اللہ میاں کا کارخانہ ایک بچے کی آنکھ سے ـ شکیل رشید

زندگی کی پیچیدہ کہانی اتنی روانی اور آسانی سے بھی لکھی جا سکتی ہے ! محسن خان کا ناول ’’ اللہ میاں کا کارخانہ ‘‘پڑھتے ہوئے یہ خیال بار بار مجھے حیرت میں ڈالتا رہا ۔ نہ کوئی پیچیدگی ، نہ گنجلک تحریر ، نہ ہی علامات و استعارات سے بوجھل اور معمہ متن ۔ اور نہ ہی کہیں فلسفے کی بگھار ۔ لیکن اس ناول میں فلسفہ تو ہے ، زندگی کا فلسفہ ۔ لیکن ٹھہریے ! یہ گاؤں یہ مدرسہ اور یہ کردار مجھے جانے پہچانے سے لگ رہے ہیں ! یہ جبران ، پتنگیں اڑانے کا شوقین ۔ ننھی نصرت ، ماں کی لاڈلی ، اپنے میں سمٹی سمٹائی ، بھائی جبران کے بھوکے رہنے پر تڑپ جانے والی ۔ اور یہ جبران کے ابا ، جماعت اور تبلیغ کے لیے رات دن ایک کرنے والے ، دہشت گردی کے الزام میں پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہونے کے بعد پھر کبھی نظر نہ آنے والے ۔ اور جبران و نصرت کی اماں ، پاکستان سے بیاہ کر بھارت آنے اور گھر گرہستی کا سارا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھانے والی سیدھی سادی گھریلو خاتون ، شوہر کی اسیری پر تڑپ اٹھنے اور درد زہ میں موت کی نیند سو جانے والی وہ عورت جس کی ہر سانس میں وظیفے اور دعائیں تھیں ۔ اور یہ جبران کے چچا ، ٹیچر ، مطالعہ کے شوقین اور اپنے چھوٹے جماعتی بھائی کی ضد ۔ اور ان کی اہلیہ ، جبران کی چچی ، تیکھی اور کڑوی کسیلی ۔ اور بچوں کو تیتر پکڑوانے کے بہانے اپنے پاس بلانے والے عابد چچا ۔ اور یہ کلو دوکاندار ، ذرا سی بھی چھوٹ نہ دینے کا عادی ۔ اور حافی جی ، من کے اجلے لیکن اپنے ذاتی غم میں جلتے ہوئے ۔ مدرسہ میں ہل ہل کر سیپارہ پڑھتے ہوئے گلی محلے کے بچے ، حافی جی کے خراٹے پر منھ چھپا کر ہنستے ہوئے ۔ میں نے انہیں دیکھا ہے ، بالکل اس ناول کے گاؤں جیسے اپنے گاؤں میں ۔ اور صرف میں نے ہی کیوں ، یہ کردار تو گاوؤں میں رہنے اور وہاں تھوڑی سی بھی زندگی گزارنے والے تمام ہی لوگوں کے لیے جانے پہچانے ہیں ۔ محسن خان نے جیتی جاگتی زندگی سے ، چلتے پھرتے کردار اٹھائے ہیں اور انہیں اپنے ناول میں جگہ جگہ یوں فٹ کردیا ہے کہ وہاں سے نہ انہیں ہٹانا ممکن ہے اور نہ ان کی جگہ کسی اور کردار کو دینا ممکن ہے ۔ کرداروں کی بات چل رہی ہے تو ناول کے ان کرداروں پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے جو انسان نہیں ہیں ۔ چتکبری مرغی ، اور کالی مرغی جسے جبران کی ماں کلو کہتی ہے ۔ اور وہ دیوار پر انگڑائی لیتی ہوئی بلی ، مرغیوں اور چوزوں پر جھپٹنے کو تیار ، بلکہ جھپٹ کر چتکبری مرغی کو دبوچتی اور چٹ کرتی ہوئی ۔ مربھکی بکری ، گھاس نہ ملنے پر شور مچاتی ہوئی ۔ اور قطمیر ، جبران کے چچا کا پیٹ ڈاگ ، چچا کی موت پر بھوکا رہ کر موت کو گلے لگاتا ہوا ۔ نیم کے پیڑ پر پھنسی ہوئی شوخ رنگ پتنگ ، ہوا بارش سے پھیکی پڑتی اور کٹتی پھٹتی ہوئی ۔ حافی جی کی چھڑی ۔ قبرستان میں دو قبروں پر لگے نئے نئے کتبے ۔ سائیکلیں اور جبران کا چشمہ ۔ محسن خان نے ان تمام کرداروں کو اس ناول میں کچھ ایسی زندگی دے دی ہے کہ ناول پڑھنے والوں کے ذہن میں یہ کردار لمبی مدت تک زندہ رہیں گے ۔ ناول کے فن کے ماہرین کہتے ہیں کہ اگر اپنے لوکیل ، گردوپیش یا ماحول میں کردار یوں گھل مل جائیں کہ انہیں ماحول سے الگ کرنا ناممکن ہوجائے تو سمجھ لیں کہ ناول نگار نے لکھنے کا حق ادا کر دیا ہے ۔ محسن خان ناول کے تمام ہی کرداروں اور لوکیل اور سارے ماحول کو ایک کڑی میں پرونے یا بالفاظ دیگر سب کو ایک سانچے میں ڈھالنے میں کامیاب رہے ہیں ۔ اور یہ کامیابی اس لیے حیرت انگیز ہے کہ محسن خان کے ناول کی دنیا ہمیں ایک بچے کی آنکھ سے نظر آتی ہے ۔ اور بچے ہی کی سوچ سے ہمارے سامنے ڈھلتی اور بگڑتی بھی ہے ۔ بڑوں کے لیے بچوں کی زبان میں لکھنا ، اور یوں لکھنا کہ بڑے اسے اپنے ہی لیے لکھا ہوا جان کر پڑھیں ، آسان نہیں ہے ، مگر محسن خان نے یہ مشکل کام آسانی سے کر دکھایا ہے ۔ ننھا جبران کہانی کا راوی ہے ، لیکن وہ ہم سے کلام نہیں کرتا ، وہ اپنی ساری سوچ ، ساری خواہشات اور ساری کڑھن ، ہر خوشی اور ہر غم ، بڑی ہی معصومیت سے ، قلم کی پکی سیاہی سے قرطاس پر رقم کر دیتا ہے ۔ شاید اس لیے کہ اس کے لکھے کو کوئی نظر انداز نہ کر سکے ۔ کہانی سیدھی سادی سی ہے ۔ جبران متوسط طبقے کا ہے ، ابّا گاوں ہی میں کرایے کی دکان چلاتے ہیں ، تبلیغی جماعت کی سرگرمیاں ان کا اوڑھنا بچھونا ہیں ۔ بس چلے تو وہ جبران اور نصرت کو تبلیغی نصاب گھول کر پلا دیں ۔ بچے مدرسے میں زیر تعلیم ہیں ، انہیں اسکول بھیجنے کے لیے یہ ہرگز تیار نہیں ہیں ۔ جبران کی ماں کے یہ کہنے پر کہ ’’دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم بھی ضروری ہے ۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ علم حاصل کرنے کے لیے چین بھی جانا پڑے تو چلے جاو ‘‘ ان کا یہ کہنا کہ ’’حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ ہندی اور انگریزی پڑھنے کے لیے چین چلے جاؤ ۔ انہوں نے علم دین کی بات کی ہے ‘‘ مسلم سماج کے اس المناک سچ اور رویے کو سامنے لاتا ہے کہ دین اور مذہب کے معنیٰ محدود کر دیے گیے ہیں ! اس پر غور کرنے کو لوگ تیار ہی نہیں ہیں کہ جب دوسروں کا علم اور ان کی زبانیں سیکھیں گے نہیں تو انہیں اپنا علم ، چاہے وہ علم دین ہی کیوں نہ ہو ، سکھائیں گے کیسے ! جبران اور نصرت مسلم سماج کے یہ دو ذہین کردار ہیں ، لیکن دیواروں کے بیچ اور دیواروں کے باہر انہیں جس بےحسی کا سامنا ہے ، وہ ان کی ساری ذہانت کو نچوڑ لیتی اور انہیں سماج کے ایک ایسے فاضل پرزے میں ڈھال دیتی ہے ، جس کی ضرورت کوئی نہیں محسوس کرتا ۔ اور اگر ضرورت محسوس بھی کرتا ہے تو اپنے کام کرانے کے لیے ۔ ہم جبران کی آنکھ سے ، جو ایک بچے کی آنکھ ہے ، سماجی اور معاشرتی بےحسی کا بھی نظارہ کرتے ہیں اور سماجی سفاکی کابھی ۔ سماجی بے حسی اور سماج میں طاقت کے توازن کو ایک طفلِ مکتب کی نظر سے دکھانے کے لیے محسن خان نے جانوروں اور پرندوں کی علامات کا بڑی خوبی سے استعمال کیا ہے ۔ مثلاً مرغی اور بلی ، یہاں بلی طاقت اور قوت کی علامت ہے لہٰذا وہ مرغی کو چٹ کر جاتی ہے ۔ ننھے جبران کا ذہن یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ اللہ میاں نے مرغی کے ساتھ بلی کیوں بنائی؟ بکری بے بسی کی علامت ہے ، پیٹ بھرنے کے لیے شور مچانے پر مجبور ۔ جبران اور نصرت کے المیے سے گزرتے ہوئے قاری یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ کیا اس بے حس سماج نے ان بچوں کو مرغی اور بکری میں ڈھال دیا ہے ؟ ان کے المیے : باپ کا جیل جانا ، ماں کا مرجانا ، اپنے گھر سے چچا کے گھر میں منتقل ہوجانا اور مشفق چچا کے ہوتے ہوئے بھی ، چچی کی زندگی اجیرن کردینے والی بے رخی کا سامنا کرنا ، اور چچا کی موت کے بعد جبران کا گھر سے نکالا جانا ، کیا یہ سب ایک ایسے سماج اور معاشرے کی تصویر سامنے نہیں لاتے جو دوسروں کے المیے کو المیہ سمجھنے تک کے لیے تیار نہیں ہے؟ پھر ہم جب اپنے اطراف نظر ڈالتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ایسے المیے تو اس دنیا میں بھرے پڑے ہیں ، اور ہم ناول ہی جیسے ایک بے حس اور سفاک سماج میں سانسیں لے رہے ہیں ۔ سماج جو چچی کے ذریعے جبران کو گھر سے نکال باہر کرنے کے بعد ، حافی جی کے پاس اس کے رہنے کھانے پینے اور سونے سے بے شرمی اور بے غیرتی سے آنکھیں موندے ہوئے ہے ، اور خود اس کی ، گاوں کے ہی بچے کی ، کفالت کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ حافی جی نیک انسان ہیں ، وہ جبران کا خیال رکھتے ہیں ، لیکن کب تک؟ بقرعید بعد جب وہ اپنے گھر واپس لوٹ جائیں گے تب جبران کا کیا ہوگا ؟ جبران کا دل یہ سوچ کر دھک سے رہ جاتا ہے مگر دوسروں کے دل نہیں دھڑکتے ۔ ماں کی موت ، چچا کے انتقال اور دیگر المیوں پر جبران روتا اور دکھ تو محسوس کرتا ہے مگر اسے بھوک بھی خوب لگتی ہے ۔ جبران ننھا ہے اس لیے اس کا ذہن ہوا سے لہراتے لمبے بالوں ، رنگین گلابی چشمے اور پتنگوں میں لگا رہتا ہے ، وہ گانا بھی سننا چاہتا ہے ، اور سلمان خان کی طرح دو جیبوں والی قمیص کے لیے بھی اس کا دل تڑپتا ہے ، لیکن کون ہے جو اس کی یہ خواہشات پوری کرے ! گاوں کے دوسرے بچوں کی طرح وہ خوش نصیب نہیں ہے ۔ ہم جبران کی صورت میں اپنے اطراف میں پھیلے ہوئے ان کرداروں کو دیکھتے ہیں جن کی تمام خواہشات ، مفلسی کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں اور وہ اور ان کے والدین مذہب ، وظیفوں اور دنیا سے اظہار بیزاری میں اپنے لیے راحت تلاش کرتے پھرتے ہیں ، جو بیوی بچوں کو ، بغیر راشن اناج کے ، اللہ کے سہارے چھوڑ کر اس کی راہ میں نکل جاتے ہیں ۔
