علامہ کوثری کی کتابوں کے جدید ایڈیشنزـ محمد انوار خان قاسمی بستوی

ابھی چند سالوں قبل تک علامہ کوثری کی کتابوں کا حصول باحثین کے لیے ایک خواب ہوا کرتا تھا۔ مصر میں جامع ازہر کے قریب مکتبہ ‘ازہریہ’ علامہ کوثری کی اکثر کتابیں شائع کرتاتھا جس کی قیمتیں نہایت گراں ہوتی تھیں اور کاغذ کا معیار بالکل معمولی ہوتا تھا۔ آج بھی کسی نہ کسی درجے میں علامہ کوثری کی کتابیں یہ ادارہ شائع کرکے ڈسٹریبیوٹ کررہا ہے۔

پچھلے چند سالوں سے عالم عربی میں امام کوثری کی کتابوں کو دیدہ زیب ورق پر تحقیق کے ساتھ مختلف مکتبات کے ذریعہ شائع کیا جارہا ہے جس میں سے کئی رسائل اور کتابیں شیخ حمزہ وسیم البکری کی تحقیق اور شیخ ایاد الغوج کی توجہ سے نہایت نفیس کاغذ پر مکتبہ ‘دار الفتح’، اردن سے شائع ہورہی ہیں۔ قاہرہ، مصر میں مکتبہ ‘دارالسلام’ نے ‘مقدمات الامام الکوثری’ اور ‘مقالات الکوثری’ کے بڑے اچھے ایڈیشنز شائع کئے ہیں۔ ابھی ۲۰۱۹ میں ‘تانیب الخطیب’ کا نیا ایڈیشن ‘دارالبشائر’ نے شاموا پیپر اور نہایت دلکش تجلید کے ساتھ شائع کیا ہے جس کا نسخہ ہمارے پاس موجود ہے۔ ترکی میں علامہ کوثری کی کئی کتابیں اچھی طباعت کے ساتھ بعض مخیرین کے ذریعہ مفت میں علماء کے درمیان تقسیم کی جارہی ہیں جس میں ‘النكت الطريفة في التحدث عن ردود ابن أبي شيبة على أبي حنيفة’ خاص طور پر قابل ذکر ہے۔

آج سے چند سال قبل تک عالم عربی کے مکتبات علامہ کوثری کی کتابوں کی اشاعت یا فروخت آسانی سے نہیں کرسکتے تھے۔ شیخ ابوبکر باذیب یمنی نے مجھ سے جدہ میں بتایا کہ سعودی مکتبات میں شیخ کوثری کی کتابوں کی فروخت کی اجازت نہیں ہے اور جو مکتبہ کبھی اس کی جسارت کرتا ہے تو پھر سلفی لابیاں اس کے خلاف اٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔ لیکن اب حالات بدل گئے ہیں، جب سے ان کی تحریک میں کمزوری آئی ہے اور سرکاری فنڈنگ میں کمی آئی ہے، علامہ کوثری اور سلفی حضرات کے نزدیک دیگر ‘مبتدع’ علماء کی کتابیں عالم عربی کے مختلف مکتبات سے شیوع پذیر ہورہی ہیں۔

ملک شام کے بہت سے کتب فروش، مخطوطات کے ماہرین اور مکتبات کے مالکان اس وقت ہجرت کرکے ترکی میں فروکش ہوچکے ہیں جس کے اثرات، یہاں کے تجزیہ کاروں کے مطابق، ترکی پر مثبت اور منفی دونوں ہی شکلوں میں ظاہر ہورہے ہیں۔ اس ہجرت کا ایک فائدہ یہ ہوا ہے کہ شامی علماء اور وہاں کے کتب فروش کچھ ایسی کتابیں جن کی اشاعت کا کام چند سالوں قبل عالم عربی میں آسان نہ تھا اب انھیں یہاں استنبول وغیرہ میں بہت آسانی سے شائع کررہے ہیں۔ چوں کہ ترکی بنیادی طور پر صدیوں سے ایک حنفی مرکز رہا ہے، اس کی وجہ سے ان کتابوں کے کسٹمرز بھی یہاں بڑی کثرت سے موجود ہوتے ہیں۔

استنبول میں دسیوں مکتبات پر جانے کا اتفاق ہوا، اور ہر مکتبہ میں داخل ہوتے ہی علامہ کوثری اور شیخ مصطفی صبری کی کتابیں نمایاں طور پر نظرآئیں۔ کئی سال کا واقعہ ہے سعودیہ میں ‘موقف العقل والعلم والعالم من رب العالمين وعباده المرسلين’ تلاش بسیار کے باجود احقر حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا؛ لیکن یہاں ترکی میں دیکھا کہ ہر مکتبہ پر اس کتاب کے کئی ایڈیشنز موجود ہیں۔

ترکی میں اس وقت کافی علمی چہل پہل ہے، عالم عربی کے کئی کبار علماء یہاں اس وقت پناہ گزیں ہیں اور یہاں طباعت کی انڈسٹری نہایت ترقی یافتہ اور معیاری ہے اور یورپ میں شاید اس سے زیادہ سستی پرنٹنگ کہیں اور ممکن نہ ہو۔ انگلینڈ میں موجود اسلامی کتب فروشوں کی ایک بڑی تعداد ترکی ہی سے اپنی کتابیں پرنٹ کرواتی ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*