران نے القاعدہ کے عناصر کو بیرون ملک رابطے اور اندرون ملک نقل و حرکت کی آزادی دی۔ پومپیو نے ایران کو القاعدہ کے لیے نیا افغانستان قرار دیا۔پومپیو کے مطابق القاعدہ تنظیم کا رکن ابو محمد المصری جو تقریبا ایک برس قبل مارا گیا تھا، وہ ایران میں رہ رہا تھا۔واضح رہے کہ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے نومبر میں القاعدہ کے جنگجو ابو محمد المصری کی ایران میں ہلاکت کی اطلاع دی تھی۔ ان پر 1998 میں کینیا اور تنزانیہ میں امریکا کے سفارت خانوں پر بم دھماکوں کا ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام تھا۔ انھیں مبیّنہ طورپر ایران میں اسرائیل کے جاسوسوں نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا لیکن ایران نے اس رپورٹ کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ اس کی سرزمین پرالقاعدہ کا کوئی دہشت گرد نہیں ہے۔مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ ایران نے اس دہشت گرد گروپ کے سینئر لیڈروں کواپنے ہاں پناہ دی تھی۔ وہ وہیں بیٹھ کر امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کرتے تھے۔ تہران نے درحقیقت 2015سے القاعدہ کی شخصیات کو ملک میں اس گروپ کے دوسرے ارکان کے ساتھ آزادانہ ابلاغ کی اجازت دے رکھی ہے۔انھوں نے وہاں سے بہت سے ایسے افعال انجام دیے ہیں جو وہ پہلے افغانستان اور پاکستان سے انجام دیا کیا کرتے تھے۔ان میں حملوں، پروپیگنڈے اور رقوم جمع کرنے کی اجازت ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*