لیکن وہ جو دنیادار ہیں ان کی بے حسی اور سفاکی کی انتہا نہیں ہے ۔ محسن خان نے حافی جی جیسا کردار خلق کرکے دنیاداروں کو آئینہ دکھانے کا کام کیا ہے کہ اللہ سے تعلق رکھنے والوں کے دل کچھ تو رحم سے بھرے ہوتے ہیں ۔ پورے ناول میں ناول نگار نے کہیں مذہب پر نکتہ چینی نہیں کی ہے اور نہ ہی دنیا پرستوں کو کلین چٹ دی ہے ۔ بہت سیدھے سادے انداز میں وہ’’اللہ میاں کا کارخانہ‘‘کھولتے اور قارئین کے سامنے نظامِ قدرت کو پیش کرتے ہوئے جبران کے اس سوال کا کہ’’اللہ میاں نے مرغی بنائی تھی تو بلی کیوں بنائی؟ ‘‘جواب نصرت کی زبانی یوں دیتے ہوئے کہ ’’معلوم نہیں، کچھ سوچ کر ہی بنائی ہو گی ‘‘یہ بات سامنے رکھتے ہیں کہ یہ المیے، رنج، خوشی اور مفلسی، سب اللہ کی ہی دین ہیں ، اور ایسا کیوں ہے ، اس کی کوئی توجیہ نہیں پیش کی جاسکتی ، لیکن اگر سماجی بےحسی اور سفاکی ختم یا کم ہوجائے تو دنیا لوگوں کے لیے زندگی گزارنے کی ایک خوبصورت جگہ بن سکتی ہے ۔
جبران کے کانوں میں مکھیوں کا بھنبھنانا ، قبرستان میں اس کا اپنی فوت والدہ اور چچا اور اللہ میاں سے باتیں کرنا اور حافی جی کے اپنے چلے جانے کی بات پر اس کا دل دھک سے ہو جانا ، یہ سب اس کے اپنے پاگل پن یا بے حسی کی طرف بڑھنے کی علامات ہیں ۔ اور کوئی ایسا بچہ جس نے سب کچھ کھو دیا ہو اور جس کا واحد سہارا بھی گاوں چھوڑ کر جارہا ہو ، کیا وہ باہوش رہ سکتا ہے؟ مجھے جبران ایک علامت نظر آتا ہے ، ہندوستانی مسلمانوں کی ، جنہیں سب نے چھوڑ دیا ہے ، اور بچی کھچی مذہبی قیادت بھی اسے چھوڑتی نظر آ رہی ہے ، وہ ایک ایسے چوراہے پر آ کھڑا ہوا ہے جس کا ہر راستہ بربادی کی طرف جاتا ہے ، اور اسے لگتا ہے کہ وہ ہوش کھو رہا ہے ۔ محسن خان نے ایک بچے یا ایک گھر کے المیے کو اجتماعی المیے میں ڈھال دیا ہے ، اور انسانی بےحسی اور سفاکی کو اس کی پوری برہنگی کے ساتھ عیاں کر دیا ہے ، اور وہ بھی ایک بچے کی زبان سے ، اس کی نفسیات ، احساسات اور اس کی خواہشات کے مکمل ادراک کے ساتھ ۔ ناول نگار کی زبان نتھری ہوئی ہے ، بچوں اور بڑوں کی بات کا فرق واضح ہے ، ناول کے چھوٹے ابواب پڑھنے کی رفتار بڑھانے میں معاون ہیں اور ہر باب کے آغاز میں عنوان کے طور پر اقوال زریں جیسے جملے ناول کی تفہیم میں مددگار ثابت ہوتے ہیں ۔امید ہے کہ ان کے قلم سے مزید ایسے بلکہ اس سے بہتر ناول نکلیں گے ۔ عرشیہ پبلیکیشنز نے بہترین کاغذ پر بڑے ہی خوبصورت انداز میں یہ کتاب شائع کی ہے ۔ سرورق ناول کے تھیم کے عین مطابق ہے ۔ ممبئی میں یہ ناول کتاب دار (9869321477) سے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